اسلامی طویل مدتی فنانسنگ سہولت متعارف

بزنس ڈیسک  جمعرات 15 فروری 2018
1.5ارب روپے فنانسنگ حدمقرر، مدت 10سال سے زیادہ نہیں ہو گی، اسٹیٹ بینک
فوٹو: فائل

1.5ارب روپے فنانسنگ حدمقرر، مدت 10سال سے زیادہ نہیں ہو گی، اسٹیٹ بینک فوٹو: فائل

 کراچی:  برآمدکنندگان کی طویل عرصے سے موجود طلب کو پورا کرنے کے لیے روایتی طویل مدت فنانسنگ سہولت (ایل ٹی ایف ایف) کا شریعت سے ہم آہنگ متبادل فراہم کرنے کی خاطر بینک دولت پاکستان نے مضاربہ کی بنیاد پر اسلامی طویل مدت فنانسنگ سہولت (آئی ایل ٹی ایف ایف) متعارف کرادی ہے۔

اسٹیٹ بینک 2008 سے برآمدکنندگان کو درآمدی اور مقامی طور پر تیار کردہ پلانٹ اور مشینری کے لیے رعایتی فنانسنگ کے حصول کا موقع مہیا کرنے کے لیے کمرشل بینکوں اور ترقیاتی مالی اداروں کے ذریعے پلانٹ اور مشینری کی طویل مدت ری فنانس سہولت فراہم کررہا ہے تاہم اس کا کوئی شریعت سے ہم آہنگ متبادل موجود نہ تھا اس لیے یہ سہولت اسلامی بینکاری اداروں کے ذریعے حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔

آئی ایل ٹی ٹی ایف سے برآمد کنندگان کو اہل اسلامی بینکاری اداروں سے درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ نئے پلانٹ اور مشینری کی خریداری کے لیے اسٹیٹ بینک کی طویل مدت ری فنانس سہولت حاصل کرنے کا موقع ملے گا، یہ سہولت ان برآمدی منصوبوں کے لیے دستیاب ہوگی جن کی سالانہ برآمد کم از کم 50 لاکھ ڈالر یا مجموعی فروخت کا کم از کم 50 فیصد ہو، ان میں سے جو رقم بھی کم ہو۔

آئی ایل ٹی ٹی ایف کے تحت فنانسنگ کی مدت 10سال سے زیادہ نہ ہوگی جس میں زیادہ سے زیادہ 2سال کی رعایتی مدت بھی شامل ہے جبکہ اس سہولت کی فنانسنگ کے حصول کی زیادہ سے زیادہ حد 1.5 ارب روپے ہوگی۔

شریک اسلامی بینکاری ادارے اس سہولت کی منظوری دینے سے قبل اپنی فنانسنگ پالیسی کے مطابق ضروری جانچ پڑتال کریں گے اور یہ تمام عمل ہر قسم کے کسٹمر کے لیے اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ پروڈنشل ریگولیشنز سے مشروط ہو گا، اسلامی بینکاری ادارے اسٹیٹ بینک کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو درخواست دے کر اسکیم میں شریک ہوسکتے ہیں۔

اسکیم کے تحت روایتی بینکوں کی اسلامی بینکاری برانچیں بھی حد مختص کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو درخواست دے سکتی ہیں بشرطیکہ یہ حد آئی ایل ٹی ایف ایف کے تحت استعمال کے لیے ایل ٹی ایف ایف کی حد کے 20 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔