لودھراں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو شکست دیدی

ویب ڈیسک  پير 12 فروری 2018
لیگی امیدوار نے ایک لاکھ 16 ہزار 590 اور پی ٹی آئی امیدوار نے91 ہزار 230 ووٹ حاصل کیے۔ فوٹو: فائل

لیگی امیدوار نے ایک لاکھ 16 ہزار 590 اور پی ٹی آئی امیدوار نے91 ہزار 230 ووٹ حاصل کیے۔ فوٹو: فائل

لودھراں: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو شکست دے دی۔ 

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہونے والی نشست حلقہ این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب میں تمام 338  پولنگ اسٹیشن کے نتائج آگئے ہیں جس میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو شکست دے دی۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اقبال شاہ نے ایک لاکھ 13ہزار 452 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی خان ترین 85 ہزار 933 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ، یوں اقبال شاہ نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو 27 ہزار 519 ووٹوں سے شکست دی۔ تحریک لبیک کے امیدوار نے 10 ہزار 275 ووٹ حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی جب کہ پیپلزپارٹی کے نمائندے نے صرف 3 ہزار 189 ووٹ حاصل کیے۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مکمل نتائج شیئر کیے اور ساتھ ہی ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کو شکست دینے پر خوشی کا بھی اظہار کیا۔

مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ نوازشریف کے خلاف سازشوں کو اللہ نے نوازشریف کی طاقت بنا دیا، اب بھی سمجھ جاؤ، فیصلے اللہ کے چلتے ہیں اور اسی نظام پر دنیا قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے واضح کردیا کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا جائے گا اور نوازشریف کی قیادت میں ووٹ کی حرمت کا کارواں منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو کامیاب کروانے پر لودھراں کےعوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر اعتماد کرنے کا شکریہ، یہ آپ کی کامیابی ہے اور ہم آپ کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے لیگی امیدوار اقبال شاہ کو بھی مبارک باد دی۔

دوسری جانب چیرمین پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا  کہ این اے 154 کے نتائج سے افسردہ ہونے والے کارکنان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کو پہنچنے والا ہر دھچکا نقائص کے تجزیے اور ان کی درستگی کا موقع فراہم کرتا ہے، اور آپ کو پہنچنے والا صدمہ ایک نئے عزم، ولولے اور مزید قوت سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب قومیں، لوگ اور ادارے اپنی غلطیوں کو کامرانی کا زینہ بناتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دہائیوں پر محیط اپنی جدوجہد کے دوران میں نے کبھی دل شکستگی کو پاس نہیں پھٹکنے دیا، ہر صدمے اور شکست کے بعد میں نے مزید قوت کیساتھ میدان میں قدم جمائے اور 2018 کا انتخاب انشاءاللہ ہمارا ہے۔

اس سے قبل ضمنی انتخاب کے لیے صبح 8 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہی۔ حلقے میں تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی سمیت 10 امیدوار مدمقابل تھے،علی ترین تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کے بیٹے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ این اے 154 میں 338 پولنگ اسٹیشنز میں فوج کے جوان تعینات کیے گئے جنہیں مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیے گئے ۔ ڈپٹی کمشنر لودھراں نے بتایا کہ حلقہ کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر 4500 فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق لودھراں کے حلقہ این اے 154 میں کل ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 31 ہزار 2 ہے جن میں مرد ووٹرز 2 لاکھ 36 ہزار 496 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 94 ہزار 506 ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔