ووٹ ایک کاروباری جنس

عبدالقادر حسن  جمعرات 15 فروری 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

اخباری پروپیگنڈے سے ذرا آزاد ہو کر غور کریں کہ اگر اپنا ووٹ بیچنا ناجائز ہے تو پھر اس جرم میں ہماری صوبائی اور وفاقی اسمبلیاں اور سینیٹ فارغ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر ارکان اپنا ووٹ کسی نہ کسی کج کلاہ کی نذر کر چکے ہوتے ہیں اور معاوضے میں وزارت اور ایسی ہی دوسری مراعات حاصل کر چکے ہیں جو نقد مال سے بہت بہتر یا مزید مفید ہوتی ہیں، نقد مال تو ایک مرتبہ ملتا ہے لیکن سرکاری مراعات صدقہ جاریہ بن کرزندہ رہتی ہیں۔

میں اپنی بات کو ایک سے زیادہ مثالوں سے واضح کرسکتا ہوں مثلاً گذشتہ الیکشن میں صوبہ بلوچستان میں حکومتی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی اور اس کو ایک اور صوبائی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑی دونو ں کا سودا آدھے آدھے دور اقتدار پر طے پایا جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ حکومتی میعاد پوری ہونے سے پہلے اسمبلی میں بھونچال آگیا اور سینیٹ کے الیکشن سے پہلے حکومت تبدیل ہو گئی جس کا نتیجہ ہم سینیٹ کے آیندہ الیکشن میں دیکھیں گے۔

اس تبدیلی کے بارے میں پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا آصف زرداری کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنا کہنا سچ ثابت کر دکھایا کہ وہ جب چاہیں نواز شریف کی حکومت ختم کر سکتے ہیں اور اس تبدیلی کے نتیجے میں ان کی پرانی حلیف جماعت ق لیگ اقتدار میں آگئی اور اس کے نئے منتخب وزیر اعلیٰ نے اپنے ساتھیوں کو وزارت کے منصب پر فائز کر دیا جن میں ہرایسی جماعت کے اراکین شامل ہیں جنہوں نے اس تبدیلی میں ان کا ساتھ دیا۔

سینیٹ الیکشن سے پہلے یہ تبدیلی کیا رنگ دکھاتی ہے، اس تبدیلی کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں بلوچستان اسمبلی کے اراکین کس کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ یہ واحد اسمبلی ہے جس کے پاس سینیٹ کے لیے ووٹ سب سے زیادہ ہیں چنانچہ اس کے اراکین سینیٹ کے انتخابات کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔

ایک ووٹ کی بنیاد پر سینیٹ کی رکنیت کا مزہ ہی اپنا ہے کہ کہاں کئی ممبران اسمبلی کی خدمت کرنی پڑتی ہے اور کہاں صرف ایک کی جو کہ نسبتاً آسان سمجھی جا سکتی ہے ورنہ ضرورتمند تو دیوانہ ہوتا ہے اور اپنی اسی دیوانگی کے پیش نظر اپنی کامیابی کے لیے منہ مانگے داموں سودا طے کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور ان دیوانوں کے لیے یہ سودے نئے نہیں وہ اس بازار سے بہت کچھ خرید چکے ہیں اور مزید کے لیے تیار رہتے ہیں تا کہ نسل در نسل اپنی سیٹیں پکی کر سکیں۔

سینیٹ کے الیکشن میں اب کچھ زیادہ وقت نہیں رہا بمشکل دو ہفتے رہ گئے ہیں اور یہ دو ہفتے سینیٹ کی بڑی جماعتوں کے لیے کڑی آزمائش رکھتے ہیں، سب سے بڑی آزمائش اپنے ممبران کو اپنی ہی جماعت کی جانب سے نامزد کیے گئے امیدواران کے حق میں حق رائے دہی کے استعمال کا ہے کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے نتائج ہمیشہ غیر متوقع ہی رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ایسی انہونی ہو جاتی ہے جو کہ شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے اور قیاس کیا جاتا ہے کہ فلاں ممبر نے فلاں کو ووٹ دے دیا ہو گا۔

یعنی اپنی جماعت کے امیدوار ہار جاتے ہیں جب کہ آزاد اور بعض دفعہ کم ووٹ رکھنے والی جماعت کا امیدوار جیت جاتاہے یہ انہونی خود بخود نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے لیے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں تب جا کر کہیں جیت کم ووٹ رکھنے والے کا مقدر بھی بنتی ہے اور اپنے پیچھے ہارس ٹریڈٖنگ جیسے کئی سوالات چھوڑ جاتی ہے یعنی آپ غور کریں کہ الزام تو عوام پر لگایا جاتا ہے کہ وہ پیسے لے کر عام انتخابات میںووٹ ڈالتے ہیں مگر اس اشرافیہ کو کوئی نہیں پوچھتا کہ جب وہ خود اپنے ووٹوں کی بولی لگاتے ہیں ۔

سینیٹ کے انتخابات میں کوئی عام آدمی ووٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس میں ووٹ  ڈالنے والوں کا تعلق اس  طبقہ سے ہے جو کئی دہائیوں سے اس ملک کے غریب ، بے بس اور معصوم عوام پر حکمرانی کرتاآرہا ہے، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اپنے ہی ووٹ کی بولی لگاتا ہے ۔ ان میں کچھ ارکان ایسے بھی ہوتے ہیں جو وزارتوں کی مستقل مراعات لے کر اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں یا یک مشت کچھ لے کر ووٹ دے دیا، ان کے بارے میں نہ تو کوئی قانونی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کرتا ہے کیونکہ ایسی مروجہ ہارس ٹریڈنگ میں سبھی شامل ہیں جو گھوڑے خرید رہے ہیں وہ خود ان سے پہلے گھوڑے بیچ چکے ہیں اور اس کے عوض اقتدار حاصل کر چکے ہیں اس لیے کون ہے جس کا دامن صاف ہو اور انھیں پکڑنے کا فیصلہ کرے، بات وہی ہے کہ

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

یہ تمام خواتین و حضرات اس جرم میں شامل ہیں اس لیے کوئی ایسا نہیں جو پہلا پتھر مار سکے ورنہ ہارس ٹریڈنگ کہاں نہیں ہے۔ گھوڑوں کا بیچنا ایک بہت ہی پرانامحاورہ ہے انگریزی میں اسے ہارس ٹریڈنگ کہتے ہیں یعنی اردو میں گھوڑوں کا کاروبار کہا جائے گا۔ گھوڑا ایک عالیشان جانور ہے اور اسی طرح اس کا کاروبار بھی اونچے درجے کے کاروباروں میںشمار ہوتا ہے جس میں نسل کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جتنا نسلی گھوڑا ہو گا۔

اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی ۔ سواری کے لیے جانوروں میں اس سے تیز اور باوقار کوئی اور نہیں چنانچہ گھوڑوں کے بیوپاری راتوں کو جاگ کر اپنی گھوڑوں کو چوری سے بچایا کرتے تھے اور جس کسی کے گھوڑے بک جاتے ہیں وہ اطمینان کے ساتھ لمبی تان کر سو جاتا ہے، اسی سے گھوڑے بیچ کر سونے کا محاورہ ایجاد اور مقبول عام ہوا ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گھوڑوں کا کاروبار ہر دور میں مقبول رہا ہے ۔گھوڑوں کی خریدو فروخت میں ادھار بھی چل جاتا تھا اور کسی اگلی فصل پر اس کی ادائیگی کر دی جاتی لیکن جب سے یہ اصطلاح سیاست میں آئی تو نہ صرف زر نقد سمیت یک مشت ادائیگی بھی مشروط قرار پائی اور جب حکومت اپنی ہو تو قومی خزانہ لٹانے میں کیا حرج ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ کہاں نہیں ہے بس اسلوب مختلف ہیں کہیں سودا ادھار مل جاتا تھا تو اب اس زمانے میں یہ سودا نقد ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔