ہزارہ میں پی ٹی آئی کمزور،ن لیگ سنجیدگی سے کام کررہی ہے

مانیٹرنگ ڈیسک  اتوار 31 مارچ 2013
 ن لیگ کودھچکالگے گا:جہانگیرترین،مسائل ہم ہی حل کرسکتے ہیں:سردارشاہجہاں  فوٹو : فائل

ن لیگ کودھچکالگے گا:جہانگیرترین،مسائل ہم ہی حل کرسکتے ہیں:سردارشاہجہاں فوٹو : فائل

لاہور: خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج اس مرتبہ کچھ ہٹ کر نظر آرہا ہے۔

صوبے کی سیاست میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ باب خیبر ہے، تمام سیاسی جماعتیں صوبہ ہزارہ کے نعرے پر پائوں جمانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام لائیوود طلعت کے میزبان طلعت حسین کی رپورٹ کے مطابق صوبہ ہزارہ بہت بڑا نعرہ ہے جو یہاں کی سیاست کو متحرک رکھتاہے۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل ہونے کے بعد ہزارہ کی آواز بہت بلند ہوچکی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہاں کے ووٹر برادری، قبائل اور دھڑے بندی میں بٹے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس مرتبہ 90 فیصد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیرترین نے کہاکہ ہزارہ میں برادری سسٹم بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی تحریک انصاف کے چاہنے والوں کی کمی نہیں۔ عوام کا مطالبہ یہی ہے کہ اگر ہم تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو پھر امیدوار بھی نئے ہونے چاہئیں۔ تحریک انصاف کے مقامی رہنمائوں کا کہناہے کہ عوام اب برادری سے ہٹ کر نظریے کی طرف جارہے ہیں۔

عوام دونوں بڑی جماعتوں سے بہت نالاں ہیں۔ مہتاب عباسی 24 سال سے اقتدار میں رہے لیکن علاقے کی حالت انتہائی خراب ہے۔ عوام میں ن لیگ کے خلاف نفرت بہت زیادہ ہے۔ انھیں یہاں سے بڑا دھچکا لگے گا۔ رپورٹ کے مطابق اسٹوڈیوز میں کیے جانے والے تبصرے سڑک پر آکر خاک میں مل جاتے ہیں۔ اس مرتبہ ہزارہ کے لوگوں میں70 کی دہائی والا جوش وخروش پایا جاتاہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنماسردار شاہجہاںیوسف نے کہاکہ سوئی گیس، سڑکوں کی تعمیر، ناخواندگی اہم عوامی مسائل ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ن لیگ ان کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں حل کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ن لیگ ہزارہ میں بہت سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ پی ٹی آئی شاید کمزور وکٹ پر ہے لیکن اگر آنے والے دنوں میں اس نے اچھی دھڑے بندی کرلی تو ن لیگ کے لیے مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔