رواں برس کی دوسری انسداد پولیو مہم شروع، جمعہ تک جاری رہے گی

اسٹاف رپورٹر  منگل 20 فروری 2018
حساس یوسیز میں رضاکاروں کو تحفظ فراہم اور کمانڈوز کو خصوصی ذمے داریاں دی جائیں، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ۔ فوٹو: فائل

حساس یوسیز میں رضاکاروں کو تحفظ فراہم اور کمانڈوز کو خصوصی ذمے داریاں دی جائیں، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ۔ فوٹو: فائل

کراچی: رواں برس کی دوسری انسداد پولیو مہم شروع ہوگئی ہے مہم جمعہ تک جاری رہے گی۔

شہر میں رواں برس کی دوسری انسداد پولیو مہم شروع ہو گئی ہے جو 23 فروری تک جاری رہے گی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق کراچی سمیت صوبے میں چلائی جانیوالی  انسداد پولیو مہم میں5سال کے6.3ملین بچوں کو حفاظتی خوراک پلائی جائے گی کراچی میں23لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں جائیں گے۔

انسداد پولیو مہم میں صوبے بھر سے 56 ہزار ٹیمیں مجموعی طور پر حصہ لیں گی جبکہ 12 ہزار ٹیمیں کراچی میں فرائض سر انجام دیں گی،انسداد پولیو مہم کے دوران شہر کی سکیوریٹی کے لیے5ہزار سیکیورٹی اہلکار اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔

گزشتہ برس پاکستان بھر سے8جبکہ کراچی سے2پولیو کیسز سامنے آئے تھے،ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈی نیٹر فیاض جتوئی  نے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے حوالے سے مکمل قانون سازی ہونی چاہیے اور اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے تب ہی پولیو جیسی بیماری کو شکست دی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کی سیکیورٹی کے جملہ اقدامات کو تھانہ جات کی سطح پر یقینی بنایا جائے، ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ہدایت جاری کی ہیں کہ انسداد پولیو مہم کی سیکیورٹی کے جملہ اقدامات کو تھانہ جات کی سطح پر یقینی بنایا جائے اور حساس یونین کونسلوں میں داخلی اور خارجی راستوں کی بنیاد پر پولیو رضاکاروں کو سخت سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ ایسی تمام یونین کونسلوں میں پولیس کمانڈوز کو خصوصی ذمے داریاں دی جائیں اورحساس یونین کونسلوں میں تھانہ پولیس، پولیس کمانڈوز کے ساتھ سادہ لباس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جائے۔

اے ڈی خواجہ نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کے دنوں میں نہ صرف خفیہ نظام کو بڑھایا جائے بلکہ تلاشی،گشت اور پولیس تعیناتی کے مجموعی امور کو بھی مزید موثر بنایا جائے، انسداد پولیو مہم پر تعینات پولیس افسران اور جوانوں کو تمام تر ضروری سہولتوںکی فراہمی تھانہ جات کی سطح پر یقینی بنائی جائے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔