ہم ہوں یا نہ ہوں

جاوید چوہدری  جمعرات 15 فروری 2018
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018ء تک معمول کے مطابق زندگی گزار رہی تھیں‘ وہ صبح اٹھیں تو وہی جذبہ‘ وہی اعتماد اور وہی جوش موجود تھا جس نے عاصمہ جیلانی کو عاصمہ جہانگیر بنایا تھا‘ میاں نواز شریف کا فون آیا‘ میاں صاحب انھیں طلال چوہدری کی وکالت کے لیے راضی کرتے رہے‘ وہ نیم رضا مند ہو گئیں لیکن پھر اچانک لمبی سانس لی‘ چیخ ماری‘ فون پھسل کر نیچے گرا اور وہ بے ہوش ہو گئیں‘ وہ اسپتال پہنچائی گئیں مگر وہ بے ہوشی کے دوران ہی زندگی کی سرحد پار کر گئیں‘ عاصمہ جہانگیر ہے سے تھی بن گئیں۔

پاکستان میں 10کروڑ‘13 لاکھ‘ 15 ہزارخواتین ہیں لیکن عاصمہ جہانگیر صرف ایک تھیں‘ وہ ملک میں خواتین‘ جمہوریت‘ انسانی حقوق اور مظلومیت کی توانا آواز تھیں‘میں دل سے سمجھتا ہوں اگر خواجہ سراؤں کے اس ملک میں کوئی شخص مرد کہلانے کے لائق تھا تو وہ صرف اور صرف عاصمہ جہانگیر تھیں‘ پاکستان میں جس مقام پر بڑ ے سے بڑے مرد حُر کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں وہاں عاصمہ جہانگیر مرد بن کر میدان میں ڈٹ جاتی تھیں لیکن آپ المیہ ملاحظہ کیجیے‘ عاصمہ جہانگیر کے بعد بھی ٹریفک چلتی رہی.

لوگ قہقہے لگاتے رہے اور ریستوران اور چائے خانے آباد رہے‘ ان کے بعد بھی شام ہوئی‘ رات آئی اور اگلے دن کا سورج طلوع ہوا‘ بارش بھی ہوئی‘ پہاڑوں پر برف بھی پڑی‘ عدالتیں بھی کھلیں‘ سماعتیں بھی ہوئیں‘ فیصلے بھی ہوئے اور ٹیلی ویژن اسکرینیں بھی آباد ہوئیں غرض زندگی کے قدم ان کے بعد بھی رواں دواں رہے‘ کسی جگہ‘ کسی مقام پر کوئی چیز کم ہوئی اور نہ ہی وقت کو ٹھوکر لگی‘ بس عاصمہ جہانگیر دنیا میں موجود نہیں تھیں‘ یہ موت ہم جیسے لوگوں کو زندگی کی حقیقت سمجھانے کے لیے کافی ہے۔

ہم اگر سیکھنا چاہیں تو ہمیں مزید کسی استاد‘ کسی کتاب اور کسی درس کی ضرورت نہیں‘بس ہمارے لیے یہ جان لینا کافی ہو گا یہ دنیا اگر عاصمہ جہانگیر کے بغیر بھی چل سکتی ہے تو پھر یہ ہمارے بعد بھی زیادہ بہتر انداز سے چلے گی‘بس ہمارے لیے یہ جان لینا کافی ہو گا ہم اور ہمارے جیسے لوگ زندگی کا ایک غیر ضروری پرزہ ہیں‘ ہم ہوں یا نہ ہوں مشین کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ یہ بس اسی طرح چلتی رہتی ہے اور یہ بس اسی طرح چلتی رہے گی۔

آپ اگر اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی زندگی کے ہر ناگزیر شخص کے انتقال کے بعد اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کو اگر اس شخص کے بعد بھی دنیا چلتی ہوئی نظر آئے تو آپ اپنی مہلت پر خدا کا شکر ادا کریں‘ توبہ کریں اور وہ تمام اچھے کام جو آپ نے کل کے لیے چھوڑ رکھے ہیں آپ اسی وقت اٹھ کر مکمل کر لیں‘ آ پ کا آج کا دن ضایع ہونے سے بچ جائے گا۔

عاصمہ جہانگیر پہلی مرتبہ 1970ء میں سامنے آئیں‘ جنرل یحییٰ خان نے 1969ء میں ملک میں مارشل لاء لگا دیا‘ فوجی ڈکٹیٹر نے لاہور کی مشہورسیاسی شخصیت ملک غلام جیلانی اور نامور بیورو کریٹ الطاف گوہر کو گرفتار کر لیا‘ ملک غلام جیلانی کی صاحبزادی عاصمہ جیلانی اس وقت اسٹوڈنٹ تھی‘ یہ والد کی فائل اٹھا کر لاہور کے مشہور وکلاء کے پاس گئیں‘ غلام جیلانی معروف اور ہردل عزیز شخصیت تھے‘ ملک کے بڑے صحافی‘ وکلاء‘ اداکار‘ فلم ساز اور بزنس مین سارا سارا دن ملک صاحب کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے رہتے تھے لیکن جب ملک صاحب پر برا وقت آیا تو ان میں سے کوئی شخص مدد کے لیے آگے نہیں آیا‘ عاصمہ جیلانی جس وکیل سے والد کا مقدمہ لڑنے کی درخواست کرتی تھی وہ معذرت کر لیتا تھا‘ لاہور کا کوئی شیردل وکیل جنرل یحییٰ خان سے ٹکرانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

یہ ایک تکلیف دہ صورتحال تھی‘ اس صورتحال میں اسٹوڈنٹ عاصمہ جیلانی نے اپنے والد کا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا‘ وہ عدالت میں پیش ہوئیں‘ جج سے درخواست کی‘ جج نے اپیل منظور کرلی اور یوں پورے ملک میں 52 کلو گرام کی ایک دھان پان سی لڑکی ہمالیہ جتنے اونچے اور وزنی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان سے ٹکرا گئی‘ عاصمہ جیلانی نے عدالت میں نقطہ اٹھایا پاکستان کوئی مفتوحہ ملک ہے اور نہ ہی جنرل یحییٰ خان فاتح جرنیل ہیں چنانچہ پھر ملک میں مارشل لاء کیوں ہے؟

وہ دھان پان سی لڑکی جب بھی عدالت میں یہ دلائل دیتی تھی انصاف کے ترازو کو پسینہ آ جاتا تھا‘ عدالتیں اس وقت بھی اتنی ہی آزاد تھیں جتنی یہ آج ہیں‘ آپ انصاف کا کمال دیکھئے سپریم کورٹ شہریوں کو صاف پانی دینے کے لیے وزیراعلیٰ کو طلب کر لیتی ہے لیکن حنیف عباسی سات سال سے صاف انصاف کے لیے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں‘ ایفی ڈرین کیس کے فیصلے سے پہلے جج بدل جاتا ہے یا پھر سرکاری وکیل چھٹی پر چلا جاتا ہے۔

حنیف عباسی دہائیاں دے رہے ہیں مائی لارڈ مجھے صاف پانی سے پہلے صاف انصاف دے دیں لیکن ان کی دہائیاں عدالت کے کانوں تک نہیںپہنچ پا رہیں‘ کیا یہ بھی انصاف کے لیے فیض آباد میں دھرنا دے دیں‘ بھوک ہڑتال کر دیں یا پھر سپریم کورٹ کے سامنے خودسوزی کر لیں‘ یہ کیا کریں‘ عدالت انھیں انصاف نہیں دیتی تو کم از کم مشورہ ہی دے دے‘ عاصمہ جیلانی کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ ان کا کیس بھی حنیف عباسی کی طرح چلتا رہا‘ ججز فیصلے کے بجائے انھیں داد دیتے رہے یہاں تک کہ ملک ٹوٹ گیا‘ مارشل لاء ختم ہوگیا‘ جنرل یحییٰ خان ہاؤس اریسٹ ہو گئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے عنان اقتدار سنبھال لی۔

عاصمہ جیلانی نے نئے حالات میں ذوالفقار علی بھٹو کو ہدف بنا لیا‘ یہ عدالت میں چیختی رہیں یہ ملک مفتوحہ نہیں اور آزاد ملک میں ایک سویلین شخص مارشل لاء کیسے لگا سکتا ہے؟ بہرحال یہ چیخ و پکار بارآور ثابت ہوئی‘ انصاف نے انگڑائی لی اور کیس کا فیصلہ ہو گیا‘ ملک غلام جیلانی بھی رہا ہو گئے اور عدالت نے ذوالفقار علی بھٹو کو مارشل لاء اٹھانے اور نیا آئین بنانے کا حکم بھی دے دیا‘ بھٹو صاحب نے عدالتی حکم پر مارشل لاء ختم کیا اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر 1973ء کا آئین تیار کر لیا چنانچہ ہم اگر کسی کو 1973ء کے آئین کا کریڈٹ دے سکتے ہیں تو وہ کل کی عاصمہ جیلانی اور آج کی عاصمہ جہانگیر تھیں‘ عاصمہ جہانگیر کا وہ تاریخی مقدمہ آج بھی تاریخ میں عاصمہ جیلانی کیس کے نام سے مشہور ہے۔

عاصمہ جہانگیر اس کے بعد ملک میں انسانی حقوق اور مظلوموں کی آواز بن گئیں‘ 1983ء میں صفیہ نام کی ایک تیرہ سالہ بچی جنسی زیادتی کا نشانہ بنی‘ حاملہ ہوئی‘ مقدمہ بنا‘ ملزموں نے عدالت میں زیادتی کو ’’رضا مندی‘‘ ثابت کر دیا‘ بچی کو جیل بھجوا دیا گیا‘ عاصمہ جہانگیر نے مقدمہ لڑا اور جنرل ضیاء الحق کی کھوکھلی شریعت پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔

1993ء میں 14 برس کے سلامت مسیح کو توہین مذہب پر سزائے موت ہو گئی‘ پورے ملک میں کوئی وکیل سلامت مسیح کا کیس لینے کے لیے تیار نہیں تھا‘ عاصمہ جہانگیر نے کیس لڑا اور عدالت میں ثابت کر دیا سلامت مسیح کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا‘ یہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی شرپسندی تھی‘عدالت نے سلامت مسیح کو رہا کر دیا‘ عاصمہ جہانگیر کا کنٹری بیوشن صرف یہاں تک محدود نہیں تھا بلکہ انھوں نے پاکستانی عورت کو مرضی کی شادی کا آئینی اور مذہبی حق بھی لے کر دیا۔

بھٹہ مزدوروں کوعام شہریوں کے برابر حقوق بھی لے کر دیے اور گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کو تحفظ بھی دیا‘ یہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک پاکستان کے ہر مارشل لاء کے مقابلے کے لیے میدان میں اتریں‘ یہ افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے سڑکوں پر آئیں اور یہ بعد ازاں افتخار محمد چوہدری کے آمرانہ فیصلوں کے خلاف بھی منہ کھول کر بولتی رہیں۔

یہ سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کے خلاف تھیں‘ یہ کھلے عام کہتی تھیں اگر سپریم کورٹ کسی ایشو پر اپنی رائے دے دے گی تو پھر ماتحت عدالت انصاف کے تقاضے کیسے پورے کرے گی‘ یہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے بھی خلاف تھیں‘ یہ موجودہ چیف جسٹس کے فیصلوں اور تقریروں پر بھی اعتراض کرتی تھیں‘ یہ مسنگ پرسنز اور سیاست میں فوجی مداخلت کے بھی خلاف تھیں اور یہ ہر جمہوری حکومت کے غیر جمہوری اقدامات پر بھی بولتی رہیں۔

میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں عاصمہ جہانگیر کو پسند کرتے تھے لیکن یہ دونوں کے ادوار میں حکومتی فیصلوں پر احتجاج کرتی رہیں‘ آصف علی زرداری نے اپنے دور میں ’’ٹروتھ اینڈ ری کن سیلیشن کمیشن‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا‘ یہ عاصمہ جہانگیر کو کمیشن کا سربراہ بنانا چاہتے تھے لیکن انھوں نے اس پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا‘ ان کا کہنا تھا ’’اوہ دن ڈبا جدوں گھوڑی چڑھیا کبا‘‘ ان کا کہناتھا یہ کمیشن بنے گا اور نہ ہی میں سربراہ بنوںگی اور ان کی یہ پیشن گوئی سو فیصد سچ ثابت ہوئی۔

وہ مجھے مولوی سمجھتی تھیں‘ وہ مجھے ناپسند بھی کرتی تھیں‘ وہ میرے پروگرام میں نہیں آتی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ مروت اور احترام کا رشتہ تھا‘ میں اکثرانھیں قانونی اور آئینی ایشوز سمجھنے کے لیے فون کرتا تھا ‘ وہ بڑی شفقت سے فون اٹھا کرکہتی تھیں ’’ہاں مولوی بولو‘‘ وہ مجھ سے مختلف ملکوں کی اچھی جگہوں‘ ریستورانوں اور لوگوں کے بارے میں بھی پوچھتی رہتی تھیں‘ وہ کبھی کسی کالم پر داد بھی دے دیتی تھیں لیکن یہ مواقع بہت کم آتے تھے۔

میں نے 11 فروری کی شام عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر سنی اور پھر 13 فروری کو ان کے جنازے کی کوریج دیکھی اور پھر اس کے بعد دوڑتی بھاگتی زندگی پر نظر ڈالی تو ہر چیز اپنے اپنے مقام پر تھی‘ ٹیلی ویژن پر جنازے کی خبر کے بعد اشتہار بھی چل رہے تھے اور اگلے دن عدالتیں بھی کھلیں‘سڑکیں بھی آباد ہوئیں اور بازاروں میں بھی رونق جاگی۔

بس دنیا میں اگر کوئی چیز کم تھی تو وہ عاصمہ جہانگیر تھیں‘ وہ نہیں تھیں اوریہ ہے زندگی اور اس کی اصل حقیقت‘ ہم ہوں یا نہ ہوں‘ کرہ ارض کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ دنیا اسی طرح دوڑتی بھاگتی رہتی ہے‘ وقت کی لہر وقت کی لہروں میں مل کر وقت بن جاتی ہیں‘ پانی اپنا خلاء خود پُر کر لیتا ہے اور بس‘ ہم ہوں یا نہ ہوں زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔