بھولی بسری آوازیں

سعد اللہ جان برق  بدھ 21 فروری 2018
barq@email.com

[email protected]

گذشتہ روز دو باتیں ایک ساتھ ہوئیں اور ایک ہی تقریب میں ایک وقت پر ہوئیں، ایک تو یہ ہے کہ ہمیں اچانک یہ پتہ چلا کہ ہمارے صوبے میں ثقافت کا ایک محکمہ بھی ہے اور اس محکمے کے زیر اہتمام ایک بہت ہی منفرد کتاب کی رونمائی ہوئی ۔ کتاب پر تو بعد میں بات کریں گے پہلے محکمہ ثقافت کی پیدائش بلکہ ’’ پنر جنم ‘‘ کے بارے میں کہنا ضروری ہے۔

پیدائش اور پنر جنم یعنی دوبارہ پیدائش کی بات ہم نے اس لیے کی کہ محکمہ ویسے تو پہلے بھی موجود تھا یا یوں کہئے کہ اگر ’’آدم‘‘نہیں تھا تو اس کی ’’ بو‘‘ ضرور تھی لیکن یکے بعد دیگرے کچھ حادثات ایسے پیش آئے کہ محکمہ ایک وزیر اور ایک سیکریٹری کی ’’ جیب ‘‘ میں رہائش پذیر ہو گیا اور اب یہ ان کی مرضی پر ہوتا تھا کہ کسی کو کچھ دینا ہوتا تو جیب میں ہاتھ ڈال کر نکال لیتے اور اس ’’ کسی ‘‘ کی جیب میں ڈال دیتے تھے، بلکہ ذرا تفصیل سے بات کی جائے تو گورنر افتخار حسین شاہ کے زمانے تک لشم پشم جی رہا تھا لیکن اوپر سے دینداروں کی حکومت آ گئی اور یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ اس ملک میں ’’ دین ‘‘ ہر کسی کی ذاتی پراپرٹی ہوتا ہے وہ اس میں سے کچھ بھی نکال سکتا ہے اور کچھ بھی اس کے اندر ڈال سکتا ہے چنانچہ دینداروں نے اس دینی نظام کو تو ایک طرف نہایت احتیاط سے سنبھال کر رکھ دیا اور اس کی جگہ ایک اور نظام نکال لیا جس میں ایمان اتنا نازک لطیف اور ضعیف ہو گیا کہ موسیقی کی معمولی سرگوشی عورت کی تصویر یا قدموں کی چھاپ نائی کے استرے سے بھی لہولہان ہو جاتا تھا اور ثقافت کا تو بال بال خطرۂ ایمان تھا چنانچہ بیچارا محکمہ بھی فوت ہو گیا۔

اس کے بعد خدمت گاروں کی حکومت آئی تو اس نے پنر جنم تو لے لیا لیکن باہر کی ہوا اس کے لے موافق نہ تھا اس لیے اسے کینگرو کے بچے کی طرح تھیلی میں رکھ لیا گیا ۔کینگرو نامی جانور جو آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے اس کا بچہ ’’ نیم پختہ ‘‘ پیدا ہوتا ہے چنانچہ اس کے لیے قدرت نے مادہ میں ایسا خوبصورت انتظام رکھا ہے کہ اس کے لیے ایک مخصوص تھیلی اس جانور کو عطا کی گئی ہے جس میں بچہ بھی ہوتا ہے اور دودھ بھی چنانچہ خدمتگاروں کے دور میں محکمہ ثقافت کا بچہ بھی پیدا ہونے کے باوجود تھیلہ نشین ہوگیا تھا، صرف خاص خاص لوگوں کو یہی دس دس پانچ پانچ لاکھ چیکے سے دے دیے جاتے ۔ خاص خاص ’’ تجربہ کار ‘‘ فنکاروں کو بھی یہاں وہاں سے جمع کرکے تھیلہ نشین کردیا گیا حالانکہ اے این پی کا سارا وجود ہی شاعروں، صورت گروں اور فنکاروں کا رہین منت تھا۔اب یہ حیرت کا ایک عجیب سا مقام ہے کہ موجودہ حکومت نے جو بظاہر فن اور فنکاروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی اس نے اس محکمے کو تھیلے سے باہر نکال لیا ۔

صحیح تعداد تو ہمیں معلوم نہیں لیکن زیادہ تر مستحق فنکاروں اور کھلاڑیوں کو تیس ہزار مہینہ کے وظائف آٹھ مہینے تک دیے جاتے رہے بیچ میں فنڈز کی کمی کے باعث ناغہ ہوگیا تھا لیکن اب پھر یہ سلسلہ شروع ہونے والا ہے فہرست مکمل ہو چکی ہے ۔ ساتھ ہی محکمہ ثقافت کے ڈائرکٹریٹ کے لیے نئی با سہولت عمارت بھی تعمیر ہوئے اور اس میں با صلاحیت افراد اکٹھے کیے  اور کئی جہت میں ثقافت کے فروغ کے منصوبے شروع کیے جس کا سب سے بڑا ثبوت ایک مربوط اورجامع ثقافتی پالیسی ہے جو پہلی بار کسی صوبے میں بنا کر لاگو کردی گئی ہے، ویسے تو سیکریٹری سے لے کر اہل کاروں تک سارے مستعد ہیں لیکن ڈپٹی ڈائریکٹر شہباز خان تقریباً ساری ڈائرکٹریٹ کے روح رواں ہیں اور اس لیے کہ وہ نہایت پڑھے لکھے اور ثقافت کے معنی و مفہوم اس کی اہمیت اور فروغ کے ہر پہلو سے واقف ہیں۔

چونکہ بہت سارے رضاعیوں کے منہ سے دودھ کے ’’نپل ‘‘ چھوٹ گئے ہیں اس لیے کبھی کبھی ایسے لوگوں کی طرف سے وہ مخصوص حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو کچھ لوگوں کے گھریلو ہتھیار ہیں اور مختلف لسانی گروہوں میں تفریق اور بے چینی پھیلا رہے تھے اور کیونکہ اس سے پہلے پورے صوبے کا محکمہ صرف ایک جیب میں اور پھل دار پیڑ صرف ایک چھوٹے سے ’’ آنگن ‘‘ میں تھا ۔ اور اب اس کا پھل پورے صوبے کو مل رہا ہے ۔بہر حال ہم نے اس تقریب میں بھی کہا کہ ہمیں آج پتہ چلا ہے کہ ہمارے اس صوبے میں ثقافت کا بھی کوئی محکمہ موجود ہے۔

جہاں تک زیر بحث کتاب کی رونمائی کا تعلق ہے تو یہ کوئی عام اور مروجہ موضوعات کی کتاب نہیں ہے بلکہ پشتو ثقافت کے ماضی کا ایک گمشدہ خزانہ ہے ۔ حاجی اسلم خان نے ریڈیو کے ایک پروگرام میں ایک سلسلہ شروع کیا تھا ’’ بھولی بسری آوازیں ‘‘ اس پروگرام میں سامعین کی مدد اور تعاون سے وہ گمشدہ نغمے تلاش کیے جاتے تھے جو گراموفون کے پرانے کالے ریکارڈوں پر ہیں اور ایک زمانے میں ان کا دور دورہ تھا ۔ یہ بجلی کے آنے سے بھی پہلے کا زمانہ تھا ۔ اور دہلی کلکتہ میں چند گراموفون کمپنیاں بیٹریوں کے ذریعے یہ ریکارڈز بناتی تھیں ان میں کئی کمپنیاں قابل ذکر ہیں، کمپنیاں ڈھونڈ کر اور چن چن کر فنکاروں کو اپنے خرچے پر بلاتی تھیں اور ان سے نغمے ریکارڈ کرواتی تھیں ۔

اس دور میں صرف گرامو فون ہی تفریح کا واحد ذریعہ تھا اس لیے ریکارڈوں کی مانگ بہت زیادہ تھی ۔ حاجی اسلم خان نے ریڈیو کے افسروں نثار محمد خان ، نور البصر ، لیاقت سیماب اور لائق زادہ لائق کی زیر نگرانی ایک سلسلہ چلایا یہ ریکارڈ اسی نام ’’ بھولی بسری آوازیں ‘‘ کے نام سے نشر ہوتے تھے ساتھ ہی استدعا بھی کی جاتی تھی کہ کسی کے پاس اگر یہ ریکارڈ موجود ہوں تو ہم سے تعاون کریں کہ یہ سرمایہ محفوظ ہو جائے۔

لوگوں نے بھی تعاون کیا اور یوں ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ ریکارڈز اور بھولے بسرے نغمے اور بھولی بسری آوازیں جمع ہو گئیں۔ یہ مشورہ ہم نے ہی اسلم خان کو دیا تھا کہ یہ سرمایہ کتابی صورت میں بھی محفوظ ہونا چاہیے چنانچہ اس نے چیدہ چیدہ اور معلوم مرحوم فنکاروں کے خاندانوں سے رجوع کیا ان کی تصویریں مہیا کیں، حالات زندگی معلوم کیے، قبروں کا پتہ لگا کر تصاویر  بنائیں اور نتیجے میں یہ کتاب ’’ بھولی بسری آوازیں ‘‘ مرتب ہو گئی جو ثقافتی تاریخ کا ایک قیمتی نمونہ ہے ۔ کتاب تو اس نے اپنے طور پر اور سامعین کے تعاون سے چھپوائی لیکن رونمائی محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ہوئی جو محکمے کا فرض بھی تھا اور کارنامہ بھی، آخر میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ذخیرہ میں ’’ گوہر جان ‘‘ نامی ایک مشہور گلوکارہ کے نغمے بھی ہیں جو تھی تو افغان نژاد لیکن دلی اور کلکتہ میں رہائش پذیر تھی ۔ یہ وہی گوہر جان ہے جس نے اکبر الہ آبادی سے فرمائش کی تھی کہ میرے بارے میں بھی کوئی شعر کہیں اور اکبر الہ آبادی نے یہ شعر کہا تھا

خوش نصیب اور یہاں کون ہے گوہر کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔