نیب کا خیبر پختونخوا میں معدنیات، ہائی وے، ٹورازم اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا حکم

نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 17 فروری 2018
اہلکاروں کیخلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام، سوات ایکسپریس وے کے متاثرین کی رقم میں 40 کروڑ کا غبن۔ فوٹو: فائل

اہلکاروں کیخلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام، سوات ایکسپریس وے کے متاثرین کی رقم میں 40 کروڑ کا غبن۔ فوٹو: فائل

پشاور:  قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے مختلف عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ معدنیات، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی اور محکمہ سیاحت کے متعدد افسروں و اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔

نیب کے ریجنل بورڈ کا اجلاس پشاور میںڈی جی نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ خان کی زیرصدارت منعقدہ ہوا، اجلاس میں ڈائریکٹرز، ایڈیشنل ڈائریکٹرز، ڈی پی جی اے، کیس آفیسر، سینئر قانونی مشیر کے علاوہ متعلقہ افسران نے شرکت کی، ریجنل بورڈ نے متعلقہ افسروں کے خلاف الزامات کی تحقیقات کی منظوری دی۔

ملزموں پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی کان کنی کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا، بورڈ نے ایگزیکٹیوانجینئر، فاٹا کنسٹرکشن ڈویژن ٹیسکو کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائزاستعمال کی تحقیقات کی منظوری دی، ملزموں پرالزام ہے کہ انھوں نے 5 ٹھیکے ایک ہی ٹھیکے دار کو دیے، باوجود اس کے کہ وہ مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتا تھا۔

علاوہ ازیں ان پرکام شروع کرنے سے پہلے ہی ٹھیکے داروں کوادائیگی کرنے کا بھی الزام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔