لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اورمریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر کا ریکارڈ طلب کرلیا

ویب ڈیسک  پير 19 فروری 2018
پیمرا کے متعلقہ ذمہ دار افسر کو ریکارڈ سمیت 23 فروری کو پیش ہونے کا حکم فوٹو:فائل

پیمرا کے متعلقہ ذمہ دار افسر کو ریکارڈ سمیت 23 فروری کو پیش ہونے کا حکم فوٹو:فائل

 لاہور: ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی متفرق درخواست پر پیمرا افسر کو عدلیہ مخالف تقاریر کے ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی متفرق درخواست کی سماعت کی۔ لاہور ہائیکورٹ نے میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے متعلقہ ذمہ دار افسر کو ریکارڈ سمیت 23 فروری کو طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ پیمرا وضاحت کرے کہ عدلیہ مخالف مواد روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے۔

درخواست گزار آمنہ ملک نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف اور مریم نواز اپنے بیانات اور جلسوں میں کی جانے والی عدلیہ مخالف تقاریر کے دوران مسلسل توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں، دونوں سیاست دان پاناما فیصلے کی آڑ میں اداروں کی تضحیک کر رہے ہیں، عدلیہ مخالف تقاریر پر پیمرا اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرنے پر ناکام رہا، عدالت نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہوئے پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے سے روکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔