پاکستان کے لیے امداد امریکی بجٹ تجاویز میں شامل

ایڈیٹوریل  جمعرات 15 فروری 2018
صائب ہوگا کہ امریکا پاکستان کی امداد بحالی کے ساتھ اپنے متضاد رویوں پر بھی نظرثانی کرے۔ فوٹو: فائل

صائب ہوگا کہ امریکا پاکستان کی امداد بحالی کے ساتھ اپنے متضاد رویوں پر بھی نظرثانی کرے۔ فوٹو: فائل

پاک امریکا تعلقات میں حالیہ در آنے والی کشیدگی بظاہر کم ہوتی محسوس ہورہی ہے کیونکہ امریکی صدر نے اپنے سالانہ بجٹ منصوبے میں پاکستان کے لیے 336 ملین ڈالر امداد رکھنے کی تجویز دی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے مستحکم اور نہ جھکنے والے رویے اور ’’ناگزیر کردار‘‘کی بنا پر امریکی صدر اپنے ہی اعلان کردہ پابندی کے بیان پر نظر ثانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی 4 کھرب ڈالر پر مشتمل سالانہ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے 256 ملین ڈالر سویلین معاونت، 80 ملین ڈالر فوجی معاونت کی مد میں رکھے جائیں، یہ امداد پاکستان کے معاشی استحکام اور ملک میں امریکی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کی مد میں فراہم کی جائے گی۔

علاوہ ازیں امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اعلان کردہ بجٹ تجاویز 2019 میں پاکستان کی معاشی اور فوجی امداد بھی شامل ہیں، یہ غیر مشروط بجٹ درخواستیں اکنامک سپورٹ فنڈ اور ترقیاتی فنڈز کی جانب سے 2018ء اور 2019ء کے لیے 20، 20 کروڑ ڈالر سالانہ مختص کیے گئے ہیں جب کہ اس میں 2017ء کے 20 کروڑ ڈالر کا علیحدہ سے ذکر ہے، اور یہ امداد کسی معطلی کے حکم سے متاثر بھی نہیں ہوگی۔

صائب ہوتا کہ امریکا ’’دیگر‘‘ امداد کو بھی مشروط کرنے کے بجائے وسیع تر مقاصد کی کامیابی کو مدنظر رکھتا۔ واضح رہے کہ رواں برس 4 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی فوجی امداد بند کردی تھی۔ امریکی صدر کے امداد پر پابندی اعلان کے بعد پاک امریکا تعلقات میں سردمہری در آئی تھی، ساتھ ہی امریکا نے بارہا متضاد رویوں اور کارروائیوں کے ذریعے مخاصمانہ فضا پیدا کرنے کی کوشش کی، امریکا کی جانب سے امداد روکنے کا اعلان اور پاکستانی حدود میں یکطرفہ فوجی کارروائی اور ڈرون حملوں سے متعلق بیانات نے بھی انتشار کی فضا کو مضبوط کرنے میں معاون کردار ادا کیا۔

جب کہ گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمایندگان میں ایک بل بھی پیش کیا گیا تھا جس میں پاکستان کی روکی گئی امدادی رقم امریکا میں انفرااسٹرکچر منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی بابت زور دیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ بھی اسی قسم کا ایک بل امریکی سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جب کہ امریکی سینیٹرز کی جانب سے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی جاری رہی، ساتھ ہی امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ بھی دیتا رہا، امریکا کی جانب سے امداد کو مشروط کرنے پر پاکستان نے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیا جس کی بنا پر امریکی لہجے میں نرمی محسوس کی گئی۔

بجٹ تجاویز بل امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے بیان کی تائید کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف ضروری اقدامات کرنے پر واشنگٹن اسلام آباد کی سیکیورٹی امداد بحال کرسکتا ہے۔

مذکورہ رقم کے علاوہ بین الاقوامی فوجی تعلیم اور تربیت (آئی ایم ای ٹی) فنڈز کے تحت 35 لاکھ ڈالر کی علیحدہ امداد کی درخواست بھی زیر غور ہے، جب کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ عالمی خطرے میں کمی کے پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے 6 کروڑ 70 لاکھ کا بھی منتظر ہے۔ آیندہ مالی سال میں عالمی صحت پروگرامز فنڈز کے تحت ’’یو ایس ایڈ‘‘ کی مد میں پاکستان کو 2 کروڑ 25 لاکھ ڈالر امداد دی جائے گی۔ صائب ہوگا کہ امریکا پاکستان کی امداد بحالی کے ساتھ اپنے متضاد رویوں پر بھی نظرثانی کرے، کیونکہ پاکستان کے لیے اپنی خودداری اور سالمیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔