کون سا نعرہ ۔۔۔۔کس کو پیارا

عتیق احمد عزمی  اتوار 31 مارچ 2013
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جمہوریت کا حسن انتخابی عمل میں ہے اور انتخابی عمل کی رونق سیاسی کارکنوں کی سرگرمیوں کی مرہون منت ہے۔

اس بات پر تو ہر کوئی متفق ہے کہ سیاست ایک خشک اور صبرآزما عمل ہے، جس میں شریک ہر پارٹی یا سیاست داں کو اس وقت تک اپنی شکست کا یقین نہیں ہوتا جب تک کہ وہ ہار نہ جائے۔ اسی طرح فتح یاب فرد بھی اس وقت تک گومگوں کی کیفیت میں رہتا ہے، جب تک نتائج سامنے نہ آجائیں، لیکن اس تمام صورت حال سے قبل تمام جماعتیں یا سیاست داں جس طرح خود کو برتریا دوسرے کو کمتر یا غیر اہم دکھانے کے لیے انتخابی مہم برپا کرتی ہیں، اس کا اہم ترین پہلو دل چسپ اور نت نئے نعرے ہوتے ہیں۔ اشتہار کی مانند پھیلائے جانے والے یہ نعرے بعض مرتبہ سیاسی جماعتوں کا تعارف بن جاتے ہیں، درودیوار، بینروں اور کارکنوں کی زبان سے نکلے ہوئے یہی نعرے ہمارے مضمون کا موضوع ہیں۔

اگر ہم پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر نظر دوڑائیں تو واضح ہوتا ہے کہ مختلف شکلوں یا ضرورتوں کے تحت سب سے پہلے مارچ انیس سو اکیاون میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہوئے، جس کے بعد دسمبر انیس سو کیاون میں سرحد اسمبلی کے نمائندوں کو منتخب کیا گی۔ دو سال بعد مئی انیس سو تریپن میں سندھ اسمبلی معرض وجود میں آئی اور پھر انیس سو چَوّن میں اس وقت کی مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے انتخابات کرائے گئے۔ تاہم ان انتخابات میں ووٹنگ کی شرح اور معیار خاصا پست تھا اور ایک نوزائیدہ ملک کی حیثیت سے جہاں انتظامی مسائل بھی موجود تھے۔

انتخابی گہماگہمی بھی مفقود تھی، چناںچہ ان انتخابات میں کوئی قابل ذکر نعرہ یا اصطلاح نظر نہیں آئی۔ تاہم انتخابی عمل کے غیرشفاف ہونے کے باعث ان انتخابات کے لیے ’’جھرلو‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی جو دراصل دھاندلی، فراڈ، جعلسازی کے لیے مستعمل ہے۔ تاہم انیس سو چون میں پاکستان کی دوسری مجلس ساز اسمبلی وجود میں آئی جس پر انیس سو اٹھاون میں میجر جنرل اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر شب خون مارا اور سیاسی بساط لپیٹ کر ملک کا اولین مارشل لا لگادیا۔

بعدازاں ایوب خان نے انیس سو پینسٹھ میں صدارتی انتخابات کرائے، جس میں صدر کا انتخاب ان کے تجویز کردہ بنیادی جمہوریت (BD) کے نمائندوں نے کیا دو جنوری 1965 کوا ن انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے مابین صدارتی معرکہ ہوا جس میں عوام کی ہردل عزیز محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان نے انتظامی مشینری اور دھونس و دھاندلی کی مدد سے شکست دی اور اگلے پانچ سال کے لیے صدر بن گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین اور ایوب خان کا پھول تھا۔ اس مناسبت سے بڑے شہروں کی دیواروں پر یہ شعر نعرے کی صورت میں لکھا دکھائی دیتا تھا، ’’ایک شمع جلی جل جانے کو، ایک پھول کِھلا مرجھانے کو۔‘‘

اس کے علاوہ اس زمانے میں شائع ہونے والے ایک پوسٹر میں جو ایوب خان کی حمایت میں بنایا گیا تھا لکھا تھا ’’پھول یا شعلہ‘‘ اور ایک نعرہ یہ درج تھا،’’ملت کا محبوب۔۔۔ ایوب ایوب۔۔۔۔صدر ہو کون۔۔۔۔ ایوب ایوب۔‘‘ تاہم ان انتخابی نتائج سے عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور محض تین سال بعد ہی جنرل ایوب خان کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔

یہیں سے سیاسی بنیادوں پر نئے نعروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ اس وقت کا مشہور اور مقبول نعرہ ’’ایوب کتا ہائے ہائے‘‘ تھا، جب کہ انتظامی مشینری کے بے دریغ استعمال پر عوام کی جانب سے ایوب خان کے دور حکومت کی نفی میں ’’نوکر شاہی مردہ باد‘‘ کا نعرہ بھی لگتا تھا۔ ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی اس احتجاجی لہر کا اختتام اس وقت ہوا جب پچیس مارچ انیس سو انہتر کو جنرل یحییٰ خان نے جنرل ایوب خان کی حکومت کا بستر گول کردیا اور انہیں معزول کر کے آئین معطل کردیا اور اگلے برس یعنی انیس سو ستر میں انتخابات کرانے کا عندیہ دیا۔

انیس سو ستر کے انتخابات کو مبصرین اپنی انفرادیت اور غیرجانب داری کے باعث اب تک کے سب سے عمدہ انتخابات قرار دیتے ہیں۔ ان اتخابات میں کئی منفرد اور طویل عرصے تک زندہ رہنے والے نعرے وجود میں آئے، جن میں سب سے اہم اور منفرد سیاسی نعرہ پیپلز پارٹی نے دیا، جس کی تکمیل آج بھی پیپلز پارٹی پر واجب ہے۔ یہ نعرہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا تھا۔ 1970کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی آمد جہاں روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے سے ہوئی تو دوسری طرف پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر شیخ محمد رشید، جو اپنے نظریات کے باعث بابائے سوشلزم کہلاتے تھے، نے اپنی انتخابی مہم میں ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے‘‘ کا نعرہ بلند کرکے بائیں بازو کے حلقہ انتخاب میں پسندیدگی کی سند حاصل کرلی۔ اس کے برخلاف ایک اور کہنہ مشق سیاست داں اور اسلامی نظریات کے حامی جماعت اسلامی کے امیدوار میاں محمد طفیل نے ’’اسلامی نظام‘‘ کے نفاذ کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ بنایا، جب کہ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ کے دل فریب نعرے کو بھی پھیلاکر داد سمیٹ رہے تھے۔

انیس سو ستر کے انتخاب میں ایک اور اہم بات یہ نظر آتی ہے کہ ان انتخابات میں بہت سی ایسی نظمیں بھی جلسوں اور جلسوں میں پڑھی جاتی تھیں جو بنیادی طور پر نعروں کا روپ لیے ہوتی تھیں، مثلاً بائیں بازو کے سیاست داں منفرد شاعر حبیب جالب کی ایک نظم ’’خطرے میں اسلام نہیں‘‘ کو لوگ بہت ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ یہ نظم ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں بھی بالکل حسب حال نظر آتی ہے۔ اس نظم کے کچھ مصرعے اس طرح تھے:

خطرہ ہے زرداروں کو

گرتی ہوئی دیواروں کو

صدیوں کے بیماروں کو

خطرے میں اسلام نہیں

خطرہ ہے خوں خواروں کو

رنگ برنگی کاروں کو

امریکا کے پیاروں کو

خطرے میں اسلام نہیں

بعد ازاں اس نظم کے ایک مصرعے ’’گرتی ہوئی دیواروں کو‘‘ ’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو‘‘ کے نعرے کی شکل میں ہر اس سیاسی جماعت نے استعمال کیا جو اپنی سیاسی پوزیشن کو دوسری سیاسی جماعتوں سے بہتر سمجھتی تھی۔ یاد رہے کہ حبیب جالب کے کئی اشعار اور نظمیں ضرب المثل بن کر سیاست کے افق پر چمکتی رہی ہیں، جن میں ضیاء الحق کے دور میں ’’ ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا ‘‘ اور بے نظیر کے دور میں، ’’ وہی حالات ہیں فقیروں کے، بدلے ہیں دن فقط وزیروں کے‘‘ شامل ہیں۔

1970کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی ایک نوزائیدہ پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی، چناں چہ اس کے زیرک لیڈر ذوالفقارعلی بھٹو نے عوام کے سامنے پارٹی کو غریبوں کی ہمدرد جماعت یا غریبوں کی نمائندہ جماعت ثابت کرنے کے لیے عوام سے انتخابی اخراجات پورے کرنے کے لیے امدادی رقم کی اپیل کی۔ اس اپیل کو بھی نعرے کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے ’’بھٹو کو ووٹ دو، پی پی کو نوٹ دو‘‘ کا مشہور نعرہ لگایا جاتا تھا۔ اس دوران بھٹو کے لیے’’فخر ایشیا‘‘ اور ’’قائد عوام‘‘ جیسے لقب نعرے کی صورتوں میں معرض وجود میں آچکے تھے۔

انیس ستر کے انتخابات کے دوران ایک ایسا پوسٹر بھی شائع کیا گیا تھا جس میں ذوالفقار علی بھٹو گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے مجاہد کی مانند دنیا فتح کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس پوسٹر پر شائع ہونے والا نعرہ ’’دنیا تیرے نال، بھٹو جئے ہزاروں سال‘‘ پورے طمطراق سے درج تھا۔ انہی انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی نے عوام کی صفوں میں اپنے منشور کو جن نعروں کی شکل میں پیش کیا ان میں ’’اسلام ہمارا مذہب، جمہوریت ہماری سیاست، سوشل ازم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ شامل تھے۔

1970کے الیکشن میں جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ’’ترازو‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں نے نعرہ ’’جُھک گئی گردن کٹ گیا بازو، ہائے ترازو ہائے ترازو‘‘ کا نعرہ بنایا تھا، جب کہ جماعت اسلامی کے کارکنان اس نعرے کے ردعمل میں بھرپور جوش و خروش سے’’لائو ترازو تول کے دیکھو، ساڈا پلہ بھاری ہے‘‘ کا نعرہ بلند کرتے تھے۔ تاہم انتخابات کے نتائج اور اقتدار کی منتقلی میں لیت ولعل کے باعث سانحہ مشرقی پاکستان وقوع پذیر ہوا۔ اگرچہ اس سانحے کی اطلاع مشرقی پاکستان کی دیواروں پر لکھا نعرہ ’’جے بنگلا ‘‘دے چکا تھا۔ تاہم بھٹو صاحب اسے نظر انداز کرکے ’’ہزار سال تک لڑیں گے‘‘ کے نعرے سے مغربی پاکستان کے عوام کو تسلی دے رہے تھے۔ انیس سو ستر ہی کے الیکشن میں علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علماء پاکستان کا انتخابی نشان ’’چابی‘‘ تھا۔ نشان کی نسبت سے JUPکے کارکنوں کا نعرہ ’’چابی جنت کا تالا کھولے گی‘‘ تھا۔

ان انتخابات میں کام یابی کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو نے 7جنوری1977کو اگلے انتخابات کا غیر متوقع اعلان کیا تو حزب اختلاف کی نو جماعتوں نے 10جنوری 1977کو اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا نام ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ منتخب کیا گیا، جس نے انتخابی نشان ’’ہَل‘‘ کے ذریعے انتخابات میں حصہ لیا۔ تاہم انتخابات کے نتائج کو قومی اتحاد نے تسلیم نہیں کیا اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کردی، جس کا مقبول نعرہ ’’گنجے کے سر پر ہل چلے گا گنجا سر کے بل چلے گا‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ الیکشن کی گرما گرمی میں ’’ہل نے مچا دی ہلچل ہلچل‘‘ کا نعرہ بھی سنائی دیتا تھا۔

اس نعرے کے خالق ’’مولوی ہلچل‘‘ کے نام سے پکارے جاتے تھے، جن کا اصل نام محمد ریاض تھا، چوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی کافی تعداد تھی، چناں چہ کمیونزم کے حامی یہ کارکنان انتخابی مہم میں ’’سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے‘‘ کے نعرے بلند کرتے دکھائی دیتے تھے، تو دوسری طرف قومی اتحاد کے دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے کارکنان واشگاف آواز میں ’’ سبز ہے سبز ہے ایشیا سبز ہے ‘‘ کے نعرے لگا کر ماحول کو گرماتے تھے۔

بعدازاں پاکستان قومی اتحاد باضابطہ طور پر ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ میں تبدیل ہوگئی اور یہی اس کا امتیازی نعرہ بھی بن گیا۔ تاہم تحریک کا انجام اپنے مطلوبہ ہدف کے بجائے5جولائی 1977کو ضیا الحق کے لگائے گئے مارشل لا کی صورت میں سامنے آیا، جس کے منفی اثرات آج تک محسوس کیے جارہے ہیں اور پھر بالآخر 4اپریل1979کو بھٹو کو پھانسی کے پھندے کے حوالے کردیا گیا اور قوم ایک نئے نعرے ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ سے متعارف ہوئی۔ اسی طرح1977 میں جب ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کی تصاویر پر غیراعلانیہ پابندی تھی تو اس وقت یہ نعرہ بہت مقبول تھا،’’بھٹو کی تصویر بے نظیربے نظیر۔‘‘

یکم دسمبر1984کو ضیاء الحق نے اپنے صدر منتخب ہونے کے لیے ریفرنڈم کا اعلان کیا اور جب 19دسمبر کو ریفرنڈم ہوا، جس کا پیپلزپارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے ’’ایم آرڈی‘‘ کے پلیٹ فارم سے بائیکاٹ کیا تو ریفرنڈم والے دن ہر طرف سناٹے کا راج تھا۔ اس صورت حال میں حبیب جالب کا یہ شعر زبان زد خاص و عام تھا،’’شہر میں ہو کا عالم تھا، جن تھا یا ریفرنڈم تھا۔‘‘ اس کے باوجود ضیاء الحق اگلے پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوگئے جس کے بعد انہوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کا اعلان کردیا، جس کا ایم آر ڈی نے بائیکاٹ کیا۔ تاہم الیکشن ہوئے او ر قومی اور صوبائی اسمبلیاں معرض وجود میں آگئیں۔ چوں کہ یہ الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھیِ، لہٰذا ہر امیدوار کا اپنا نشان اور اپنا نعرہ تھا۔ انہی دنوں ان مارشلائی الیکشنوں کے طفیل نوازشریف پنجاب کے اور غوث علی شاہ سندھ کے وزیر اعلی منتخب ہوئے او ر محمد خان جونیجو وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جب 1977کے الیکشن میں سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش کے باعث ضیاء الحق کو مارشل لا لگانے کا موقع ملا تو کئی دل جلے یہ نعرہ لگاتے تھے ’نہ ہل آیا نہ آئی تلوار، آگئی مونچھاں والی سرکار۔‘‘ واضح رہے کہ قومی اتحاد کا انتخابی نشان ہل اور پیپلزپارٹی کا نشان تلوار تھا جب کہ ضیاء الحق کے چہرے پر ا ن کی مونچھیں نمایاں تھیں۔ اس کے علاوہ ضیاء الحق اپنی آنکھوں میں سرمہ لگاتے تھے، جس کی وجہ سے من چلوں نے لاہور کی سڑکوں پر ضیاء الحق حکومت کے لیے ’’ سُرمے والی سرکار‘‘ کی چاکنگ کی تھی۔ پی این اے کی تحریک کے دوران ایک اور نعرہ بھی کافی مقبول تھا ’’ ہل ہمارا دوست ہے تلوار ہماری دشمن ہے۔ ‘‘

ضیاء الحق کے مداح ضیاء الحق کی مدح سرائی ’’مرد مومن مرد حق ضیاء الحق ضیاء الحق‘‘ کے نعرے سے کرتے تھے۔ ضیاء دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنان، بھٹو ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں، امریکا کا جو یار ہے غدار غدار ہے، ضیا جاوے ای جاوے، نہ جھکنے والی بے نظیر نہ بکنے والی بے نظیر، کے نعروں سے اپنے غم کم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے جب کہ ضیاء الحق ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کے نعرے سے سیاست دانوں کو ڈرانے میں مصروف رہے۔

ضیاء الحق کے فضائی حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے 16نومبر1988کو عام انتخابات کرائے جس میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتحابات ہونے تھے، لہٰذا قومی اسمبلی کے انتخاب میں پیپلزپارٹی کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے پنجاب میں ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، جو ابھی تک اس کے دامن پر داغ کی شکل میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بے نظیر جب 1986میں ضیا دور میں لاہور آئیں تھیں تو ’’بے نظیر آئی ہے انقلاب لائی ہے اور جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا‘‘ کارکنوں کے پسندیدہ نعرے تھے۔ تاہم جب 6اگست 1990کو بے نظیر کی حکومت برطرف کردی گئی او ر نگراں وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی نے حلف اٹھایا، تو ملک کی سیاسی فضائوں میں ’’یا اﷲ یا رسولؐؐ بے نظیر بے قصور‘‘ کا نعرہ گونجتا رہا۔

6اکتوبر1988کو وجود میں آنے والے اسلامی جمہور ی اتحاد نے 1990کے الیکشن میں سائیکل کے نشان کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے نعرہ لگایا،’’اپنی قسمت آپ بنائیں سائیکل پر مہر لگائیں‘‘ جب کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے مختلف نعروں میں ایک نعرہ یہ بھی تھا، ’’توڑ ظلم کا غرور یا اﷲ یا رسولؐؐ۔‘‘ اس الیکشن میں پیپلزپارٹی اور اس کے پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کو آئی جے آئی کے مقابلے میں شکست ہوئی اور نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ اس دوران ’’مولوی ہلچل‘‘ جو 1977میں ہل کے نشان کے حوالے سے پاکستان قومی اتحاد کے لیے نعرے لگاتے تھے، وہ نواز شریف کی حمایت میں یہی نعرہ اپنے مخصوص انداز میں کچھ اس طرح لگاتے تھے،’’میاں نے مچا دی ہلچل۔‘‘

تاہم اپریل1993میں نواز شریف کی حکومت غلام اسحاق خان نے برطرف کردی۔ اس واقعے کے فوری بعد جماعت اسلامی نے پاکستان اسلامک فرنٹ بنالیا اور نواز شریف سے علیحدہ ہوگئی۔ تاہم نواز شریف کی حکومت کچھ ہی دنوں بعد بحال کردی گئی۔ سیاسی جماعتوں میں کشیدگی کے باعث چیف آف آرمی اسٹاف نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے معین قریشی کو نگراں وزیراعظم بنوادیا، جنہیں قاضی حسین احمد ’’امپورٹڈ وزیراعظم‘‘ کہتے تھے۔ آئی جے آ ئی کے نو جماعتوں والے اتحاد، جس کا نشان سائیکل تھا کا ایک مقبول نعرہ ’’نو ستارے سائیکل نشان، جیوے جیوے پاکستان‘‘ تھا۔

نگراں وزیر اعظم معین قریشی نے اکتوبر1993میں الیکشن کرائے جس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر بے نظیر وزیراعظم منتخب ہوگئیں اور فاروق لغاری صدر منتخب کیے گئے۔ بے نظیر کی انتخابی مہم کے دوران ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ، چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر اور جئے بھٹو جئے پاکستان‘‘ کے نعرے تواتر کے ساتھ سنائی دیے۔ تاہم بدقسمتی سے جمہوریت کا تسلسل ٹوٹ گیا اور 1996میں فاروق لغاری نے بے نظیر کی حکومت ختم کرکے معراج محمد خان کو نگراں وزیراعظم بنادیا، جنہوں نے اگلے سال 1997میں الیکشن کروائے۔ ان انتخابات میں نوازشریف بھاری اکثریت سے وزیر اعظم بن گئے۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی نشری تقریر میں قوم کو یہ نعرہ دیا،’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ جب کہ پیپلز پارٹی کی صفوں سے ایک مرتبہ پھر ’’یا اﷲ یا رسول بے نظیر بے قصور‘‘ کی دہائی دی جانے لگی۔

12اکتوبر1999کو نوازشریف کی حکومت اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف پرویز مشرف سے تنازعے کے بعد ختم ہوگئی اور پرویزمشرف چیف ایگزیکٹیو بن گئے۔ بعدازاں 2002 میں ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے صدر بن گئے، جب کہ اکتوبر2002میں عام انتخابات ہوئے نومبر2002میں پرویز مشرف نے منتخب صدر کا حلف اٹھایا، جب کہ میر ظفر اﷲ جمالی وزیراعظم بن گئے اور پاکستان کی عوام نے ایک نیا نعرہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی بازگشت سنی۔

اس دوران جب بے نظیربھٹو2007میں نو سال بعد کراچی میں اتریں تو نعرے لگائے گئے ’’بے نظیر آئی ہے، حکومت لے آئی ہے‘‘ اور ایسا ہی ہوا، جب کہ لاہور میں پیپلز پارٹی کے ایک دیرینہ کارکن معظم علی معظم کا نعرہ’’ بھٹو دے نعرے وجن گے‘‘ بھی مقبول ہورہا تھا۔ یہی نعرہ بعض مواقع پر میاں نواز شریف کے کارکن ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ کی صورت میں بھی لگاتے رہے۔ الیکشن سے قبل بے نظیر بھٹو ایک قاتلانہ حملے میں شہید کردی گئیں، تو شدت غم میں گھرے کارکنان ’’تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ اور ’’ زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘ کا نعرہ لگاتے دکھائی دیے۔ واضح رہے کہ یہ نعرہ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹوں شاہنواز اور مرتضی کے قتل ہونے پر بھی لگایا گیا تھا۔

پیپلزپارٹی کا 18فروری 2008کو ہونے والے الیکشن کا نعرہ ’’علم، روشنی سب کو کام، روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘ تھا، جسے آج بھی پاکستان کا عام شہری حیرت سے سن رہا ہے۔ اس الیکشن میں نواز شریف کا انتخابی نشان شیر تھا لہذا ایک بہت مقبول نعرہ ’’ دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا‘‘ تھا۔ اس وقت کے مقبول نعروں میں قدم بڑھائو نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں، شیر کو ووٹ، نواز شریف کو ووٹ۔ پاکستان کو ووٹ اور ایک اور مشہور نعرہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ بھی مسلم لیگ نون سے منسوب کیا جاتا رہا۔ اس دوران آصف علی زرداری نے بحیثیت صدر پاکستان نو ستمبر2008کو حلف اٹھایا تو ’’ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ کا نعرہ گونجا۔

اس سے قبل آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ’’پاکستان نہ کھپے‘‘ کے نعرے کو بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ ’’ پاکستان کھپے ‘‘ کے نعرے میں تبدیل کرکے سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا تھا اور اسی تسلسل میں جب وہ صدر اور ان کی پارٹی حکومت بنانے میں کام یاب ہوگئی تو آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے بے نظیربھٹو کی طرف سے منسوب ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا جملہ ایک نعرے میں تبدیل کردیا، لیکن دوسری جانب پیپلز پارٹی کا عام کارکن اب تک یہ نعرہ لگا رہا ہے ’’بے نظیر ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ اور ’’شہید جمہوریت بھٹو‘‘ شہید جمہوریت بے نظیربھٹو‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہے، لیکن پیپلزپارٹی کے مخالفین ’’رج کے لٹو جیے بھٹو‘‘ اور ’’اگلی باری پھر زرداری‘‘ کا طنزیہ نعرہ لگاتے ہیں۔

کراچی کی سیاست کا ذکر اب متحدہ قومی موومنٹ کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔8اگست1986کو الطاف حسین کی قیادت میں قائم ہونے والی اس جماعت نے کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے پہلا جلسہ کیا، جس نے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد نعرۂ مہاجر جیے مہاجر، مہاجروں کے دل کا چین الطاف حسین جیسے نعرے کراچی اور شہری سندھ میں لگائے جانے لگے۔ تاہم 26جولائی1997کو مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہونے والی اس جماعت کے نعروں میں تیزی سے بدلتے حالات اور واقعات کے باعث تبدیلی دیکھی گئی، جن میں حقوق یا موت، قائد کے فرمان پر جان بھی قربان ہے، ہم نہ ہوں ہمارے بعد الطاف الطاف، حق کی کھلی کتاب الطاف، ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہیے، کے نعرے سنائی دیے، جب کہ نعرۂ الطاف جیے الطاف اور جیے متحدہ کے نعرے بھی متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کے مقبول نعرہ بن گئے۔

یاد رہے کہ پیپلزپارٹی نے گذشتہ انتخابات میں پانچ E یعنی ایمپلائمنٹ، ایجوکیشن، انرجی، انوائرمنٹ اور ایکویٹی کو بھی اپنے سیاسی نعروں میں شامل کیا تھا، جب کہ مسلم لیگ نون نے پانچ Dیعنی ڈیموکریسی، ڈیولپمنٹ، ڈیولوشن، ڈائیورسٹی اور ڈیفنس دیے تھے، اگرچہ یہ نعرے نہیں تھے مگر ان کی حیثیت نعروں سے زیادہ نظر نہیں آئی۔

مختلف مواقع اور پارٹیوں کی جانب سے گاہے بگا ہے جو نعرے بلند ہوتے رہے ان میں جماعت اسلامی ’’ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘ رب کی دھرتی پر رب کا نظام‘‘ ’’ظالمو قاضی آرہا ہے‘‘،’’سیدی مرشدی مودودی مودودی‘‘، ’’مدینے جیسی فلاحی ریاست کا قیام‘‘،’’تبدیلی کے تین نشان اﷲ محمدؐ اور قرآن‘‘ کے علاوہ ان گنت نعرے ہیں، جن میں نہ صرف عمدہ شاعری ہوتی تھی بلکہ نعرہ لگاتے وقت سر اور تال کا بھی خیال رکھا جاتا تھا اور مخصوص نعرہ لگواتے ہوئے کہا جاتا تھا،’’ذرا زور سے بولو، ذرا دھیرے دھیرے ، زرا مدھم مدھم ، ذرا چیخ کے بولو، ذرا ہوش سے بولو، ذراجوش سے بولو، ذرا لیٹ کے بولو، ذرا بیٹھ کے بولو‘‘ وغیرہ جیسے کم آہنگ سے بلند آہنگ والے نعرے شامل تھے۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر منور حسن کے حوالے سے انتخابی نعرہ بہت مشہور تھا،’’گلی گلی چمن چمن منور حسن منور حسن‘‘ اسی طرح ایک اور نعرہ ’’صبح منور شام منور روشن تیرا نام منور ‘‘بھی کراچی کی دیواروں لکھا دکھائی دیتا تھا، تو جمعیت علمائے پاکستان کے کارکنان ’’حق و صداقت کی نشانی شاہ احمد نورانی‘‘ کا نعرہ بلند کرتے تھے۔

1990اور 2002کے الیکشن میں حصہ لینے والی طاہر القادری کی جماعت’’پاکستان عوامی تحریک PAT‘‘کا نعرہ ’’عوام سب سے پہلے‘‘ اور ’’جرأت و بہادری طاہر القادری‘‘ تھا، جب کہ ان کی موجودہ مہم جوئی کا اہم نعرہ ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ ہے۔ پاکستانی عوامی تحریک سے ملتا جلتا نعرہ پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ ہے، جب کہ حالیہ دنوں میں پرویز مشرف کے وطن واپسی کے مختلف خیر مقدمی بینروں پر ’’اس پر وطن فخر کرے پاکستان کی جو قدر کرے ‘‘ کے نعرے لکھے گئے ہیں۔ مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے ایک نعرہ ’’بھیج پگارا‘‘ لگایا جاتا ہے، جو دراصل پیرپگارا کی حُر جماعت کا نعرہ ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں کراچی کی سڑک شارع فیصل پر ایک ہورڈنگ پر ’’جیے بھیج پگارا، جیے راجہ سائیں‘‘ لکھا ہے۔

ایک اور نعرہ جو بلدیاتی نظام کے حوالے سے مسلم لیگ (ف) کی جانب سے لگایا جارہا ہے وہ ’’ ایک نظام ایک سندھ‘‘ پر مبنی ہے۔ 25اپریل1996کو وجود میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کا اہم ترین نعرہ ’’انصاف، انسانیت، خودداری‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ’’آئو مل کر بنائیں ایک نیا پاکستان‘‘ اور’’ تبدیلی کا نشان عمران خان ‘‘ قابل ذکر نعرے ہیں، جب کہ گذشتہ برس مینار پاکستان کے جلسے کے لیے شائع شدہ پوسٹر پر نعرہ لکھا گیا،’’تب پاکستان بنایا تھا اب پاکستان بچائیں گے‘‘، ’’ملک بچانے نکلے ہیں آئو ہمارے ساتھ چلو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ یاد رہے جب پرویز مشرف اور عمران خان ہم رکاب تھے تو ’’عوام کی ہے ایک ہی رائے مشرف و عمران ہی آئے‘‘ کا نعرہ بھی لگایا جاتا تھا۔

پیپلز پارٹی اپنی موجودہ انتخابی مہم 2013کا نعرہ دے رہی ہے ’’ حق ملا عوام کو بدلا ہے نظام کو‘‘ اس کے علاوہ ’’ روٹی کپڑا اور مکان، علم صحت سب کو کام، دہشت سے محفوظ انسان، اونچا ہو جمہور کا نام‘‘ بھی موجودہ انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ ہے، جب کہ نون لیگ کے نعروں میں ’’ہم بدلیں گے پاکستان‘‘،’’بدلا ہے پنجاب اب بدلیں گے پاکستان‘‘ اور ’’مضبوط معیشت مضبوط پاکستان اور خوددار، خوش حال، خودمختار پاکستان‘‘ شامل ہیں۔ مذکورہ تمام نعروں میں ایک نہایت اہم نعرہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا نعرہ ’’انتخابات۔ آزادانہ، منصفانہ، غیرجانب دارانہ‘‘ بھی ہے، کیوں کہ ایک مستحکم اور باشعور پاکستان کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔

جہاں تک وہ نعرے جن کے استعمال کے حقوق ہر ایک کے لیے ہیں یا دوسرے معنوں میں جنہیں ہر پارٹی اپنی سہولت کے مطابق کھینچ تان کر استعمال کرسکتی ہے، ان سدا بہار نعروں میں سرمایہ داری ٹھا، جاگیر داری ٹھا، ۔۔۔ساڈا شیراے باقی ہیر پھیراے، خون رنگ لائے گا، چلو چلو۔۔۔۔ چلو، تیری جرأت کو سلام، تھالی کا بیگن، جب تک سورج چاند رہے گا۔۔۔۔۔تیرا نام رہے، جو۔۔۔ سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائے گا، جیتے گا بھئی جیتے گا۔۔۔۔۔جیتے گا، ظالمو جواب دو خون کا حساب دو ، چہرے نہیں نظام کو بدلو، ۔۔۔۔آگیا میدان میں ہو جمالو وغیرہ ان لاتعداد نعروں کے علاوہ ہیں جو ہر سیاسی جماعت کا کارکن اپنے امیدوار کے نام سے ملتے جلتے قافیے کی بنیاد پر اپنے انتخابی حلقے میں لگاتا ہے اور جس کا لطف اس حلقے یا مخصوص ماحول میں جاکر ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

اگرچہ خون کو گرمانے والے یہ نعرے جو انتخابی سرگرمیوں کا طرۂ امتیاز ہوتے ہیں ان کے بارے میں ایک بینر بنانے والے پینٹر کا کیا خوب کہنا ہے کہ ’’الیکشن لڑیں یا لڑائیں بینر اور پوسٹر ہم سے بنوائیں‘‘ بالکل اسی طرح ہمارا سیاست دانوں سے کہنا ہے الیکشن جیتیں یا ہاریں’’ پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے کو کبھی نہ بھولیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔