لوگ مرتے رہیں، پوچھتا کون ہے!

سید بابر علی  اتوار 25 فروری 2018
ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں، منہگے ٹیسٹ، ادویہ کے نرخ آسمان پر، جان بچانے والی دواؤں کی قلت، شہریوں کی زندگیاں نگلتے مسائل پر خصوصی رپورٹ

ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں، منہگے ٹیسٹ، ادویہ کے نرخ آسمان پر، جان بچانے والی دواؤں کی قلت، شہریوں کی زندگیاں نگلتے مسائل پر خصوصی رپورٹ

افلاس زندگی کی خوشیاں چھین لیتا ہے، غربت انسان کو بے بسی کی تصویر بنا دیتی ہے، مگر ان حالات میں بھی پیٹ بھرنے کی صورت نکل آتی ہے۔ دو وقت کی روٹی محنت کی کمائی سے مل ہی جاتی ہے۔ دیہاڑی نہ لگے تو کسی خیراتی ادارے کے دستر خوان سے نوالے نصیب ہوجاتے ہیں۔

یوں بھی یہ معاشرہ اتنا بے حس اور پتھر دل نہیں کہ ہاتھ پھیلانے پر غریب کو چند سکے نہ ملیں یا کوئی کھانا نہ کھلائے۔ تو یوں سمجھیں کہ پیٹ بھرتا رہتا ہے۔ اور پیٹ بھرتا رہے، تو زندگی اتنی بری نہیں لگتی۔ پیٹ بھر جائے تو خواہشیں بھی سَر اٹھاتی ہیں، امیدیں جنم لیتی ہیں، چھوٹے موٹے خواب پلکوں پر اترنے لگتے ہیں۔ اگر مفلسی کے ہاتھوں رُل کر خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیا ہو، انسان بھکاری نہ بن گیا ہو، تو بات بن سکتی ہے۔

غریب اور بدحال کو بھی اپنے زورِ بازو پر بھروسا ہو تو چھوٹے موٹے خواب حقیقت کا روپ ضرور دھار سکتے، زندگی بہتر ہو سکتی ہے، روٹی کا ٹکڑا سڑک کنارے بھی مل جاتا ہے، پیٹ بھرتا رہتا ہے، نلکے سے جانتے بوجھتے آلودہ پانی پی کر پیاس بجھا لیتا ہے، کیوں کہ وہ ایک عام آدمی ہے، جس کے لیے پینے کے صاف پانی کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ انہیں مزید مہلک بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے، جب یہی مفلس اور بدحال کسی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو زندگی اذیت ناک اور ناقابل بیان حد تک بوجھ محسوس ہوتی ہے۔

سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر اور عملے کی ہمہ وقت موجودگی، مریض پر توجہ، سرکاری سطح پر مفت ادویہ کی فراہمی، شفا خانوں میں عام طبی ٹیسٹ کی سہولیات ایک خواب نہیں غریب و مفلس اور متوسط طبقے کے شہریوں کے ساتھ بھی بھیانک مذاق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اسپتال علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہیں اور غریب نجی شفا خانوں میں علاج کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں، منہگے ٹیسٹ جن کی قیمتیں آئے دن بڑھائی جارہی ہیں۔ غریب صرف مر سکتا ہے۔ ایسے میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کو موت سے ہم کنار کرنے کے مترادف ہے، دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کا ذمے دار کون؟ کیا اس سوال کا بوجھ فروخت کنندہ، تیار کنندہ پر اور تیارکنندہ حکومت پر ڈال کر بری الذمہ ہوسکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ انفرادی پر طور تیارکنندہ سے خوردہ فروش تک سب کو اپنی ذمے داری ادا کرنی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے ادویہ ساز کمپنیوں کو حکم امتناع دینے پر سندھ ہائی کورٹ کی سرزنش کی، شہاب اوستو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر واٹر کمیشن بنایا لیکن مسئلہ کمشین بنانے کا نہیں، مسئلہ احکامات دینے کا نہیں، ان احکامات پر عمل درآمد کا ہے، جب تک اصلاحات کو، احکامات کو عمل طور پر لاگو نہیں کیا جائے گا اس وقت تک عوام سسکتے بلکتے رہیں گے۔ اس وقت تک آلودہ پانی ہزاروں مائوں کی گودیں اجاڑ چکا ہوگا۔ کتنے ہی لوگ دوا نہ ملنے پر سسک سسک کر موت سے ہم کنار ہوچکے ہوں گے۔ طبی فضلے سے بنی اشیاء مزید لوگوں کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کرچکی ہوں گی۔ زیرنظر رپورٹ میں ادویات کی عدم دست یابی، قیمتوں میں اضافے، پینے کے صاف پانی کے مسائل اور طبی فضلے سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو احاطۂ تحریر میں لایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اگرچہ کراچی سمیت سندھ کے شہروں کے صورت حال پر مشتمل ہے، تاہم ملک کے دیگر شہروں کا حال بھی مختلف نہیں، چناں چہ یہ رپورٹ صحت کے حوالے سے ملک بھر کے عوام کے مسائل کا عکس ہے۔

٭ جان بچانے والی ادویات کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہ
1993تک ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی فارمولا نہیں تھا۔ اپنے پہلے دورحکومت میں نوازشریف نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ایک بھارتی ماڈل کو متعارف کروایا جس کے تحت تمام رجسٹرڈ مصنوعات کو دو حصوں (کنٹرولڈ اور ڈی کنٹرولڈ) میں تقسیم کردیا۔ کنٹرولڈ ادویات میں بین الاقوامی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کی فہرست میں شامل 821 ادویات کو جب کہ دیگر ادویات کو ڈی کنٹرولڈ کے زمرے میں رکھا گیا۔

اس وقت یہ طے پایا تھا کہ کنٹرولڈ ادویات کی قیمتوں کو وزارتِ صحت جب کہ ڈی کنٹرولڈ ادویات کی قیمتوں کی قیمت کا تعین مارکیٹ کی صورت حال کے مطابق کیا جائے گا۔ اس فارمولے میں ایک انوکھی شق یہ بھی شامل تھی کہ اگر ایک کثیرالقومی کمپنی کی ایک دوا کی قیمت سو روپے اور مقامی کمپنی کی اسی فارمولے پر بننے والی دوا کی قیمت پچاس روپے ہے تو وہ بتدریج اپنی پروڈکٹ کی قیمت کو سو روپے کی سطح پر لے جاسکتی ہے۔ لیکن مارکیٹ میکانزم کے اس فارمولے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور وزارت صحت کو ڈی کنٹرولڈ ادویات کی قیمتوں کو بھی خود ہی کنٹرول کرنا پڑا۔ 1994میں ایک ایس آر او (نمبر 1038) کے تحت ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے ایک اور فارمولا طے ہوا۔

اس فارمولے کے تحت مقامی افراط زر اور کرنسی کی قدر میں اتارچڑھاؤ جیسے اہم عوامل کے 35 اور 65 فی صد کے تناسب سے دواؤں کی نئی قیمت کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 2001 تک اسی فارمولے کے تحت ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا، لیکن 2001کے بعد قیمتوں کو منجمد کردیا گیا۔ 2008 میں حکومت نے فارما انڈسٹری کے نمائندوں کے مذاکرات کے بعد ایک پرائس ریویو کمیٹی (قیمتوں پر نظر ثانی کرنے والی کمیٹی) بنائی اور ایک ہارڈ شپ میکینزم کے تحت کچھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ 2013 میں وزارت صحت، فارما بیورو اور پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی ایک مشترکہ میٹنگ میں ایک اعشاریہ پچیس فی صد سالانہ کے حساب سے دواؤں کی قیمتوں میں 15فی صد اضافے کا ایس آر او نکالا گیا لیکن دوسرے دن ہی وزیراعظم کے حکم پر اس ایس آر او کو واپس لے لیا گیا۔

2015میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی پرائس کمیٹی نے شیڈولڈ ادویات پر 1.43فی صد، نان شیڈولڈ ادویات پر 2 فی صد اور لو پرائسڈ ڈرگز پر 2.86 فی صد اضافے کی منظوری دی، لیکن کچھ ادویات ایسی ہیں جن کی قیمتوں میں ادویہ ساز کمپنیوں نے من مانا اضافہ کرکے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناع (اسٹے آرڈر) لے لیا، جن ادویات کی قیمتوں پر اسٹے آرڈر لیا گیا۔ ان میں بخار، نزلہ زکام، وٹامنز، ہیپاٹائی ٹس، کینسر اور دیگر اہم جان بچانے والی ادویات شامل ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی عدالت میں کیس ہونے کے سبب کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ عوام کو ادویات کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کے لیے ادویہ ساز کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ برانڈ نیم کے بجائے جینرک نام سے ادویات تیار کریں اور پورے ملک میں ایک جینرک (فارمولے) کی قیمت ایک ہی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک ملٹی نیشنل کمپنی ایک جینرک ’پیرا سیٹامول‘ کا ڈبا اپنے برانڈ نام سے تین سو روپے میں فروخت کررہی ہے تو دوسری کمپنی اسی جینرک ’پیراسیٹامول‘ کو 150روپے میں فروخت کر رہی ہے۔ اگر یہی دوا برانڈ نام کے بجائے ’پیراسیٹامول‘ کے نام سے فروخت ہو تو مریض نصف سے بھی کم قیمت میں معیاری دوا خرید سکے گا۔

سرمایہ کاروں کو نوازنے کے چکر میں بین الاقوامی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کا براہ راست فائدہ عام صارف تک منتقل نہیں کیا جاتا۔ ان تمام معاملات کا سب سے تاریک پہلو یہی ہے کہ اب ایک بڑی کمپنی سے چھوٹے دکان دار تک سب نے ذخیرہ اندوزی کو ایک قومی فریضہ سمجھ لیا ہے۔ اور سب سے شرم ناک بات تو یہ ہے کہ، موسمی بیماریوں سے لے کر جان بچانے والی اہم ادویات تھائروکسین، لینوکسن، اینجی سڈ، فالک ایسڈ، ایری نیک اوراس جیسی درجنوں ادویات جو کچھ عرصے قبل تک انتہائی ارزاں نرخوں پر دست یاب تھیں اب یا تو وہ بلیک میں فروخت ہورہی ہیں یا ان کی قیمتوں میں چار سو سے پانچ سو فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔ غریب آدمی کسی سے مانگ تانگ کر پیسے جمع کر بھی لے تب بھی اسے ان ادویات کی تلاش میں اپنے جوتے گھسیٹتے پڑتے ہیں۔

پاکستان میں ادویہ ساز کمپنیوں کے معیار اور قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈی آر اے) کے نام سے ایک ادارہ قائم تو ہے لیکن وہ بھی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طاقت اور اثرورسوخ کے آگے بے بس ہے۔ پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم سبب پروموشن کے نام پر ڈاکٹر حضرات کو دیے جانے والے قیمتی تحائف اور دیگر مراعات بھی ہیں۔ نہ صرف کثیر القومی بل کہ ملکی ادویہ ساز کمپنیاں بھی اپنی ادویات تجویز کرنے پر ڈاکٹر حضرات کو کلینکس کی تزئین وآرائش، قیمتی موبائل فونز، پنج ستارہ ہوٹلوں میں ظہرانے اور عشائیے سے لے کر بیرون ملک کے تفریحی دورے تک کروا رہی ہیں۔

کچھ لو کچھ دو کے اصول کے تحت ڈاکٹر ان قیمتی تحائف اور مراعات کے بدلے مریضوں کو اسی کمپنی کی دوا تجویز کرتے ہیں، جو ان پر زیادہ خرچ کرتی ہے۔ کچھ لو اور کچھ دو کا یہی غلط اصول قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔ پاکستان میں 1972 سے پہلے دوائی کا جینرک نام تجویز کرنے کا قانون تھا۔ اگر ادویات کو پہلے کی طرح جینرک نیم پر لے آیا جائے تو ادویات کی قیمتوں میں ویسے ہی پچاس سے ساٹھ فی صد کمی ہوجائے گی، کیوں کہ مارکیٹ میں سو روپے قیمت والا جینرک تیس روپے میں بھی دست یاب ہے اور یہ ستر فی صد کا فرق ڈاکٹروں کی جیب میں جاتا ہے، جو کمپنی ڈاکٹر پر جتنا خرچ کرتی ہے۔ اس کمپنی کی ادویات اتنی ہی زیادہ بکتی ہیں۔

پروموشن کے نام پر مریضوں کے ساتھ کھیلے جانے والے اس کھیل کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بننے والی غیرمعیاری ادویہ ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو نقد رقم، بیرون ملک ٹورز اور کلینک کی تزئین و آرائش کا لالچ دے کر وہ ادویات تجویز کرنے پر بھی مجبور کرتی ہیں جن کے معیار کے بارے میں زیادہ تر ڈاکٹروں کو الف بے تک معلوم نہیں۔ دو سال قبل حکومت کی جانب سے امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو پاکستان سے بھیجے گئے دواؤں کے سترہ نمونوں میں سے گیارہ سب اسٹینڈرڈ (غیرمعیاری) نکلے، ان نمونوں میں چند نامی گرامی کمپنیوں کی ادویات بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر فیروز پور روڈ، رائیونڈ روڈ اور کراچی کے مضافاتی علاقوں میں قائم مقامی غیرمعیاری ادویہ ساز کمپنیوں میں بننے والی دوا کی قیمت چار سو روپے ہے، لیکن ان کی خوردہ قیمت ہول سیل مارکیٹ میں بیس تیس روپے سے زیادہ نہیں ہے۔

پاکستان میں ادویات بھارت اور بنگلادیش کے مقابلے میں منہگی ہیں۔ ایک کثیر القومی کمپنی کی دوا وہاں اگر دس روپے کی ہے تو اُسی کمپنی کی وہی دوا پاکستان میں اسی نوے روپے کی فروخت ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بھارت میں مقامی خام مال استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ پاکستان میں تقریباً سارا خام مال امپورٹ ہوتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ معدے کی تکلیف کے لیے ایک کیپسول ہے جس کا جینرک نام (اومی پرازول) ہے، یہ پاکستان کا بہت بڑا برانڈ ہے۔ اس کے چودہ کیپسولز کی لاگت تقریباً آٹھ سے دس روپے ہے۔ اس لاگت میں اس کی پیکنگ بھی ہے، کیپسول بھی ہے، لٹریچر بھی ہے۔ اس میں موثر اجزا 20سے تیس فی صد اور باقی غیرموثر اجزا ہوتے ہیں۔ یعنی موثر جز کی لاگت دو روپے آتی ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں نان پروموشنل کمپنیاں اس کیپسول کو چودہ سے پندرہ روپے فی بکس کی قیمت پر فروخت کر رہی ہیں، جب کہ پروموشنل کمپنیاں ایک سو چالیس سے ایک سو پچاس میں بیچ رہی ہیں، جب کہ اس فارمولے میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے چودہ کیپسول کے ڈبے کی قیمت سات سو روپے سے زاید ہے۔ پاکستان میں مریضوں کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ ڈاکٹروں کو فراہم کی جانے والی ادویات کے فری سیمپلز ہیں، جو مرکزی میڈیسن مارکیٹ اور میڈیکل اسٹورز پر کھلے عام فروخت ہورہے ہیں۔ یہ سب کام میڈیسن مارکیٹ میں کھلے عام دھڑلے سے جاری ہے۔ ان ادویہ کی سب سے زیادہ کھپت اندرون سندھ میں ہے۔ کراچی میں ان کی فروخت بہت کم ہے اور وہ بھی مضافاتی اور پس ماندہ علاقوں میں۔

یہی ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ تین چار سو روپے دیہاڑی پر کام کرنے والا مریض ڈاکٹر کے تجویز کرنے پر ایک غیرمعیاری دوا کو منہگے داموں خرید رہا ہے، جب کہ یہی دوا اسے نصف سے بھی کم قیمت میں مل سکتی ہے، جب کہ کچھ زر پرست، بد نیت ڈاکٹر یہی غیرمعیاری ادویات چند پیسوں کے لالچ میں بلاضرورت بھی تجویز کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ادویہ ساز کمپنی، ادویہ کے تھوک فروش، تقسیم کار، خوردہ فروش کے لیے تو قوانین ہیں لیکن ڈاکٹروں کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ اسی سے نوے فی سد ڈاکٹر سادہ پرچی پر نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔

٭ موت بانٹتا آبِ حیات
2016 میں سپریم کورٹ کے وکیل شہاب اوستو ایڈووکیٹ نے عدالت میں درخواست دائر کرتے پورے سندھ میں پینے کے صاف پانی، صحت و صفائی کی صورت حال کو انتہائی مخدوش قرار دیتے ہوئے عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا، جس کی بنیاد پر جسٹس امیرہانی مسلم کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج پر مشتمل واٹرکمیشن بنانے اور چھے 6 ہفتوں میں اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم جاری کیا۔ کمیشن نے 4 جنوری 2017 کو پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورس (پی سی آر ڈبلیو آر) کو صوبے کے عوام کو فراہم کیے جانے والے پانی کی حیاتیاتی اور کیمیائی جانچ کی ہدایت کی، جس کے نتائج بہت ہی ہول ناک تھے۔

، پی سی آر ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 13 اضلاع (سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، ٹنڈو محمد خان، بدین، تھرپارکر، حیدرآباد اور کراچی کے 6 اضلاع) سے پانی کے 300 نمونے حاصل کرکے ان کا ایک تفصیلی کیمیائی تجزیہ کیا۔ اس بیکٹریل تجزیے کے بعد ان اضلاع میں زمین کی سطح پر اور زیر زمین موجود پانی کے70 فی صد نمونے انسانی استعمال کے لیے نامناسب یا مضر صحت پائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق بیشتر نمونے شہری علاقوں سے حاصل کیے گئے تھے، جن کو فراہم کیے جانے والے پانی میں بڑے پیمانے پر سنکھیا (آرسینک) یا دیگر زہریلے مادے شامل نہیں ہوتے، پانی کے معیار میں بہتری لانے کے لیے پینے کے صاف پانی کی لائینوں میں صنعتی اور گھریلو ٖفضلے کی آمیزش کی روک تھام کرنے اور فلٹر پلانٹس کی تعداد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، شکار پور، سکھر، بدین، تھرپارکر، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان، خیر پور، کشمور، سانگھڑ، مٹیاری، سجاول، جام شورو، عمرکوٹ، میرپورخاص، ٹنڈو الہ یار، جیکب آباد، دادو، گھوٹکی، قمبر شہداد کوٹ اور شہید بے نظیر آباد میں پینے کے پانی کے ذخائر کی جانچ کروائی گئی، یہاں ان میں سے آلودگی کے لحاظ سے سرفہرست شہروں کا ذکر کیا گیا ہے۔

٭ کراچی
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق کراچی سے پینے کے پانی کے 84نمونے لیے گئے۔ جن میں سے دس نمونے گدلے پن کی وجہ سے پینے کے لیے غیرمحفوظ قرار دیے گئے۔ ان میں گدلے پن کی شرح 24 این ٹی یو (Nephelometric Turbidity Units) تک پائی گئی۔ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) اور نیشنل انوائرمینٹل کوالٹی اسٹینڈرڈز (این ای کیو ایس) کے متعین کردہ معیار کے مطابق پینے کے پانی کے لیے این ٹی یو کی محفوظ سطح پانچ سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ نو سیمپلز میں ٹی ڈی ایس (ٹوٹل ڈی سولووڈ سالڈز) کی مقدار متعین کردہ شرح سے زیادہ تھی۔

ایک لیٹر پانی میں ٹی ڈی ایس کی مقدار ہزار ملی گرام پر 1ٹی ڈی ایس ہونی چاہیے، جب کہ ان میں اس کی مقدار 3846 ملی گرام فی لیٹر سے زاید پائی گئی۔ سات نمونوں میں ہارڈنیس ویلیوز 11سو ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ شرح 5سو ملی گرام فی لیٹر سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔ گیارہ کو سوڈیم کی مقرر کردہ مقدار (دو سو ملی گرام فی لیٹر) سے زاید ہونے پر انسانی استعمال کے لیے غیرمحفوظ قرار دیے گئے۔ ان میں سے کچھ میں سوڈیم کی مقدار 835 ملی گرام فی لیٹر سے بھی زاید تھی۔ ڈبلیو ایچ او نے پینے کے پانی میں گندھک کی شرح 250ملی گرام فی لیٹر متعین کی ہے، جب کہ سات نمونوں میں یہ 440ملی گرام فی لیٹر تک پائی گئی۔

اسی طرح آٹھ نمونوں میں کلورائیڈ آئن کی شرح 1438ملی گرام فی لیٹر تک تھی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک لیٹر پانی میں کلورائیڈ آئنز کی سطح 250 ملی گرام تک ہونی چاہیے ورنہ یہ پانی پینے کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پانی کے تین نمونوں میں فلورائیڈ کی پیمائش 2.23 ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔ ڈبلیوایچ او نے پینے کے پانی میں ڈیڑھ ملی گرام فی لیٹر کی سطح کو محفوظ قرار دیا ہے۔

پانی کے دو نمونوں میں نائٹریٹ، نائٹروجن کی شرح ڈبلیو ایچ او کی متعین کردہ شرح (دس ملی گرام فی لیٹر) سے دگنی (20.45ملی گرام فی لیٹر) پائی گئی، جب کہ ایک نمونے میں لوہے کی مقدار ڈبلیو ایچ او کی متعین کردہ شرح (0.3 ملی گرام فی لیٹر) سے زاید پائی گئی۔ خورد بینی آلودگی کی جانچ کے لیے پانی کے ان 84 نمونوں میں سے 67 نمونے سطحی اور زیرزمین آبی ذخائر سے لیے گئے تھے جو انسانی استعمال کے لیے غیرمحفوظ قرار دیے گئے۔ ان 67 نمونوں میں کولی فارمز (بیکٹریولوجیکل آلودگی) کی حد ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ حد (صفرسی ایف یو ملی گرام فی سو ملی لیٹر) سے زاید تھی۔ ان میں سے تیس سیمپل میں ای کولائی (فضلے میں پائے جانے والا بیکٹریا) ہر سو ملی لیٹر میں ایک پایا گیا۔ مائیکرو بایو لوجیکل ٹیسٹ کے بعد 67میں سے صرف سترہ نمونوں کو پینے کے لیے محفوظ قرار دیا گیا۔

٭حیدرآباد
حیدرآباد سے پینے کے پانی کے 33 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے چھے سیمپل پینے کے لیے غیرمحفوظ قرار پائے کیوں کہ ان میں آلودگی کی شرح 60.2این ٹی یو تک پائی گئی۔ پانی کے دو نمونوں کو رنگ کی آمیزش اور تین کو گندھک کی مقدار مقررہ حد (250ملی گرام فی لیٹر) سے زاید ہونے پر پینے اور انسانی استعمال کے لیے غیرمحفوظ قرار دیا گیا۔ تین فی صد نمونوں یعنی 33میں سے ایک ایک نمونے میں ٹی ڈی ایس، کیلشیم، سلفیٹ، لوہے اور ہارڈنیس کی شرح ڈبلیو ایچ او کی مقررہ حد زاید پائی گئی۔

ڈبلیو ایچ او کے متعین کردہ معیار کے مطابق پینے کے پانی میں ٹی ڈی ایس کی شرح فی ہزار ملی گرام پر 1، سوڈیم کی مقدار دو سو ملی گرام فی لیٹر، کلورائیڈ آئنز کی مقدار250ملی گرام فی لیٹر اور فلورائیڈ کی سطح ڈیڑھ ملی گرام فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پانی کے 33نمونوں میں سے 28 نمونوں کی خرد بینی جانچ کی گئی جس میں کولی فارمز (بیکٹریولوجیکل آلودگی) کی حد ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ حد (صفرسی ایف یو ملی گرام فی سو ملی لیٹر) سے زاید تھی۔27فی صد (9) میں نمونوں میں ای کولائی (فضلے میں پائے جانے والا بیکٹریا)1سے 11 سی ایف یو فی ملی لیٹر پایا گیا۔ مجموعی سیمپلز میں سے صرف سترہ نمونوں کو پینے کے محفوظ قرار دیا گیا۔

٭لاڑکانہ
لاڑکانہ سے پانی کے 33 نمونے میں سے 21 فی صد میں گدلے پن کی شرح 42.4 این ٹی یو تک پائی گئی۔61 فی صد میں ٹی ڈی ایس (ٹوٹل ڈی سولووڈ سالڈز) کی مقدار متعین کردہ مقدار سے زیادہ 4646ملی گرام فی لیٹر گئی۔ 21 میں سوڈیم اور سلفیٹ کی مقدار ڈبلیو ایچ او کے متعین کردہ معیار بالترتیب (200 اور250 ملی گرام فی لیٹر) سے زاید تھی، جو کہ بالترتیب 1270ملی گرام فی لیٹر اور1440ملی گرام فی لیٹر تھی۔ تیس فی صد نمونوں میں کلورائیڈ آئن کی شرح 886ملی گرام فی لیٹر تک پائی گئی۔ چھے نمونوں میں ہارڈنیس ویلیوز820 ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔ لاڑکانہ سے حاصل کیے گئے پانی کے 33 نمونوں میں سے 88فی صد (29) نمونے کولی فارمز کی وجہ سے پینے کے لیے غیرمحفوظ قرار دیے گئے۔ ڈبلیو ایچ او نے صفر سی ایف یو ملی گرام فی سو ملی لیٹر متعین کی ہے۔ تاہم ان میں سے 5نمونوں میں ای کولائی (فضلے میں پائے جانے والا بیکٹریا) پایا گیا، جب کہ صرف بارہ فی صد سیمپلز کو پینے کے لیے محفوظ قرار دیا گیا۔

٭ شکارپور
شکار پور سے پانی کے 28 نمونوں میں سے چارکو گدلے پن کی بلند شرح، ٹی ڈی ایس کی مقررہ مقدار اور پانی میں رنگ کی آمیزش کی وجہ سے پینے کے لیے غیرمحفوظ قرار دیا گیا۔ 46 فی صد سیمپلز میں ٹی ڈی ایس 2470 ملی گرام فی لیٹر، سوڈیم 670ملی گرام فی لیٹر، کلورائیڈ 851ملی گرام فی لیٹر پایا گیا۔ گیارہ میں سلفیٹ مقرر کردہ حد (250ملی گرام فی لیٹر) سے زاید 510ملی گرام فی لیٹر تھا۔ پانچ نمونے ہارڈنیس ویلیوز 850 ملی گرام فی لیٹر کی وجہ سے غیرمحفوظ قرار پائے۔ گیارہ فی صد نمونوں میں پوٹاشیم کی مقدار مقررہ حد (30ملی گرام فی لیٹر) سے تین گنا زاید (96ملی گرام فی لیٹر) پائی گئی۔ 22 نمونوں میں کولی فارمز (فضلے میں پائے جانے والے بیکٹریا) پائے گئے۔

٭ سکھر
سکھر سے لیے گئے 40 نمونوں میں سے چالیس فی صد میں گدلاپن اور دس نمونوں میں بیرونی رنگ کی آمیزش پائی گئی۔ آٹھ فی صد کو خراب ذائقے کی بنیاد پر پینے کے لیے غیرمحفوظ قرار دیا گیا۔ پانچ فی صد میں ٹی ڈی ایس 2470 ملی گرام فی لیٹر، سوڈیم 410 ملی گرام فی لیٹر، کلورائیڈ 319ملی گرام فی لیٹر پایا گیا۔ تین نمونوں کو سلفیٹ کی بلند شرح (1120ملی گرام فی لیٹر) کی وجہ سے پینے کے لیے غیرمحفوظ قرار دیا گیا۔ آٹھ فی صد میں فلورائیڈ کی شرح مقررہ شرح سے دگنی پائی گئی۔ سات نمونوں میں آئرن کی مقدار مقرر کردہ شرح (0.3 ملی گرام فی لیٹر) سے بہت زیادہ1.7406ملی گرام فی لیٹر پائی گئی۔ تیس فی صد نمونوں میں کولی فارمز پائے گئے۔ چالیس میں سے صرف سات نمونوں کو پینے اور انسانی استعمال کے لیے محفوظ قرار دیا گیا۔

٭بدین، تھرپارکر، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان
بدین سے 45نمونوں لیے گئے، نو میں پی ایچ کی بلند سطح پائی گئی۔ بارہ میں ٹی ڈی ایس، گیارہ میں سوڈیم، بارہ میں کلورائیڈ، سات میں سلفیٹ، اور تین میں فلورائیڈ کی بلند مقدار پائی گئی۔ تھرپارکر سے سترہ نمونے لیے گئے، جن میں نو میں ٹی ڈی ایس، دو میں کیلشیم، ایک میں نائٹریٹ، ایک میں پوٹاشیم، ایک میں فلورائیڈ، تین میں میگنیشیم کی بلند مقدار پائی گئی۔

ٹنڈو محمد خان سے پندرہ نمونے لیے گئے، جن میں آٹھ میں ٹی ڈی ایس، دو میں سوڈیم، چار میں ہارڈ ویلیوز اور ایک میں میگنیشیم کی زیادہ مقدار پائی گئی۔

٭طبی فضلہ
دنیا بھر میں عوامی صحت کے اداروں خصوصاً اسپتال، کلینکس اور ڈسپینسریوں میں صفائی و ستھرائی کو اولین ترجیحی دی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں اسپتال استعمال شدہ آلودہ فضلہ (medical waste) قریبی کچرا کنڈی کی نذر کر دیتے ہیں۔ طبی فضلہ صرف سرکاری اور نجی اسپتالوں سے ہی نہیں بل کہ لیبارٹریوں، دانتوں اور آنکھوں کے شفاخانوں اور جنرل پریکٹیشنروں کی علاج گاہوں سے بھی مجموعی طور پر روزانہ کلو کے حساب سے نکلتا ہے۔ اس گندگی کے ڈھیرے سے نکل کر گھروں میں منتقل ہونے والی خطرناک وبائی بیماریاں اذیت و تکلیف کے علاوہ ہیں جو مختلف ذریعوں سے پھیلتی ہے ۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس فضلے میں سے نصف سے زاید جعل سازی سے دوبارہ مریضوں کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈیلبو ایچ او) ایک رپورٹ میں اس فضلے میں جراحی اور پوسٹ مارٹم کے بعد نکلنے والے اعضا، خون میں لتھڑی روئی، دستانے، تیز دھار آلات جراحی اور اس نوعیت کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔ طبی فضلے کی یہ قسم نہ صرف ماحولیاتی آلودگی بل کہ انسانوں میں انتہائی مہلک بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ جب کہ بسا اوقات مریض دوران علاج بچ جانے والی یا ناقابل میعاد ادویات کو بھی کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے جو آگے چل کر آبی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق طبی کو فضلے کو محفوظ طریقے سے انسینیٹر (بھٹی) کے ذریعے تلف کیا جانا چاہیے، لیکن ملک بھر کے تقریباً تمام نجی اور سرکاری اسپتالوں میں انسینیٹرز کی عدم دست یابی یا کم تعداد کی وجہ سے سارے فضلے کو تلف کرنا ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ طبی فضلے سے بننے والے برتن، کھلونے، اسٹرا، پانی کے پائپ لوگوں میں مہلک بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں، جب کہ شیر شاہ، صدر ، بولٹن مارکیٹ میں اسٹیل کے بنے آلات جراحی (بلیڈز، قینچی وغیرہ) کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں۔ جب کہ کچھ منافع خور، بد نیت افراد سرنجوں اور سرجیکل آلات کو ری سائیکلنگ (ازسر نو قابل استعمال) کرکے نئی پیکنگ کرکے عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ طبی فضلے کی خریدوفروخت کے لیے شیرشاہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں آپ کو استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپس وغیرہ بہ آسانی مل سکتی ہیں اور یہاں سے خریدی گئی ڈرپس سے پلاسٹک دانہ بنا کر اسی دانے سے پلاسٹک کے برتن اور دیگر اشیا بنائی جاتیں ہیں۔

2005 میں پاکستان میں طبی فضلے کے سدباب کے لیے حکومت کی جانب سے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1991میں ہاسپیٹل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2005کا اضافہ کیا گیا، جس کا مقصد طبی فضلے کو وارڈ سے لے کر تلف کرنے تک کے مراحل کو یقینی بنانا تھا ۔ رولز کی شق نمبر 25کے مطابق ہر طبی مرکز Hazardous Substance and Hospital Wast Managment Rulesکے تحت پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے لائسنس حاصل کرنے اور اس کی سالانہ رپورٹ صوبائی ایجنسی کو فراہم کرنے کا پابند تھا۔ اس ایکٹ میں خون آلود روئی سے تاب کار ادویات اور آلات تک کو، جمع کرنے، نقل و حمل اور تلف کرنے تک کا طریقہ وضع کیا گیا، لیکن ہر قانون کی طرح یہ قانون بھی بے اثر ہو کر رہ گیا اور وفاق سے نجی اسپتال تک طبی فضلے کی تباہی سے بے خبر اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں۔

صحت کے عوامی مراکز صحت مند معاشرے کے ضامن سمجھتے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ سنگین اور توجہ طلب مسئلہ سراٹھائے کھڑا ہے۔ یہاں طبی فضلے کو ضائع کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ نظام نہیں بن سکا۔ طبی فضلہ بھی عام کچرے کی طر ح سڑک کے کنارے قائم کچرا کنڈی میں پڑا رہتا ہے، متعلقہ عملہ اس نظام کے لیے طے شدہ پالیسیوںکے نفاذ میں بری طر ح ناکام ہو چکا ہے۔ اس گندگی کے ڈھیر سے ہیپاٹائٹس، ایڈز، ٹائیفائیڈ، کینسر اور جلدی بیماری پھیل رہی ہیں۔

پیداوار کم، سپلائی زیادہ!
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ریسرچ جرنل میں شایع ہونے والی رپورٹ کا ڈیٹا پاکستان میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے ٹھوس شواہد فراہم کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں درآمدکردہ اور مقامی طور پر تیار ہونے والی سرنجز کی تعداد731ملین سے 867 ملین ہے، جب کہ اوپن مارکیٹ میں سپلائی کی جانے والی سرنجز کی تعداد 861 سے 961ملین ہے۔ پیداوار اور رسد کے درمیان موجود 152سے 175ملین کا یہ فرق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں استعمال شدہ سرنجوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا جارہا ہے۔ ایک اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں طبی فضلے کی شرح اوسطاً 1.8کلو گرام فی بستر ہے۔ آپریشن کے لیے سب زیادہ قیمتی سامان دل کے مریضوں کا ہوتا ہے جو 30 سے 70ہزار کی مالیت کا ہوتا ہے مگر اسپتالوں کے استعمال شدہ کوڑے کے ڈھیروں میں یہ سامان کبھی بھی دکھائی نہیں دیتا۔ بالکل ایسے ہی 100میں 60آپریشن آرتھوپیڈک (ہڈی و جوڑ) کے ہوتے ہیں جن میں استعمال ہونے والی امپلانٹس 5ہزار سے 6 ہزار روپے کی مالیت کے ہوتے ہیں مگر کوڑے میں دکھائی نہیں دیتے، کیوں کہ وہ دوبارہ استعمال ہونے کے لیے فروخت ہو جاتے ہیں۔

نئی قیمت کا اسٹیکر لگانا غیرقانونی!
ہمارا ہمیشہ سے یہی المیہ رہا ہے کہ کسی بھی چیز کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوز سرگرم ہوجاتے ہیں۔ بہت سی مافیاؤں کی طرح ایک اسٹیکر مافیا بھی ہے جو کسی بھی شے کی قیمت بڑھتے ہی پرانی قیمتوں پر نئی قیمت کا اسٹیکر چسپاں کرنا شروع کردیتی ہے۔ اسٹیکر مافیا کے اس طرزعمل سے ایک طرف ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوتی ہے تو دوسری طرف غریب مریضوں کو ادویات کی خریداری کے لیے اضافی رقم بلاوجہ ادا کرنی پڑتی ہے۔

حکومت پاکستان کی نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اور کوآرڈی نیشن کی وزارت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے جاری ہونے والے ایس آر او نمبر 628(I)/2016 کے مطابق ’تیار کنندگان، درآمد کنندگان، خوردہ فروش، اسپتال، کلینکس، تھوک فروش اور تقسیم کنندگان کو پہلے سے پرنٹ شدہ قیمت کو مٹانے اور نئی قیمت کا اسٹیکر لگانے کی اجازت نہیں ہے، لیکن اگر پیکیجنگ میٹیریل وفاقی حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹی فیکیشن کی تاریخ اجرا سے قبل تیار کیے گئے ہوں تو تیار کنندگان اپنے پیکیجینگ میٹریل کو بچانے کے لیے پرانی پیکنگ پر درج قیمت ہٹاکر لیزر پرنٹر کے ذریعے نئی قیمت پرنٹ کر سکتے ہیں۔ اصول کے تحت مارکیٹ میں سپلائی کیے گئے بیچز کو دوبارہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے، جب کہ نظرثانی شدہ ادویات کی قیمت ڈرگز لیبلنگ اور پیکنگ کے 1986کے رولز کے مطابق پرنٹ کی جائیں گی۔ پہلے سے منظور شدہ قیمتوں کی مصدقہ فہرست کے ساتھ یہ حلف نامہ بھی جمع کرایا جائے گا کہ قیمتوں میں اضافے کی کیلکولیشن ڈرگ پرائسنگ پالیسی2015 کے مطابق اور وفاقی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔