سچا اور امانت دار

کامران عزیز  منگل 20 فروری 2018

سچ کیا ہے، کیا کوئی آج سچا اور امانت دار ہوسکتا ہے یا نہیں اور اگر نہیں ہوسکتا تو پھر جھوٹ کی قانونی حیثیت بنتی ہے یا نہیں، کیا انسان آدھا جھوٹا اور آدھا سچا ہوسکتا ہے یا کیا جھوٹ کسی بھی معاشرے یا فورم پر برداشت کیا جاسکتا ہے، کیا جھوٹ کو کسی طرح کوئی گنجائش دینی چاہیے یا نہیں؟

تنخواہ ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد حامی اور مخالف کیمپوں کے ردعمل سے ایسے سوالات ابھر کر سامنے آئے ہیں، مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر آئین سے آرٹیکل 62 اور 63 کو نکال دیا جائے تو کیا امانت و سچائی کردار کی عظمت نہیں رہے گی اور کیا جھوٹ بولنے سے کسی عہدے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کیا جھوٹا سچا کسی بھی کردار کا شخص عوامی نمایندگی کا اختیار حاصل کرلے گا؟

عدالتی فیصلے کے بعد متاثرہ شخص کی بیان بازی سے قطع نظر اس معاملے پر بحث ضروری ہے کہ سچ کی اہمیت کیا ہے، کیا اس کی صرف مذہبی حیثیت ہے اور کیا مقدس ہستیوں کے علاوہ کوئی شخص سچا نہیں ہوسکتا؟ دیکھا جائے تو سچ ایک کائناتی حقیقت ہے جو انسان کے قول وفعل سے ثابت ہوتی ہے، انسان کا کردار اس کا تعین کردیتا ہے، سچ اور جھوٹ چھپ نہیں سکتے، تاریخ کو چھوڑ کر حال میں بھی اقوام عالم پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ سچ کے لیے کسی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ جھوٹ ثابت ہونے پر اس کے اثرات کی نوعیت کے مطابق تادیبی کارروائیاں کی جاتی ہیں، مگر جھوٹے کی کسی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں۔

دروغ گوئی کو کسی بھی سطح پر پسند نہیں کیا جاتا بلکہ اگر کسی شخص پر جھوٹ کا داغ لگ جائے تو وہ منہ چھپانے کے قابل بھی نہیں رہتا، امریکی و یورپی معاشرے میں بھی جھوٹا برداشت نہیں کیا جاتا، مغرب میں جھوٹ تو الگ اگر کوئی الزام بھی لگ جائے تو متعلقہ شخص عوامی عہدے سے الگ ہو کر اس کا سامنا کرتا ہے۔ گویا سچ بولتی حقیقت ہے، قول و فعل کے تضاد کو اگر برداشت کرلیا جائے تو یہ معاشرے کی تباہی وبربادی کا سامان ہے، یہاں ہر شخص امین ہے اور کسی نہ کسی نہج پر کوئی امانت سنبھالے ہوئے ہے، ہر شخص بطور امانت دار معاشرے میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا ہے اور جو شخص اپنی حیثیت کے مطابق کردار ادا نہیں کرتا وہ معتوب ٹھہرتا ہے۔

اگر والدین اپنی ذمے داریاں ادا نہ کریں تو ان کی نااہلی وغفلت کا خمیازہ اولاد بھگتتی ہے اور ان کی تربیت میں کمی کا خمیازہ پورا معاشرہ سہتا ہے۔ اگر بلدیاتی ادارے اپنی ذمے داریاں ادا نہ کریں تو ان کی نااہلی سڑکوں پر نظر آتی ہے، اگر ڈرائیور قانون کی پاسداری نہ کرے تو حادثے کے نتیجے میں اس کی نااہلی سامنے آتی ہے، اگر استاد مدرسوں میں پڑھانے کے بجائے طالب علموں کو امتحان میں پاس ہونے کے گر سمجھانے لگیں تو نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں، اگر ریاست عوام کی جان ومال کا تحفظ نہ کرے تو سڑکوں پر لاشیں ملتی ہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ انسان کو عزت، وقار، تحفظ، بھروسہ اور اعتماد اور زندگی گزارنے اور اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہونے کے بہترین اصول سکھاتا ہے اور اس کا کردار دوسروں کے لیے مثال ہوتا ہے۔ معاشرے کی کوتاہیاں اپنی جگہ مگر مغرب میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جہاں بہترین انسانی اقدار یعنی سچ اور امانت کا پاس کیا جاتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ سچی اور امانت دار تو صرف پیغمبر و رسول کی ذات ہے اور اس کے علاوہ کوئی سچا اور امانت دار نہیں ہوسکتا۔ یہ کاملیت کے حوالے سے ایک حقیقت ہے مگر اسے کسی کے جھوٹ سے صرف نظر کرنے کے لیے عذر نہیں بنایا جاسکتا۔

مانا کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے مگر معلوم ہونا چاہیے کہ جب تک کسی شخص پر کوئی الزام نہ ہو تب تک معاشرے کا ہرشخص سچا اور امانت دار کہلاتا ہے اور اگر اس اصول کو چھوڑ دیا جائے تو معاشرہ کسی صورت پنپ نہیں سکتا اور ایک دوسرے سے کوئی معاملہ بھی نہیں کیا جاسکتا، چونکہ ہرشخص جھوٹا اور بے ایمان ہوگا تو معاشرے کا چلن بھی جھوٹ اور بے ایمانی ہوگا، جہاں ہر شخص دوسرے کو دھوکا دے رہا ہو گا اور اسے طاقت کی شدت کے حساب سے برداشت بھی کیا جائے گا، یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس یا جنگل کا قانون لاگو ہوگا۔ اس لیے عمومی زندگی میں لین دین سمیت تمام معاملات میں یہی اصول کارفرما ہوتا ہے کہ معاشرے کا ہرشخص سچا اور امانت دار ہوتا ہے۔

کسی بھی شخص کے کردار کا تعین اس کے قول وفعل سے ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر اس شخص کی معاشرے میں حیثیت ہوتی ہے، اسی حیثیت کی بنیاد پر اس کے حوالے سے معاشرے میں رائے قائم ہوتی ہے، اس لیے جب بھی کسی شخص کا نام لیا جائے تو جاننے والے اس کے قول و فعل کی بنیاد پر اس کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیتے ہیں، اسی بنیاد پر اس سے معاملہ کیا جاتا ہے، اگر سچ اور جھوٹ کی تمیز کو ختم کردیا جائے تو پھر معاشرے میں کسی کا بھی مقام قائم نہیں رہے گا، اس لیے ہرسطح پر یہ تمیز پیش نظر ہوتی ہے اور ایسے معاشرے اورملک جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں کسی طور بھی جھوٹے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔

آپ امریکا میں صدر بل کلنٹن مونیکالیونسکی اسکینڈل کو دیکھ لیں، برطانیہ میں پاناما کے معاملے پر ڈیوڈ کیمرون کی وضاحتوں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم کے استعفیٰ کے علاوہ صرف الزامات پر مغرب میں عہدے چھوڑنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں، جہاں سچ کواہمیت دی جاتی ہے جس کی بنیاد پر لوگوں کا بھروسہ و اعتماد قائم ہوتا ہے۔

ہمارے یہاں ایسا نہیں۔ سیاستدان کئی جھوٹ بولتے مگر اس پر شرمسار نہیں ہوتے، اپنی جائیدادوں اور اثاثوں کے حوالے سے ان کے بیانات میں بھی تضاد ہوتا ہے اور اگر انھیں نااہل قرار دے دیا جائے اسے تسلیم کرنے کے بجائے غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، حالانکہ کیس تو یہ بھی بنتا ہے کہ بیٹے کی نوکری سے قطع نظر اگر کسی ملک کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز قوت کسی دوسرے کی ملازمت کرے تو کیا یہ ملکی مفادات پر سمجھوتے والی بات نہیں، اس پر مفادات کے تصادم کا قانون لاگو نہیں ہوتا، جھوٹے اور سچے کا تعلق تو نیت سے ہوتا ہے اور نیت تو صرف اللہ جانتا ہے، یہاں زمین پر انسانوں کے قول وفعل سے اس کا تعین ہوتا ہے، زمینی حقائق اثاثہ چھپانے کو دوسرے کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہی قرار دیں گے، اسے بھول تسلیم کرانے کے لیے غلطی ماننا ضروری ہے مگر بات اب اس سے بہت آگے پہنچ چکی ہے۔

اور اب اس نااہلیت کو کسی فرد واحد کے لیے اہلیت میں بدلنے کے لیے ووٹوں کے زور پر پارلیمنٹ میں کوئی ترمیم کی گئی تو پھر اس کے نہایت تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اگر کسی قوم کے نمایندے ہی سچ اور جھوٹ میں فرق مٹادیں گے تو پھر ہماری پارلیمنٹ، ہمارے قانون اور ہماری عدالتوں کو کون مانے گا۔ اس سے ہونے والے نقصانات بطور قوم ہماری ساکھ کبھی بحال نہیں ہونے دیں گے۔ اس لیے ذاتی مفادات کو قومی مفادات اور عدالتی فیصلوں کو سازش قرار دینے کی سوچ اپنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔