سیاسی استحکام اور ماحولیات

محمود عالم خالد  بدھ 14 فروری 2018
mehmoodenv@gmail.com

[email protected]

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2 ارب سے زائد افراد شہروں میں رہائش اختیار کرینگے، یہی وجہ ہے کہ رواں صدی کو شہری صدی کا نام دیا جا رہا ہے۔ اندازہ یہ بھی لگایا گیا ہے کہ 2050ء تک کرۂ ارض پر موجود انسانوں کی غالب اکثریت شہروں اور اسکے نزدیکی علاقوں میں رہائش پذیر ہو گی جسکے نتیجے میں شہری مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو گا شہری ماحولیات بالخصوص اس ضمن میں سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔

دنیا کا 7 واں بڑا شہر کراچی نہ صرف آلودگی کے لحاظ سے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر سر فہرست ہے۔ کراچی فورم ان کلائمیٹ چینج ایک متحرک تھنک ٹینک فورم ہے جس میں ماحولیاتی کالم نگار، رائٹر، ماحول دوست وکلا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ فورم کے ایک وفد نے گزشتہ دنوں کراچی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے موسمیاتی وماحولیاتی مسائل پر گورنر سندھ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں گورنر سندھ کی توجہ نظر انداز کیے جانیوالے شہرکے ماحولیاتی مسائل کی جانب مبذول کرائی گئی۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا موسمی تبدیلیوں اور آلودگی کے خطرات کا سامنا کر رہی ہے، پاکستان کا شمار بھی ان حوالوں سے شدید متاثرہ ملکوں میں کیا جارہا ہے۔

یہ مسئلہ کسی حکومت یا پارٹی کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی ہم سب کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انھوں نے وفد کو بتایا کہ مرکزی اور صوبائی وزارتیں موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہیں نیز گرین پاکستان کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا بھی تفصیل سے ذکرکیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر عوامی آگہی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ہمیں ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا، ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیں، ہماری ترقی کے متعدد منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں، کئی شروع ہوچکے ہیں اور متعدد منصوبے شروع ہونے والے ہیں لہٰذا ہمیں اس بات کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ ماحولیات کے نام پر ہمارے ترقیاتی کاموں کو نہ روکا جائے۔ تھرکول پاور پروجیکٹ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کے لیے اشد ضروری ہے، حکومت اس کو ماحول دوست بنانے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ عالمی معیارات کے مطابق اس طرح کے منصوبوں میں لگائی جانے والی چمنیاں 120 میٹر تک اونچی رکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے آلودگی پھیلانے والے ذرات کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں جبکہ تھر کول منصوبے میں لگائی جانے والی چمنیوں کی اونچائی 180 میٹر تک رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے خطرات باقی نہ رہیں۔

موسمیاتی و ماحولیات تبدیلیوں سے لاحق ہونیوالے خطرات اور انکے نتیجے میں ہونیوالی مختلف نوع کی تباہ کاریوں سے دنیا کی حکومتیں آگاہ ہیں۔ یہی سبب ہے کہ کوئی بھی عالمی فورم جہاں دنیا بھر کے پالیسی ساز اکٹھے ہوں وہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے کرئہ ارض کو لاحق خطرات کا تذکرہ ضرورکیا جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہونیوالی ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ کانفرنس میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ سرفہرست رہا اور کئی عالمی لیڈروں نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا۔یہ بات اب بحث و مباحثہ کا موضوع نہیں ہے کہ کرۂ ارض پر ہونیوالی ان تبدیلیوں کا ذمے دار کون ہے۔ سب کو علم ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام انکی ذمے دار ہیں۔

بحث کا موضوع اب یہ ہے کہ دنیا کی وہ ترقی پذیر اور پسماندہ اقوام جو ابھی ترقی کی منازل طے کررہی ہیں ان کا حصہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر ہے لیکن یہی اقوام ہر اقسام کی موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ہورہی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم، شدید متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہونیوالی عالمی ماحولیاتی کانفرنسوں میں یہی مسئلہ سب سے زیادہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام اپنے وعدے کے مطابق ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے دی جانیوالی امدادی رقوم کی فراہمی میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتیں بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے دنیا کی حکومتوں کیساتھ یکساں رویہ اپنایا جائے۔

تیسری دنیا کے ملکوں میں غربت، بیروزگاری، کرپشن، صحت، صاف پانی، غذائی قلت جیسے مسائل کی بھرمار ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں جس کے وہ ذمے دار بھی نہیں ہیں، کے خطرات ان کے مسائل میں مزید اضافے کا باعث بن چکے ہیں جس کے شدید منفی اثرات ان ملکوں کی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں غیر جمہوری حکومتوں کے تسلسل اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونیوالی حکومتوں کے برسراقتدار آنے کے دوران ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہتا ہے جس کی وجہ سے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کے مسائل حل نہیں ہوپاتے وہیں ماحولیاتی مسائل میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے، اس کے باوجود پاکستان کے جمہوری ادوار میں موسمیاتی و ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے پیشرفت آہستہ ہی سہی ہوتی ضرور ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی قومی پالیسی کا مسودہ 2011ء میں تشکیل دیا گیا جسے 2012ء میں اسمبلی نے منظور کیا اور سرکاری طور پر 2013ء میں شروع کیا گیا جس کے لیے ملک کے چاروں صوبوں سمیت ملک کے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی۔ موسمیاتی تبدیلی پالیسی کا مسودہ جس کی مدت 2014ء سے 2030ء تک ہے، ملک کی قومی و اقتصادی پالیسیوں کو ماحول دوست بنانے کی منصوبہ میں معاون ثابت ہورہا ہے۔

دسمبر 2016ء میں موسمیاتی تبدیلی بل قومی اسمبلی اور مارچ 2017ء میں سینیٹ سے منظور ہوا۔ اس بل کے ذریعے جس میں پاکستان کلائمیٹ چینج کونسل، پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی جیسے اہم ادارے بنائے گئے۔ پاکستان کلائمیٹ چینج کونسل کے سربراہ وزیراعظم پاکستان یا ان کے نامزد کردہ نمایندہ، چاروں صوبوں کے وزیراعلیٰ، چیئرمین نیشنل ڈئزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، چیئرمین پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے علاوہ سیکریٹری کلائمیٹ چینج جوکہ کونسل کے سیکریٹری ہیں شامل ہیں۔ ملک کے چاورں صوبوں میں بھی اس حوالے سے پیشرفت ہورہی ہے، حقیقت لیکن یہ بھی ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان میں ہر قسم کے مسائل میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ماحولیاتی اعتبار سے دنیا کے بدترین ممالک کی اکثریت سیاسی عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔