عاصمہ جہانگیر: معاشرے کی ماں چل بسیں

عماد ظفر  پير 12 فروری 2018
عاصمہ جہانگیر اس قبیلے کی فرد تھیں جس کے بارے میں شاعرنے کہاتھا: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ (فوٹو: فائل)

عاصمہ جہانگیر اس قبیلے کی فرد تھیں جس کے بارے میں شاعرنے کہاتھا: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ (فوٹو: فائل)

کچھ انسانوں کا دنیا سے چلے جانا انسانیت کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔ ایک ایسا نقصان جس کے کرب اور دکھ کے اظہار کےلیے الفاظ گونگے اور بانجھ دکھائی دیتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر بھی ان شخصیات میں سے ایک تھیں۔ انسانی حقوق کی مؤثر ترین آواز اور علمبردار، قانون اور دستور کی محافظ، آمریت کو چیلنج کرنے والی نڈر خاتون۔

عقائد اور وطن پرستی کے چورن فروشوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی اس نڈر اور بے باک خاتون کے جانے سے وطن عزیز میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا ناممکن ہے۔ عاصمہ جہانگیر کو ہم نے ہوش سنبھالنے سے لے کر آج تک ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور شدت پسندی کے خلاف برسر پیکار دیکھا۔ مظلوموں کے حق میں کیسے صدا بلند کی جاتی ہے، کیسے آمروں کے خلاف ڈٹا جاتا ہے، کس طرح مذہب کے نام پر وطن میں نفرتیں پھیلانے والوں کے خلاف حق کی آواز بنتے ہوئے ڈٹ جایا کرتے ہیں، کس طرح ان اداروں کے بیانیے اور پالیسیوں کو چیلنج کیا جاتا ہے جن پر سوال اٹھانے کا مطلب بھی زندانوں میں لاوارث موت مرنا ہوتا ہے، یہ تمام اسباق عاصمہ جہانگیر نے اس وطن عزیز میں بسنے والوں کو سکھائے۔

بد ترین آمر ضیاالحق کے دور میں جب بڑے بڑے انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن، صحافی، سیاستدان، اور قانون دان گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے، اس وقت یہ عورت تن تنہا سڑکوں پر مزاحمت کا استعارہ بنے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی رہی۔

جب مذہب کے ٹھیکیداروں نے توہین کی آڑ میں اقلیتوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا شروع کیا تو یہ عورت جان کی پرواہ کیے بغیر ان قوتوں کے آگے ڈٹ گئی۔ مشرف کے بام عروج میں اس عورت نے اس کی آمریت کو للکارا اور جب امریکہ کی منشا پر پاکستانی شہریوں کو لاپتا کرکے بغیر کسی مقدمے کے امریکہ کے حوالے کیا جا رہا تھا تو یہ عورت ان افراد سے نظریاتی اختلافات کے باوجود ان کے آئینی حقوق کےلیے آمر کے خلاف ڈٹ گئی۔ مشرف دور میں جب ججز کو نظر بند کیا گیا تو اس عورت کا وکلا تحریک چلانے میں کلیدی کردار رہا۔

اسٹریٹیجک اثاثوں کے نام پر شدت پسندوں کو پالنے، سیاست میں مداخلت، کاروباری ادارے چلانے، اور ہمسایوں سے نفرت پر مبنی بیانیے کے حوالوں سے اس نڈر خاتون نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی۔ جن قوتوں کے خلاف بڑے بڑے نام زبان کھولتے بھی کتراتے تھے، یہ عورت بغیر کسی خوف کے ان کے آگے سینہ سپر ہوجاتی تھی۔ عورتوں کی گواہی کو آدھا تسلیم کرنے کے خلاف جنگ ہو یا بدترین آمر کے متعارف کروائے گئے حدود آرڈیننس کے خلاف مزاحمت، اقلیتوں کے بے رحمانہ استحصال کی بات ہو یا جمہوریت کی بالادستی کی جنگ، عاصمہ جہانگیر ہمیشہ علم بغاوت بلند کرتے ہوئے مخالف قوتوں کے خلاف برسر پیکار رہیں۔

ہم نے سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے جو اپنے باشندوں سے ایک ماں کی طرح شفقت اور محبت کے ساتھ بلا امتیاز پیار کرتی ہے۔ ہم نے ریاست کو تو کبھی ماں کے روپ میں نہیں دیکھا لیکن عاصمہ جہانگیر کو یہ ریاستی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہمیشہ ریاست میں بسنے والوں کےلیے ایک شفیق اور مہربان ماں کے روپ میں دیکھا۔ ایک ایسی ماں جو غداری، کفر، توہین اور بیرونی ایجنٹ کے طعنے سنتی رہی لیکن اپنے بچوں اور اپنی مٹی سے وفا کا رشتہ ماتھے پر شکن لائے بغیر نبھاتی رہی۔

جو جنگ بڑے بڑے سیاسی رہنما، سیاسی جماعتیں اور قانون دان نہ لڑ سکے، اس عورت نے وہ جنگ تن تنہا لڑی اور نہ جانے کتنے ہی ان گنت گونگوں کو اذن سخن، جرأت اور حق کےلیے لڑنے کا درس سکھا گئی۔ نہ جانے یہ عورت کس مٹی سے بنی ہوئی تھی کہ بڑے سے بڑا آمر اور جابر بھی اسے جھکا نہ پایا۔ کسی قسم کا خوف یا لالچ اس کے راستے کی رکاوٹ نہ بن پایا۔ شاید قدرت عاصمہ جہانگیر جیسے انسانوں کےلیے کسی خاص ڈی این اے اور مٹی کا استعمال کرتی ہے جو عمومی طور پر انسانوں میں ناپید ہوتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر اس قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں جو سقراط، منصور اور حسین کا قبیلہ ہے۔ جہاں سود و زیاں کے محدود حساب کتاب میں زندگی ضائع کرنے کے بجائے حق اور سچ کے ساتھ زندگی کو داؤ پر لگاتے ہوئے انسانیت کے کام آنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اپنے صحافتی و نشریاتی کیریئر کے دوران بڑے بڑے ناموں سے ملاقات کا اتفاق ہوا لیکن ان کے قریب کر معلوم ہوا کہ درحقیقت وہ بونے تھے جو قحط الرجال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے آدمیوں کے مسند پر فائز ہوگئے تھے۔ عاصمہ جہانگیر ان گنے چنے افراد میں سے تھیں جو اصل معنوں میں ایک بڑے انسان اور عظمت کے مرتبے پر فائز تھیں۔ ایک ڈاکیومنٹری کے سلسلے میں عاصمہ جہانگیر سے ہونے والی ملاقات اور وکلا تحریک کے دوران ان سے مصافحہ شاید میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور میں اپنے بچوں کو سر اٹھا کر یہ بات بتا سکتا ہوں کہ اپنی زندگی میں کم سے کم میں نے ایک بڑے اور عظیم انسان کی چند لمحات کی قربت کا شرف اور اعزاز حاصل کیا ہے۔

ان کے جانے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس وطن کا ہر مظلوم آج یتیم ہو گیا ہے۔ ہمارے وطن میں عاصمہ جہانگیر ایک عہد کا نام ہے۔ ایک ایسا عہد جو تاابد وطن عزیز میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور جس کے حوالوں کی روشنی میں ان گنت نسلیں وطن عزیز میں ظلم و جبر اور گھٹن کی فضا کے جمود کو توڑتے ہوئے سوال اٹھائیں گی اور اپنے حقوق کی پاسداری اور حصول کی جنگ جاری رکھیں گی۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ عاصمہ جہانگیر ایک نظریئے کا نام ہے اور نظریئے کبھی مرتے نہیں، پھر بھی اس عورت کے ہم میں موجود نہ رہنے کا دکھ بہت بھاری اور ناقابل برداشت ہے۔ عاصمہ جہانگیر موجود تھیں تو دل کو تسلی رہتی تھی کہ کوئی بھی اگر عقائد، نظریات یا روایات کی آڑ میں مظلوموں اور خواتین کو دبائے گا یا زیادتی کرے گا تو عاصمہ جہانگیر اس کے خلاف برسر پیکار ہوتے ہوئے کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گی۔ کوئی فرد لاپتہ ہو جاتا تو دل کو امید رہتی کہ عاصمہ جہانگیر موجود ہیں، شور مچا کر یا قانونی جنگ کے ذریعے اسے بازیاب کروانے میں مدد کردیں گی۔ کوئی آمر یا پس پشت قوتیں جمہوریت پر طالع آزمائی کی کوششیں کرتیں تو امید رہتی کہ عاصمہ جہانگیر موجود ہیں، پھر سے تحریک چلا کر پس پشت قوتوں کو جمہوریت پر شب خون نہیں مارنے دیں گی۔

ان گنت نفرتوں کے تاجر جب وطن عزیز میں نفرتوں اور شدت پسندی کا زہر پھیلاتے تو دل کو اطمینان رہتا کہ عاصمہ جہانگیر ہیں ناں، وہ ان نفرت کے سوداگروں کے پھیلائے ہوئے اندھیروں کو ہم پر مسلط نہیں ہونے دیں گی۔ اقلیتوں کی حق تلفی ہوتی تو دل کو آسرا ہوتا کہ عاصمہ جہانگیر موجود ہیں، وہ اقلیتوں کےلیے آواز اٹھائیں گی اور ان کے حقوق سلب نہیں ہونے دیں گی۔

آج دل ان تمام امیدوں سے خالی ہوگیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب کی ماں ہم سے بچھڑ گئی ہے۔ اب تاریکی اور جہالت کے اندھیروں سے لڑنے کےلیے نہ تو وہ مہربان ماں موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی نعم البدل ہمارے پاس ہے۔ ویسے بھی بھلا ماں کا نعم البدل کہاں ملتا ہے؟ نفرتوں کے سوداگر جو عاصمہ جہانگیر کی وفات پر ٹھٹھے مارتے ہوئے اسے ایک قادیانی نواز، کافر یاغدار کی موت قرار دے رہے ہیں، ان کی کم ظرفی چھوٹے پن اور جہالت کا ایک ہی جواب ہے:

عاصمہ جہانگیر کے بتائے اور دکھائے گئے راستے پر چلتے ہوئے اس منزل کی جانب سفر جاری رکھا جائے جو عاصمہ جہانگیر کا خواب تھا اور جس کا مقصد ایک ایسے معاشرے اور ریاست کی تشکیل تھا جہاں بغیر کسی رنگ، نسل، مذہب یا صنف کے امتیاز کے سب کو یکساں حقوق اور شخصی آزادی ہو۔ جہاں ووٹ کی قوت بندوق کی قوت پر بھاری ہو۔ جہاں قانون اور آئین کی پاسداری کی جاتی ہو اور جہاں جنگوں کو گلوریفائی کرنے اور گھٹن کی فضا کے بجائے امن، محبت، پیار اور زندگی کے قہقہے گونجتے ہوں۔

ایک گونگے معاشرے کو گویائی بخشنے والی عورت اور بہادری، جرأت، انصاف اور حقوق کی جنگ لڑنے کا سبق سکھانے والی عورت کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس سے عقیدت کا اظہار کرنے کےلیے اس عورت کے دکھائے گئے راستے پر چل کر کم سے کم ہم ان کا مان تو ضرور رکھ سکتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر اس قبیلے کی فرد تھیں جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

عماد ظفر

عماد ظفر

بلاگر گزشتہ کئی سال سے ابلاغ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ریڈیو، اخبارات، ٹیلیویژن اور این جی اوز کے ساتھ وابستگی بھی رہی ہے۔ میڈیا اور سیاست کے پالیسی ساز تھنک ٹینکس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ باقاعدگی سےاردو اور انگریزی بلاگز اور کالمز لکھتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔