مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

خطیب احمد  جمعرات 15 فروری 2018
جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو متوازن رکھنا ایک فن ہے، اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جائے تو سننے والے کو لطف آتا ہے اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو متوازن رکھنا ایک فن ہے، اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جائے تو سننے والے کو لطف آتا ہے اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ، لال مرچ، کالی مرچ۔ یہ پودوں کی جنس ’’کیپسیکم‘‘ (المعروف شملہ مرچ) سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کے اوّلین استعمال کا سراغ امریکا سے ملتا ہے جہاں یہ لگ بھگ 7500 قبل مسیح سے انسانی غذا کا حصہ رہی ہے۔ کرسٹوفر کولمبس وہ پہلا یورپی تھا جس نے مرچوں کا سامنا کیا۔

دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ چھوٹی مرچیں اور جنگلی مرچیں روزمرہ کے کھانوں میں عموماً استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا؛ لیکن اگر باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔

کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس سے وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ انہیں لڑوا کر تماشا دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کیجیے تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو اور وہ دور جانے کے بجائے قریب ہوجائیں۔

جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو متوازن رکھنا ایک فن ہے، اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جائے تو سننے والے کو لطف آتا ہے اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔ یہ نصیحت خصوصاً خواتین کےلیے ہے جو اکثر اپنی باتوں سے مرچیں لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔

بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو، شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کر شوہر کے سامنے جائے، شوہر موبائل میں مصروف ہو اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکائے لیکن شوہر اس میں کوئی خامی نکال دے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔

لہذا تمام شوہروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے، سردی یا گرمی، دونوں میں بہ آسانی لگائی جاسکتی ہیں۔ غنیمت جانیے کہ آپ کی شادی ہوچکی ہے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ پڑجائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔