سینیٹ انتخابات یا کاروبار

علی احمد ڈھلوں  بدھ 14 فروری 2018
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

سینیٹ الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو ارب اور کھرب پتی میدان میں آگئے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق تجوریوں کے منہ کھل گئے ہیں ،ہر صوبے میں سودے ہورہے ہیں، سینیٹرشپ کے لیے کتنے پیسے خرچ کرنے ہوں گے اور کس صوبے میں بھاؤ کتنا ہے؟ مختلف اندازے سامنے آرہے ہیں۔ سینیٹ کے الیکشن جب بھی ہوتے ہیںہر صوبے میں بھاؤ تاؤ اور بولی لگنے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، اس بار بھی صورتحال ایسی ہی نظر آرہی ہے۔

بلوچستان کو ہی دیکھ لیںجس کی 11سینیٹ کی نشستیں ہیں جن میں سے 7 جنرل نشستیں ہیں جب کہ جو امیدوار سامنے آئے ہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کا تعلق اس صوبے کے بجائے دوسرے صوبے سے ہے لیکن وہ پیسہ یہاں خرچ کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں،ن لیگ نے تین امیدوار کھڑے کیے ہیں لیکن ن لیگ سے منحرف ارکان یقینی طو ر پر آزاداراکین کو سپورٹ کریں گے۔ پیپلز پارٹی نے کوئی امیدوار یہاں سے کھڑا نہیں کیا ہے لیکن ظاہر یہ ہورہاہے کہ جو آزاد امیدوار ہیں وہ  اگر جیت گئے تو پیپلز پارٹی میں چلے جائیں گے۔

اطلاعات ہیں کہ آصف علی زرداری کو بلوچستان سے بھی نشستیں حاصل کرنے کا شوق ہوا ہے، جہاں پر صوبائی اسمبلی میں ان کی ایک بھی نشست موجود نہیں۔اس سارے معاملے میں مجھ پر ایک حقیقت ضرور عیاں ہوئی کہ یہاں بینک سٹیٹمنٹ دیکھ کر ٹکٹیں دی جارہی ہیں۔ میں نے بھی تمام سیاسی جماعتوں سے سینیٹ کی ٹکٹ کے لیے رابطہ کیا مگر میری بینک سٹیٹمنٹ دیکھ کر کہا گیا کہ تم تو ایم پی اے کا الیکشن تک لڑنے کے قابل نہیں ہو!سوال یہ ہے کہ ان مہنگے الیکشنزمیں عوام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ عام انتخابات سے عوام کو کیا حاصل ہوتا ہے؟

پاکستان میں 1947سے لے کر 1956تک جو 1935 کا برطانوی آئین بطور عبوری آئین نافذ رہا، اس میں سینیٹ کا وجود ہی نہیں تھا۔ بعد ازاں ون یونٹ کے قیام کے بعد 1956 میں جو وفاقی آئین آیا، اس میں بھی سینیٹ نہیں تھا، یعنی وفاق کا مطلب آبادی کی بنیاد پر منتخب ایک ایوان تھا۔ 1962 میں ایوب خان کے لائے گئے آئین کی بھی وہی صورتحال تھی، جس میں ملک کے اندر پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام نافذ کیا گیا لیکن سینیٹ کا ایوان غائب تھا۔ 1973کے آئین میں ملک میں پہلی مرتبہ سینیٹ کا ایوان تشکیل ہوا لیکن آج تک وہ وفاقی پارلیمنٹ کا برائے نام بالائی ایوان ہے۔ درحقیقت آج بھی ملک میں قومی اسمبلی کو ہی حتمی اختیارات حاصل ہیں۔

سینیٹ سے نہ تو حکومت کی تشکیل ہوتی ہے، نہ وزیراعظم کا انتخاب ہوتا ہے، نہ وہاں پر بجٹ پیش ہوتا ہے اور نہ ہی اس ایوان کو مالیاتی امور میں حتمی فیصلے کا اختیار حاصل ہے، تو پھر ایسا بے اختیار ایوان، ایوانِ بالا کیوں کر ہوا؟میرے خیال میں اراکینِ سینیٹ یا پارلیمنٹ کی اکثریت کو وفاقی نظام یا سینیٹ کے ایوان کی اہمیت کا ذرہ برابر بھی اندازہ نہیں۔ مارچ میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھی ساری بھاگ دوڑ یہ ہی ہے کہ کون سی جماعت کتنی نشستیں حاصل کر پائے گی۔یہ بات اس سے بالکل الگ ہے کہ جو امیدوار کروڑوں روپے لگا کر سینیٹرشپ حاصل کرتا ہے پھر وہ عوام کے لیے کیا کرتا ہے؟ پاکستان میں سینیٹ الیکشن اور’’ ضمیر‘‘ کا تعلق اس قدر ہے کہ پارٹی ایسے لوگوں کو سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دیتی جو پیسہ خرچ کرنے کی استعداد نہ رکھتے ہو ں بلکہ ہر پارٹی چن چن کر ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہے جو پیسہ خرچ کرنے کی کمال صلاحیت رکھتے ہوں ۔

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ایوانِ بالا کی 45سالہ تاریخ میں 178 سینیٹر ز ایسے گزرے ہیں جنہوں نے سینیٹ کی کارروائی میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ ایسے نابغہ روزگار اراکین میں کئی حضرات 3بار ایوان کے رکن بنے اور ایوان میں چپ رہنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ آخر ایوانِ بالا میں ایسے لوگ کیوں آتے ہیں۔اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہمارا انتخابی نظام دولت مند لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے سیاست کو جان بوجھ کر مہنگا کر دیا گیا ہے۔ایک جلسے پر 5کروڑروپے کا خرچہ آتا ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست جیتنے پر کم از کم 7کروڑ روپے اور سینیٹ کی نشست پر کم از کم 20کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے۔یہ مزدور ، کسان ،ڈاکٹر ،استاد ،عالم دین اور عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔چین اور روس کے پارلیمنٹ میں غریب طبقے کی اکثریت ہے۔ برطانیہ،امریکا ،ایران اور پڑوسی ملک بھارت میں بھی غریب آدمی پارلیمنٹ کا حصہ بن سکتا ہے۔ایوانِ بالا کا ممبر بن سکتا ہے، وطنِ عزیز میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ چنانچہ سینیٹ کے انتخابات کی باز گشت آتے ہی اراکینِ اسمبلی کو شو کیسوں میں سجا دیا گیا ہے اور برائے فروخت کی تختی اُن پر چسپاں کی گئی ہے۔ کسی شاعر کا مصرعہ ہے

’’ لگا ہے مصر کا بازار دیکھو‘‘

اس وقت میرے پاس بہت سے ناموں کی لسٹ موجود ہے جو سینیٹ الیکشن کو پہیے لگانے کی باتیں کر رہے ہیں، لیکن کیا یہ وطن عزیز کے مستقبل کے لیے ٹھیک ہے؟ اگر ایسے لوگ ایوان بالا میں بیٹھے ہوں گے تو یقینا ناموس رسالتؐ کے حوالے سے بل بغیر دیکھے گزر جائیں گے۔  موجودہ بے اختیار سینیٹ نہ تو حقیقی وفاقی پارلیمانی نظام کی نمایندہ ہے اور نہ ہی اس میں صوبوں کے آئینی، سیاسی، ثقافتی، معاشی اور تمام حقوق کے تحفظ کا سوال موجود ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ سینیٹ کی بااختیار حیثیت کا سوال ملک کی نام نہاد بڑی اور وفاقی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈ ا پر ہی نہیں، حتیٰ کہ 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم میں بھی اس اہم اور بنیادی سوال کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

3 مارچ 2018 کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کا بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ یہ ایوان بحث مباحثے کے ایک سیاسی کلب کے طورپر جاری رہے گا یا اس ایوان کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے،کیا کریں یہی ان جماعتوں کا سیزن بھی ہے، بعض سیاسی جماعتوں کی قیادت کے لیے اس بار سینیٹ کے امیدواروں کا چناؤ دلچسپ ہونے کے باوجود اعصاب شکن ثابت ہورہا ہے،ایم کیو ایم کامران ٹیسوری جیسے مالدار شخص پر اٹکی ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی والے بھی دو کاروباری شخصیات کو ٹکٹس دے کر اپنے مزید کئی رہنماؤں کو ناراض کیے بیٹھے ہیں۔ ن لیگ میں بھی یہی منظر ہے اور تحریک انصاف بھی اسی راہ پر چل رہی ہے ۔بہرکیف یہ بات افسوس سے کہنا پڑ رہی ہے کہ ماضی کی طرح  حالیہ سینیٹ الیکشن میں بھی دولت کی چمک اپنا کام دکھائے گی ۔ایک دوست بتاتے ہیں کہ انھیں  ایک قبائلی اراکین اسمبلی نے بہت تنگ کیا تو انھوں نے یہ سوچا کہ پارٹی لیڈرسے رائے لی جائے۔ پارٹی لیڈرنے پوچھا، تمھیں ووٹ دینے کے لیے کتنی رقم کی آفرآئی ہے؟ اس نے کہا دو کروڑ روپے۔پارٹی لیڈر نے کہا کہ میرے پاس ڈھائی کروڑ روپے کی آفر غیر حاضری کے لیے آئی ہے۔تم ووٹ سے ایک رات پہلے غائب ہوجاؤ۔فون بند رکھو، ڈھائی کروڑ روپے لے لو اور پولنگ گزرنے کے بعد واپس آجاؤ۔چنانچہ ایسا بھی ہوتا ہے۔اس دور میں سینیٹ کے دو انتخابات ہوئے اور دونوں میں سرمایہ کاری ہوئی۔  اللہ تعالیٰ اس ملک پر رحم فرمائے۔(آمین)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔