امریکا سے تعلقات ٹھیک کرنے کے لیے پاکستان چین اور سعودیہ سے مدد لے گا

کامران یوسف  پير 19 فروری 2018
چین بطور ’’عالمی پلیئر‘‘ اور سعودی عرب واشنگٹن سے دوستی کے ناطے امریکا کو ہمارا موقف سمجھا سکتا ہے، سرکاری اہلکار۔ فوٹو : فائل

چین بطور ’’عالمی پلیئر‘‘ اور سعودی عرب واشنگٹن سے دوستی کے ناطے امریکا کو ہمارا موقف سمجھا سکتا ہے، سرکاری اہلکار۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد:  پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے چین اور سعودی عرب کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

باخبر سرکاری اہلکار کے مطابق اسلام آباد کی واشنگٹن کیساتھ تعلقات کی بحالی کی تمام کوششیں کوئی مثبت نتائج نہیں دے سکیں اورامریکا بھی  ہمارے تحفظات کو پوری طرح سے سننے کے لیے تیار نہیں تو ایسی صورت میں پاکستانی نقطہ نظر میں وزن لانے کیلیے چین اور سعودی عرب سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے صورت میں مزید بتایا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ چین بطور اہم انٹرنیشنل پلیئر ہمارے جائزہ تحفظات کے حوالے سے امریکا سے بات کر سکتا ہے۔ پاکستان کی امریکا کے حوالے سے اپنی بھی شکوؤں شکایتوں کی فہرست ہے لیکن اس وقت امریکا یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے کثیر جہتی اداروں کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔ جس کی تازہ مثال واشنگٹن کی پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کروانا ہے جو دہشتگردی کو فنانس کر رہے ہیں، کچھ ہفتوں پہلے امریکا نے برطانیہ کے ساتھ مل کر  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  کے ذریعے پاکستان کو عالمی دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ہونے والی ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے درخواست جمع کروائی ہے۔

پاکستان کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ اس ایشو پر امریکا اہم مغربی ممالک جرمنی، فرانس اور برطانیہ کو بھی اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک عالمی ادارہ ہے جو جی سیون (G-7) ممالک کے ایما پر بنایا گیا کہ جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی نگرانی کرتا ہے تاہم پاکستان اس ادارے کا براہِ راست رکن نہیں ہے اور اگلے ہفتے پیرس میں امریکا کی پاکستان کے خلاف درخواست پر غور کیا جائے گا، حالانکہ دفتر خارجہ اس اقدام کو سیاسی اقدام قرار دے چکا ہے جس کا اولین مقصد پاکستان کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنا ہے  اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے لیے پاکستان کو چین اور سعودی عرب کی مدد لینے کی نوبت پیش آئی۔

سرکاری اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ چین کس طرح سے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ اس کے اپنے  امریکا کے ساتھ تعلقات اتنے  مثالی نہیں ہیں تو اہلکار نے بتایا کہ بیجنگ اپنے طور پر واشنگٹن کو پاکستان کے حوالے سخت موقف میں تبدیلی لانے کے لیے قائل کرسکتا ہے۔

سفارتی تعلقات میں  بہتری کیلیے پاکستان سعودی عرب سے بھی درخواست کرچکا ہے کہ وہ  اس کے حوالے امریکی بیان بازی میں کمی لانے کے لئے اس سے بات کرے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریجک تعلقات نہایت مضبوط ہیں اس وجہ سے پاکستان کو امید ہے کہ ریاض اس حوالے سے ’’بڑی مدد‘‘ کر سکتا ہے۔

پاکستان کا حال ہی میں اضافی فوجی دستوں کو سعودی عرب بھیجنے کے فیصلے نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری اور پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے تاہم اس حوالے سے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس اقدام کے بعد امید کرتا ہے کہ سعودی عرب امریکا کو پاکستان پر دباؤ کم کرنے کے لئے قائل کرے گا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔