سعودی عرب فوج بھجوانے کے معاملہ پرپارلیمنٹ میں بحث

ویب ڈیسک  جمعـء 16 فروری 2018
وزارت خارجہ کو خط لکھنا چاہیے کہ اس معاملے پر ایوان میں وضاحت کی جائے، اسپیکر قومی اسمبلی۔ فوٹو:فائل

وزارت خارجہ کو خط لکھنا چاہیے کہ اس معاملے پر ایوان میں وضاحت کی جائے، اسپیکر قومی اسمبلی۔ فوٹو:فائل

 اسلام آباد: سعودی عرب میں پاک فوج کے مزید دستے بھجوانے کے معاملہ پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے جب کہ چیرمین سینیٹ نے وزیر دفاع کو پیر کے روز طلب کرلیا ہے۔

سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان کی توجہ سعودی عرب فوج بھجوانے کے معاملے کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مزید فوج بھجوانا ایک سنگین معاملہ ہے، آرمی چیف سے سعودی سفیر کی ملاقات کے بعد یہ اہم اعلان کیا گیا ہے جب کہ آرمی چیف نے سعودی عرب کا ایک غیر اعلانیہ دورہ بھی کیا تھا۔ چیرمین سینٹ رضا ربانی نے وضاحت کے لیے پیر کو وزیر دفاع کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فوج بھیجنے کے اہم معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کتنی فوج بھیجی جارہی ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : پاک فوج کے مزید دستے سعودی عرب بھیجے جائیں گے

دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پوائنٹ آف آرڈر پر تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے سعودی عرب فوج بھجوانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مزید فوج سعودی عرب بھجوانے کے معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے، جب سابق آرمی چیف جنرل(ر) راحیل شریف نے اسلامی اتحاد جوائن کیا تو اس وقت بھی ایوان سے اجازت نہیں لی گئی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : راحیل شریف کو این او سی جاری

پیپلزپارٹی کی رہنما نفیشہ شاہ نے سوال اٹھایا کہ مزید فوج بھجوانے کا مقصد کیا ہے، فوج کی تعیناتی کہاں ہوگی جب کہ اخباری خبر کے مطابق آرمی چیف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد مزید فوج بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کو خط لکھنا چاہیے کہ اس معاملے پر ایوان میں وضاحت کی جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔