بھینس، اب بھی منتظر ہے

شہلا اعجاز  جمعرات 15 فروری 2018
 shehla_ajaz@yahoo.com

[email protected]

پاکستان میں ایک بار پھر پندرہ جولائی 2018ء میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ گیارہ مئی 2013ء کے بعد ایک طے شدہ وقت کے مطابق ہونے والے یہ انتخابات پاکستان کے لیے کیا پیغام لے کر آتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں سے کراچی میں خاص کر امن عامہ کے حوالے سے بہتر صورتحال نظر آئی ہے۔ کراچی کے چند خاص حصوں کو نوگو ایریا بنا دیا گیا تھا جہاں جانے کے حوالے سے ہی تحفظات درپیش رہتے لیکن اب صورتحال خاصی بہتر ہے۔

اس کی ذمے داری اگر سیکیورٹی قائم رکھنے والے اداروں کو دی جائے تو بہتر ہے لیکن دوسری جانب اسی طرح کے کچھ اداروں نے جس طرح غیر ذمے دارانہ انداز میں اپنی مسخ شدہ شکلیں دکھائی کہ عوام کا اعتبار ان پر سے اٹھ چکا ہے۔ کیا عوام کو اس کا کھویا ہوا اعتبار پھر لوٹایا جاسکتا ہے؟ اس اہم سوال کے ساتھ کئی کیسز ابھر کر سامنے آرہے ہیں جو نہ صرف توجہ طلب ہیں بلکہ پوری دنیا میں ہمارا برا امیج قائم کررہے ہیں۔

ان کیسز میں نقیب اور انتظار کے نام سر فہرست ہیں، لیکن ہم سیکیورٹی جیسے منسلک اہم اداروں کی شناخت کو داغدار ہونے سے نہیں بچاسکے۔ شاید اس کی وجہ ہمارے یہاں سرمایہ دارانہ نظام ہے جو بد ترین صورتحال میں ہمارے دیہی علاقوں سے لے کر شہری علاقوں تک پھل پھول رہا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نظام نہ صرف سیکیورٹی کے اداروں میں بلکہ صحت و تعلیم اور دیگر اہم اداروں میں بھی خوب فروغ پارہا ہے۔

چین نے یکم اکتوبر 1949ء کو آزادی حاصل کی تھی، اس وقت چین ایک پسماندہ ملک تھا، دنیا بھر کے غریب ترین ممالک میں اس کا شمار کیا جاتا تھا لیکن دنیا نے دیکھا کہ افیون کا نشہ کرنے والے چینیوں نے ترقی کی بلندیوں کو چھولیا۔ 70ء کی دہائی میں چین نے ترقی کی راہوں کو پانے کے لیے سوچنا شروع کردیا تھا اور 1980ء کے عشرے میں ڈینگ ڈاؤ پنگ کی قیادت میں بے شمار اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ چین بخوبی جانتا تھا کہ اس کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کی تعلیم کا فقدان ہے لہٰذا اسی امر پر توجہ دی گئی اور یوں چینی ماہرین بنتے چلے گئے جس سے چین میں صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔

چین کو مزید ترقی اور معاشی استحکام اس وقت نصیب ہوا جب برطانیہ نے 1997ء یکم جولائی کو ہانگ کانگ کا علاقہ واپس کیا۔ یہ چین کی ایک اور خوش نصیبی تھی لیکن اگر دیکھا جائے تو چین میں ہونے والے انتخابات میں منتخب شدہ صدر اور وزیراعظم نے چین کی ترقی کو آگے کی جانب ہی بڑھایا ہے۔ 1993ء میں جیانگ زی من صدر اور لی پنگ کو وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا، ان دونوں حضرات نے چین میں ترقی کی راہ پر اہم قدم رکھا اور آزاد مارکیٹ کا اصول اپنایا، اسی طرح سے اسٹاک مارکیٹ میں بھی تبدیلی کا عنصر آیا اور ریاستی کنٹرول کے اداروں کو مشترکہ اسٹاک کمپنیوں میں تبدیل کردیاگیا۔

1998ء میں چینی وزیراعظم نے ریاستی کنٹرول کے کاروبار کی نجکاری کا عمل شروع کیا۔ اس عمل سے قدیم چین کی روایات نے ترقی کی راہ پر مزید قدم بڑھائے اسی دوران یعنی 1999ء میں مکاؤ بھی چین کو مل گیا یہ ایک سابقہ پرتگیز کالونی تھی جسے حصے بخرے کرنے میں چین سے چھین لیا گیا تھا۔

چین نے تجارت و حرفت میں ترقی کے سفر کو جاری رکھا ایک عظیم آبادی رکھنے والے ملک کی حیثیت سے اسے بڑی آسانیاں حاصل تھیں اور وسائل بھی دستیاب تھے۔ ضرورت تھی تو اس بات کی کہ ان کے مال کو نئی مارکیٹوں کے سامنے فروخت کے لیے رکھا جائے۔ نومبر 2001ء میں چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن بن گیا اس سے چین کو مغربی ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کے حقوق حاصل ہوگئے۔

2002ء میں ہوجنتاؤ صدر بنے، جب کہ دین جیاباؤ وزیراعظم بنے ان دونوں کی سربراہی میں چین نے مزید ترقیوں کا سفر جاری رکھا، صنعت اور زراعت نے حیران کن ترقی کی۔ اس وقت چین کی جی پی ڈی 7262 بلین ڈالر تھی، شرح خواندگی 90 فی صد اور اس کی برآمدات 300 بلین ڈالر سے تجاوز کرچکی تھی۔

2017ء میں ہونے والے الیکشن میں صدر ژی جن پنگ کامیاب قرار پائے۔ گو چین میں بدلتے ہوئے سیاسی میدان اور پارٹیوں کے حوالے سے کچھ کشیدگی برقرار رہی تھی لیکن چین کی ترقی کا گراف رک نہیں سکا، ان چند دہائیوں میں چین نے زمین سے آسمان تک کا سفر طے کیا ہے اور اسے طے کرنے میں وہ تمام وسائل ساتھ رہے جس کی اسے ضرورت رہی اور جس سے ملک میں آبادی اور وسائل کے توازن کو برقرار رکھنے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا۔ افرادی قوت ہو یا صنعت و تجارت کا میدان دنیا بھر میں چین پیش پیش رہتا ہے۔

آج کا چین ایک طاقتور اور مضبوط چین ہے جسے 70ء کی دہائی میں غریب ترین کہہ کر رد کردیا جاتا تھا اب وہی ملک ترقی کی بلندیوں پر جا رہا ہے۔ اس کے منتخب نمایندے ہر بار آگے بڑھنے کی جد وجہد کرتے رہے اور اسی عمل نے دنیا بھرکی سپر پاورز کی صف میں لاکھڑا کیا ہے، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین جلد ہی امریکا کا ہم پلہ ہوجائے گا۔ امریکا چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو تشویش کی نظر دیکھتا ہے۔

ہم دوسرے ممالک کی ترقی دیکھ کر صرف آہیں بھرتے ہیں کیونکہ ہمارے لیے ترقی کی راہ پر چلنا کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہے لیکن کیا ہم اپنے ان منتخب نمایندوں سے بھی اچھی امید رکھ سکتے ہیں یا ہر بار کی طرح اس بار بھی مسائل کے انبار میں گھرا پاکستان دنیا بھر میں دہشتگردی، غربت اور تعلیم و بنیادی ضروریات کے حوالے سے حقارت کی نظروں سے دیکھا جائے۔

پچھلے چند برسوں میں مہنگائی کا گراف جس تیزی سے بلند ہوا ہے وہیں ملاوٹ، رشوت بازاری اور چائنا کٹنگ مافیا نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے۔ دودھ جیسی عام شے سے لے کر جان بچانے والی ادویات تک ملاوٹ کا شکار ہیں۔ رفتہ رفتہ ہم اسی ملاوٹ زدہ معاشرے میں سانس لیتے لیتے خوفناک بیماریوں میں گھرتے جارہے ہیں وہیں مذہب کا نام لے کر من مانی کرنے والے عناصر بھی اس قدر عام ہوچکے ہیں جو اپنے مقاصد کو مذہب کی آڑ میں استعمال کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل سے لے کر شب قدر کے کالج کے پرنسپل پروفیسر حریر کے قتل تک یہ عناصر منہ پھاڑ کر ہمارا مذاق اڑارہے ہیں۔ اخلاقی طور پر ہمارا معاشرہ انحطاط کا شکار ہوچکا ہے اس تنزل میں صرف میڈیا ہی نہیں میں آپ اور ہمارے حکمران بھی برابر کے شامل ہیں۔

جب ایم پی اے اور ایم این اے کے گارڈز اور ڈرائیورز سرعام لوگوں کو مارتے پیٹتے اور اپنی گاڑیوں سے روندتے چلے جاتے ہیں جب بڑے بڑے مجرم قاتل اور چور سیاسی پارٹیوں کے پرچموں میں چھپ کر پناہ حاصل کرلیتے ہیں جب سرکاری عمارات سے شراب کی بولتیں اور قابل اعتراض مواد برآمد ہوتے ہیں تو ایسے منتخب نمایندوں سے ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں۔

جب جاپان کا ایک منتخب نمایندہ کرپشن ثابت ہونے پر عوام کے سامنے اپنے گناہ پر پھوٹ پھوٹ کر روسکتا ہے تو کیا ہمارے نمایندے اپنے دلوں کو کچھ نرم کرکے کسی جلسے، کسی جلوس، کسی پنڈال میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’اے معصوم عوام! ہم سے بہت غلطیاں ہوئیں ہمیں معاف کردیں۔

اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا تو خدا بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا‘‘ اور ہمارے معصوم عوام ایک دُم ہلاتی دودھ دینے والی بھینس کی مانند معصومیت سے سر ہلاکر معاف کردیں گے اور پھر ایسا بھی ہوا کہ آنے والے وقتوں میں قلم پاکستان کی ترقی کی داستان تحریرکرے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔