خوامخواہ روئے جارہے ہیں

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 14 فروری 2018

ڈی سروانٹس نے کہا تھا ’’وجہ یا سبب کو ختم کردیں، اثر خود بخود جاتا رہے گا‘‘ آج پورے ملک میں رونا دھونا مچا ہوا ہے ہائے ہم لٹ گئے، برباد ہوگئے ہمارے تو نصیب ہی خراب ہیں، ملک میں کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے، لوگ چیخ رہے ہیں آہ و گریا کر رہے ہیں ماتم کر رہے ہیں بغیر سوچے سمجھے بس روئے ہی جا رہے ہیں۔

اپنے آپ کو دن را ت کوسنے میں مصرف ہیں اگر تھوڑی دیرکے لیے لوگ رونا دھونا اورکوسنا بندکر دیں اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اس بات پر غورکرنا شروع کردیں کہ کیا واقعی ہم پیدائشی بدنصیب ہیں واقعی کیا ہماری پیدائش سے ہی خدا ہم سے ناراض ہے کیا واقعی اب کچھ بدلنے والا نہیں ہے آئیں! پہلے ایک شخص کا قصہ پڑھتے ہیں ’’ایک شخص سمندرکے کنارے ٹہل رہا تھا، اچانک اسے آواز آتی ہے ’’بچاؤ، بچاؤ‘‘ وہ ایک آدمی کو پانی میں ہاتھ پاؤں مارتا دیکھتا ہے یہ فوراً چھلانگ لگا کر اس کی جانب جاتا ہے اور اسے بچا کر ساحل پر لے آتا ہے جوں ہی یہ اسے زمین پر رکھتا ہے اسے دوبارہ وہ ہی آواز آتی ہے اسے ایک اور آدمی ہاتھ پاؤں مارتا دکھائی دیتا ہے، اس مرتبہ بھی وہ متعلقہ آدمی کو بچا لیتا ہے۔

تیسر ی بار پھر اسے آواز آتی ہے اور اسے دوبارہ جانا پڑتا ہے یہ شخص بالکل نڈھال ہو چکا ہے اور اس میں ہمت نہیں رہی۔کتنا بہتر ہوتا اگروہ یہ جاننے کی کوشش کرتا کہ لوگ کیوں پانی میں گر رہے ہیں، اس کے نزدیک ہی ایک پشتے پر ایک پاگل آدمی لوگوں کو پانی میں دھکیل رہا تھا، اسے روک کر وہ لوگوں کو پانی میں گرنے سے روک سکتا تھا اگر وہ ایسا کرلیتا تو خواہ مخواہ کی محنت ومشقت سے بچ جاتا۔ یاد رکھیں مثبت لوگوں کا دماغ مثبت انداز میں سوچتے ہوئے واقعات کے اسباب تلاش کرتا ہے جبکہ ایک عام آدمی ہمیشہ اثرات سے متاثر ہوکر جذبات میں قدم اٹھاتا ہے۔ ہمارے لوگ بھی اپنے بدترین حالات کے اثرات سے متاثر ہوکرجذبات میں بس روئے ہی جا رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی ان حالات کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ سب نے بغیر لڑے ہی ہار مان لی ہے۔

کبھی آپ نے اس بات پر غورکیا ہے کہ کیا یہ حالات ایک دم زمین پھاڑ کر نکل آئے ہیں،کیا یہ حالات آسمان سے گر پڑے ہیں یا یہ حالات دشمنوں نے سرحدوں سے ہمارے ملک میں داخل کردیے ہیں یا پھر یہ حالات ہمارے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا نتیجہ ہیں جو ہم سالوں سے اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے آرہے ہیں۔

آئیں چند سوالوں کا جواب آپ سے پوچھتے ہیں سوال نمبر 1۔ کیاکبھی ووٹ ڈالتے وقت آپ کی کنپٹی پرکسی نے پستول رکھا ہے یا آپ نے ہمیشہ اپنی ہی مرضی سے ووٹ دیا ہے؟ سوال نمبر 2 ۔ کیا آپ نے کبھی اپنے بدترین حالات سے باہر نکلنے کا سوچا ہے یا بس چپ چاپ حالات کے دھارے میں بہے جارہے ہیں؟ سوال نمبر 3۔ کیا آپ نے کبھی اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، زیادتیوں، ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھائی ہے یا آپ نے ہمیشہ خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ہے؟ سوال نمبر 4۔کیاآپ نے کبھی دنیا کی قوموں کی تاریخ کھنگالی ہے یا صرف آپ اپنی ہی تاریخ بار بار پڑھ رہے ہیں؟ سوال نمبر 5۔ کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ امریکا، جاپان، روس، چین، انگلینڈ اور یورپ کے ممالک نے کیسے ترقی، خوشحالی کی منازل طے کی ہیں؟ سوال نمبر 6۔ کیا آپ نے کبھی اس بات پر غورکیا ہے کہ آپ روزبروز غریب اور بے بس ہوتے جارہے ہیں اورملک کے چند سو افراد روزبروزکیوں امیر سے امیر ترین ہوتے جارہے ہیں؟ سوال نمبر 7۔ کیا آپ کو اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر ترس آتا ہے؟ سوا ل نمبر 8۔

کیا آپ کو اپنی بزدلی،کم ہمتی سے محبت ہوگئی ہے؟ جب آپ ان سوالوں کے جواب دے چکے ہونگے تو آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ آپ اپنے سب سے بڑے دشمن ہیں اورآپ کا اپنے علاوہ کوئی اور دشمن ہے ہی نہیں۔ آپ اپنی بدحالی، غربت وافلاس، بیماریوں، جہالت کے ذمے دار خود ہیں۔ اس لیے آئیں اپنے نصیب اور قسمت کو برا بھلا کہنا اور کوسنا بند کر دیں رونا چیخنا چلانا ترک کردیں بس آپ آج ہی اس عالمی عقیدے کو اپنا لیں ’’آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کے برابر نہیں ’’ماضی کو کرید کر سوائے دکھ اور تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا آپ کے جذبات آپ کو اشارہ دے رہے ہیں کہ آپ کو کس جانب چلنا چاہیے۔ یاد رکھیں آپ کی اپروچ غلط ہے آپ کی سوچ غلط ہے نامور مصنف گریگو ری بیٹی سن نے اپنی کتاب Steps to an Ecology of Mind میں اپنی بیٹی کے ساتھ ایک گفتگو کا خاص ذکر کیا ہے ’’ ایک مرتبہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے کمرے میں داخل ہوا تو اس نے مجھ سے سوال کیا ’’پاپا ترتیب اور بے ترتیبی میں آپ کیا فرق کریں گے؟

میں نے حیران ہوکر پوچھا بیٹی تم ترتیب اور بے ترتیبی کے بارے میں کیاجانتی ہو؟ اس نے فوراً اپنی میز کی جانب اشارہ کیا جس پر کتابوں اور کھلونوں کا انبار موجود تھا ہر چیز الٹی سیدھی رکھی تھی ’’پاپا یہ ہے بے ترتیبی‘‘بالکل درست۔ میں نے کہا پھر وہ اٹھی اور اس نے ہر چیز کو سیدھا کرکے رکھ دیا اور میری جانب دیکھتے ہوئے بولی ’’یہ ہے ترتیب‘‘ میں بڑا متاثر ہوا میں نے آگے بڑھ کر اس کے قلم کوکاغذوں سے دور رکھ دیا، اس سے پوچھا ’’اب کیا کہو گی‘‘ وہ بولی ’’بے ترتیبی‘‘ میں نے اب اس کے کھلونوں کو دور ہٹا دیا اور پو چھا جواب ملا ’’بے ترتیبی‘‘ میں نے اسے پیار سے سمجھایا ’’بیٹی‘‘ دنیا میں ترتیب کے چند اصول اور بے ترتیبی کے کئی اصول ہیں‘‘ بس یہ ہی بات آپ اچھی طرح سے ذہن نشین کرلیں کہ ہم سب بے ترتیبی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری زندگی میں کوئی بھی چیز ترتیب سے نہیں ہے ہمیں معلوم ہی نہیں ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے یاد رکھیں بے ترتیبی سے کبھی بھی تبدیلی نہیں آتی۔ تبدیلی ہمیشہ ترتیب سے آتی ہے آئیں… آج سے ہی ہم اپنی زندگی میں ہر چیزکو ترتیب سے کرنا شروع کردیں پھر آپ دیکھیں گے کہ کس طرح آپ کی زندگی اور آپ کے حالات میں انقلاب آتا ہے اور آپ کے دشمن کس طرح چپل چھوڑکر بھاگتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔