نواز شریف بہت پراعتماد ہیں

نصرت جاوید  جمعرات 28 مارچ 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

نواز شریف صاحب نے جب آخری لمحات میں مداخلت کر کے اپنی جماعت والوں کو نجم سیٹھی کے قائم مقام وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر آمادہ کیا تو میں ہرگز حیران نہ ہوا۔ وہ ذاتی طور پر چوہدری نثار علی خان کی جانب سے قائم مقام وزیر اعظم کو ڈھونڈنے کے عمل میں دکھائی جانے والی ضد سے پہلے ہی کچھ زیادہ خوش نہ تھے۔ ان کی جانب سے صرف ایک جھوٹی خبر کی اشاعت پر جسٹس شاکر اللہ کا نام واپس لے کر مولانا فضل الرحمٰن کو خواہ مخواہ حیران و پریشان کر دینا بھی ہر گز مناسب رویہ نہ تھا۔ ویسے بھی شاکر اللہ صاحب پر جس شخصیت کے قریب ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا وہ تو میرے بھائی نجم کے بہت بڑے مداح ہی نہیں تہہ دل سے خیر خواہ بھی ہیں۔

میرے بہت سارے صحافی دوستوں کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی ہے کہ کم از کم پنجاب کے حوالے سے آیندہ انتخابات کے معاملے میں نواز شریف بہت زیادہ پُر اعتماد ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ اس سال جنوری کے پہلے ہفتے تک ان کے سیکریٹریٹ نے یہ طے کر لیا تھا کہ پنجاب کے کس کس حلقے میں کون سے امیدوار کو مسلم لیگ نون کا ٹکٹ دینا چاہیے۔ متوقع امیدواروں کی سکت کا اندازہ محض ان کی ذات کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیا گیا تھا۔ بڑے تفصیلی چارٹوں کی مدد سے مختلف حلقوں میں دھڑے اور برادری کے علاوہ اس حد تک سوچ بچار ہوئی کہ مسلم لیگ نواز کے ان حلقوں میں کھڑے امیدواروں کے نمایاں پولنگ ایجنٹس کون ہوں گے۔ کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ پولنگ والے دن مخالفین کے دبائو کا سامنا کر سکیں؟

ایسی باریک بینی سے تیاریوں کے باوجود پنجاب میں قومی اسمبلی کے 30 کے قریب ایسے حلقے رہ گئے جہاں مزید کام کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ پھر لاہور میں سانحہ بادامی باغ ہو گیا۔ اس کے بعد میڈیا کے ایک بہت بڑے حصے اور خاص طور پر ان لوگوں نے، جو خود کو نام نہاد لبرل ازم کا محافظ اور پرچارک بنائے بیٹھے ہیں، یہ بات پھیلانا شروع کر دی کہ اپنے کچھ عرب بہی خواہوں کی وجہ سے شریف برادران چند فرقہ پرست انتہاء پسندوں کی سرپرستی نہ سہی درپردہ پشت پناہی ضرور فرماتے ہیں۔ چونکہ نواز شریف کو اب پاکستان کا وزیراعظم بننا ہے، اس لیے وہ اپنی ذات اور جماعت کے بارے میں پھیلائے اس تاثر کی ایک خاص بین الاقوامی تناظر میں نفی کرنا چاہتے تھے۔

اسی لیے جھنگ کے شیخ وقاص قومی اسمبلی میں رائے ونڈ جانے والوں پر ’’لعنت بھیجنے‘‘کے چند ہی روز بعد خود وہاں پہنچے تو شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔ ان کو اپنی جماعت میں خوش آمدید کہتے ہوئے شیخ وقاص کی ’’دیانت‘‘ کا اثبات بھی کیا۔ جھنگ میں ایک کالعدم تنظیم کے ازلی ویری سمجھے جانے والے شیخ وقاص کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کے بعد شریف برادران نے کبیر والا سے سید فخر امام کو بھی اپنا بنا لیا۔ اس طرح شاہ جیونہ کے مخدوم فیصل صالح حیات کو No But Thanks بھی کہہ دیا اور عابدہ حسین اور ان کے بچوں کو بھی ایک مخمصے میں ڈال دیا۔ نجم سیٹھی ایک حوالے سے، ضربیں تقسیمیں دے کر، عابدہ بی بی کے بہنوئی بھی ہوتے ہیں۔

نواز شریف کی دوسری حکومت کے آخری دنوں میں ان کے ’’احتساب الرحمٰن‘‘ نے نجم کو بھارت کے ایک سیمینار میں کچھ ریمارکس دینے کی بناء پر انٹیلی جنس بیورو اور ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار کرا دیا تھا۔ آئی ایس آئی کے ان دنوں ایک بڑے تگڑے جرنیل مرحوم غلام محمد اس سارے عمل کے بارے میں زیادہ خوش نہ ہوئے۔ شریف الدین پیرزادہ نجم کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ چلے گئے۔ پھر جو ہوا ہم سب جانتے ہیں۔ نجم سیٹھی کو اب پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنوا کر نواز شریف نے نہ صرف اپنے پُر اعتماد ہونے کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ پیغام بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے دل میں کسی کے خلاف کینہ نہیں رکھتے۔

اور وہ جنھیں ’’لبرل‘‘ وغیرہ کہا جاتا ہے ان سے بھی ان کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ وہ تو ایک کھلے ڈلے ذہن کے مالک ہیں۔ بجائے نظریاتی بحثوں میں وقت ضایع کرنے کے پاکستان کی معاشی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی نواز شریف کو نجم سیٹھی کی عبوری انتظام میں کسی بھی انداز کی شرکت کو نیک شگون کے طور پر لینا چاہیے۔

1996ء کے آخر میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت فارغ کرنے کے بعد مرحوم سردار فاروق خان لغاری نے مرکز میں جو عبوری حکومت بنائی تھی نجم سیٹھی اس میں احتساب کے وزیر بنائے گئے تھے۔ شفقت محمود اس کابینہ میں ان کے ساتھی وزیر تھے اور کچھ عرصے کے لیے موجودہ چیف الیکشن کمشنر جناب فخر الدین جی ابراہیم بھی۔ اس کابینہ کی نگرانی میں جو انتخابات منعقد ہوئے ان کی بدولت نواز شریف کو دو تہائی اکثریت والا ہیوی اور تاریخی مینڈیٹ ملا۔ ہو سکتا ہے اس بار پھر تاریخ اپنے آپ کو دہرائے۔

معمولی یا غیر معمولی اکثریت کے ساتھ نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بن گئے تو انھیں خارجہ اور قومی سلامتی کے امور چلانے کے لیے اچھے ٹیکنو کریٹس کی ضرورت ہوگی۔ آج کل اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ کے ایک سابقہ افسر جناب طارق فاطمی ان کے واحد ٹیکنو کریٹ معاون ہیں۔ نجم صاحب کی صلاحیتوں سے انتخابات کے بعد بھی فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ پنجاب سے سینیٹ کے رکن بنوا کر کابینہ میں لیے جا سکتے ہیں۔یہ ممکن نہ ہو تو امریکا میں ایک سفیر کی ضرورت تو پھر بھی رہے گی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور بعد ازاں جنرل مشرف نے اس سلسلے میں ایک صحافی ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے تعلقات اور صلاحیتوں کو استعمال کیا تھا۔

صدر زرداری نے پہلے حسین حقانی کو لگایا اور پھر شیری رحمٰن کو۔ اب کی بار نجم سیٹھی کو زحمت دینا اتنا عجیب نہیں لگے گا۔ میرے بھائی نجم کے ذاتی مستقبل سے بالاتر ان کا بطور قائم مقام وزیر اعلیٰ انتخاب نواز شریف کے دربار میں آہستہ آہستہ اُبھر کر تیز ہوتی اس کش مکش کا پتہ بھی دیتا ہے جو آیندہ انتخابات کے بعد پنجاب کے منتخب وزیر اعلیٰ کے حوالے سے جاری ہو چکی ہے۔ شہباز صاحب مرکز میں آ کر بجلی کا بحران حل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بغیر مقابلہ دو افراد میںہے۔ ان کے نام مجھے پتہ ہیں۔ ابھی بیان کرنا مناسب نہیں۔ بس اتنا بتا دینا کافی ہے کہ ان دونوں کے درمیان برسوں کی دوستی کے بعد اب آپس میں بات چیت بند ہو چکی ہے اور ان میں سے ایک صاحب نے نجم سیٹھی کے انتخاب میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔