ساتھ نبھانے کا دعویٰ

ڈاکٹر منصور نورانی  بدھ 21 فروری 2018
mnoorani08@gmail.com

[email protected]

سابق وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثارکی سیاست آجکل جس رخ پر جا رہی ہے وہاں سے واپس ہونا اب اُن جیسے شخص کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن ) سے اُن کی وابستگی پچیس تیس سال پر محیط ہے اور وہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اپنا اختلافی نکتہ نظر ظاہر کرنے میں بھی کسی پس و پیش سے کام نہیں لیاکرتے تھے۔ وہ پارٹی کے چند اہم اوربنیادی اراکین میںسے سمجھے جاتے رہے ہیںاور پارٹی نے اُن کے مشوروں پرعمل بھی کیا، لیکن پارٹی اور اُس کی قیادت پر نازل ہونے والی کسی مصیبت اورکٹھن مشکل میں وہ کبھی بھی اُس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے دکھائی نہیں دیے، بلکہ اپنی جان اوراپنی عزت بچاتے ہوئے خاموش اور لاتعلق رہنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔

آج کل انھیں اپنی قیادت سے گلا ہے کہ وہ اُن کے مفید مشوروں پر عمل نہیں کر رہی اور بلاوجہ عدلیہ اوردیگر اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جب کہ دوسری جانب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ماضی میں چوہدری نثار صاحب کے ایسے مشوروں پر عمل کرنے کے باوجود پارٹی کے اکابرین کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ سول حکومتوں پر اثر انداز ہونے والی قوتوں نے جب چاہا میاں صاحب کو اقتدار سے محروم کر دیا۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیاستداں جسے عوام کی ایک بڑی تعداد پسند کرتی ہو وہ اُن سے کنارہ کش ہوکر نہیں رہ سکتا۔ میاں صاحب نے پاناما کیس فیصلے کے بعد جوکچھ کیا وہ معروضی حالات و واقعات کے تناظر میں درست اور ضروری تھا۔ وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا فیصلہ میاں صاحب کا اپنا نہیں تھا ۔

یہ اُن کے چاہنے والوں کا فیصلہ تھا۔ ہوسکتا تھا کہ وہ چوہدری نثار جیسے دوسرے بہت سے بہی خواہوں کے مشوروں کو مان کر خاموشی کے ساتھ بذریعہ طیارہ راؤنڈ جاکر بیٹھ جاتے، لیکن ایسا کرنے سے انھیں بہت نقصان ہوتا۔ اُن کی ساری سیاست ختم ہوکر رہ جاتی۔ قوم انھیں کمزور اور بزدل رہنما کے نام سے یاد کررہی ہوتی۔ عمران خان اور دیگر مخالف لیڈر اُن کاتمسخر اُڑا رہے ہوتے۔عوام اُن سے مایوس ہوکر کسی اورکو ’’آئی لو یو‘‘ کہہ رہے ہوتے ۔ یہ لاہور کے حلقہ 120پھر چکوال کا ضمنی لیکشن اور پھر لودھراں کا ضمنی الیکشن سبھی کچھ ہار چکے ہوتے۔ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوچکی ہوتی۔ اُن کے پاس دوسروں کے رحم وکرم پر رہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ مشکل وقت میںسیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ساتھ کھڑے رہنے والے بھی کہیں نظر نہیں آرہے ہوتے۔

یہ بات شاید کچھ غلط بھی نہیں ہے کہ 1999ء میں بھی میاں نواز شریف پر آنے والی مصیبت بھی شاید کچھ لوگوں کے ایسے ہی صائب مشوروں کے طفیل نازل ہوئی تھی ۔عسکری اداروں سے کچھ دوستوں کے تعلقات اورمفاہمت کا بھرم اُس وقت کھل کر طشت ازبام ہو گیا جب میاں صاحب کو وزیراعظم ہاؤس سے براہ راست ہتھکڑیاں ڈال کر اٹک کے قلعہ میں منتقل کردیاگیا اور جن کے اُن سے مضبوط تعلقات تھے انھیں بڑے آرام اور بڑی عزت و احترام سے اپنے گھر میں ہی نظر بندکردیا گیا۔میاں صاحب کی اسیری کے دنوں میںجب اُن کے بیگم محترمہ کلثوم نوازسڑکوں پر نکل کرسیاسی جدوجہد کررہی تھیں اُس وقت بھی چوہدری نثار اُن کے ساتھ اِس جدوجہد میں کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیے۔

چوہدری صاحب نے مریم نواز کی لیڈر شپ کے حوالے سے کچھ اعتراضات اُٹھائے ہیں اور اپنا ایک اُصولی موقف اختیار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹے کسی فرد کو لیڈر یاقائد نہیں مان سکتے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے سے کسی چھوٹے شخص کو ’’ سر یا میڈم ‘‘ کہہ کے پکار نہیں سکتے۔ بظاہر یہ بات بہت اچھی اورخوبصورت دکھائی دیتی ہے لیکن کیا وہ پارٹی میں کسی اور کی قیاد ت میں پہلے کی طرح کام کرنے کو تیار ہیں۔ایسی صورتحال میں جب شہباز شریف کے گرد بھی خطرات منڈلا رہے ہوں اوروہ اور اُن کے درمیان میں اب پہلی جیسی گرم جوشی بھی باقی نہیں رہی ہے تو پھر وہ نون لیگ میں سے کس کے سرپرستی میں کام کرنے پر رضامند ہوجائیں گے۔ہر ایک میں انھیں کچھ نہ کچھ کمزوری اور نقص دکھائی دے گا اور وہ اُسے بنیاد بناکر پارٹی سے لاتعلق اور دور رہنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

چوہدری نثا ر بلاشبہ مسلم لیگ(ن) کے بہت پرانے اورمخلص کارکن رہے ہیں لیکن آج کل وہ پارٹی سے مکمل کنارہ کش ہوچکے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی کو بھی شاید وہ اپنا وزیراعظم نہیں مانتے اوراُن کی سربراہی میں کام کرنے کو تیار نہیں۔ وہ خاموش رہنے کی بجائے پارٹی میں رہتے ہوئے قیادت کے خلاف موقعہ بموقعہ ہرزہ سرائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ اِسی طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے چوہدری نثار سے درست کہا ہے کہ اگر پارٹی سے اتنی ہی ناراضی اور خفگی ہے تو پھر پارٹی چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ ہر دس پندرہ دن بعد پریس کانفرنس کرکے کیوں بلیک میلنگ کرتے رہتے ہیں۔

نیوز لیکس معاملے پر بھی وہ اکثر کوئی نہ کوئی بیان داغ دیتے ہیںاور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جیسے وہ ملک سے غداری کے زمرے میںکیا جانے والاکوئی بہت بڑا جرم تھا۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ شروع دن سے ایسا کوئی بڑا ایشو تھا ہی نہیں۔ ہاں البتہ اُسے شیخ رشید جیسے لوگوں نے مسلم لیگ سے اپنی پرانی دشمنی کا بدلہ چکانے کے لیے خوب استعمال کیا۔ وہ سول حکومت اور عسکری قیادت کے مابین دہشتگردی کے خلاف کی جانے والی حکمت عملی پر غور کامعاملہ تھا جو بدقسمتی سے کھوج لگانے والی صحافت کی ہتھے چڑھ گیا۔ اِس میں ایسا کوئی راز پنہاں تھا ہی نہیں جسے ہم ملک دشمنی کا رنگ دے سکیں۔جس طرح ہمارے یہاں کچھ لوگ ایسے واقعات کے تحقیقاتی رپورٹ کی تشہیر کو اپنے مذموم عزائم کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں اُسی طرح چوہدری نثار بھی اِسے پرویز رشید کے خلاف بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں ۔

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن کیس کے سلسلے میں جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو بھی اُس وقت تک خوب ہوا دے کر اچھالا جاتا رہا جب تک وہ شایع نہ ہوگئی ۔ اُس رپورٹ کے منظر عام پر آجانے کے بعد اِس میں چھپے تمام پوشیدہ راز ہواؤں میں بکھر کررہ گئے ۔ علامہ طاہرالقادری بھی شروع شروع میں اِس رپورٹ کو شریف برادران کی پھانسی کا پھندا قرار دیتے رہے لیکن حقیقت عیاں ہونے کے بعد چاروناچار واپس کینیڈا روانہ ہوگئے۔ اِسی طرح ڈان لیکس کی رپورٹ بھی جب تک پوشیدہ ہے اِس کی کچھ اہمیت باقی ہے۔ جس دن وہ عام کردی گئی تو اِس غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی ۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوب کابینہ سے علیحدہ ہوکر تاشقند کی بلی کا شوشہ بھی کچھ ایسا ہی چھوڑا تھا، لیکن اِس ملک کے تمام بزرگ شہری اچھی طرح جانتے ہیں وہ ڈراما بھی صرف ایک سیاسی ایشو تھا اور اِس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔وہ بلی بھٹو کی زندگی میں نہ پہلے کبھی باہر آئی اور نہ اُن کے جیل جانے اور پھانسی لگنے کے بعد ۔

اِسی طرح ہمارے یہاں کچھ لوگ پاناما کیس میں بننے والی جے آئی ٹی کے دس جلدوں پر مبنی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے ایسی ہی بے بنیاد خبریں پھیلاتے رہتے ہیں جیسے اُس میں بہت کچھ چھپا ہوا ہے ۔کوئی کہتا کہ اِس رپورٹ میں میاں صاحب کی ملک دشمنی کے متعلق بہت سے راز پوشیدہ ہیں ۔ یہ رپورٹ اگر عام ہوگئی تو لگ پتا جائے گا۔بالفرض محال واقعی اگر ایسا کچھ ہوتا تو پھر سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنے کے لیے اقامہ کا سہارابھلاکیوں لینا پڑتا اورمزید تحقیقات کے لیے معاملہ نیب کے سپرد کیوں کرنا پڑتا ۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ سب سیاسی شوشے ہواکرتے ہیںجنہیں چوہدری نثار جیسے سمجھدار اور اُصول پرست سیاستداں کو پخت و پیزکامشغلہ بناتے ہوئے اپنی عزت و حیثیت اورقدو قامت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔