ووٹ ضرور ڈالنا ہے

سعید پرویز  منگل 2 اپريل 2013

پانچ سال پوری قوم نے بہت برے گزارے ہیں،کون سا ظلم، کون سی زیادتی،کون سا ستم، اس قوم نے برداشت نہیں کیا۔ ’’ظلم، مہنگائی، جبر، استبداد‘‘ سمیت غموں کے پہاڑ اس قوم پر ٹوٹے۔ حکمرانوں نے بے حسی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ حتیٰ کہ لوگ مرتے رہے، شہر شہر،گاؤں گاؤں جنازے اٹھتے رہے۔

قبرستان آباد ہوتے رہے،گھر برباد ہوتے رہے۔ چن چن کر لوگوں کو مارا جاتا رہا، کہیں کسی گھر سے باپ اور بیٹا ماردیے، کہیں چار بھائی مار دیے، یوں پیچھے رہ جانے والوں کو زندہ درگور کردیا جاتا۔ پورے پورے محلے،علاقے،رہائشی بلڈنگیں، بموں سے اڑا دی گئیں اور انسانوں سمیت،گھر بار سب کچھ برباد کردیا گیا۔ میں یہ سب کچھ اس لیے دہرا رہا ہوں کہ پھر سے وہ سب کچھ یاد آجائے جو گزشتہ پانچ سالوں میں ہمارے ملک میں ہوا ہے۔

قدرت نے بھی بڑی بربادیاں پھیریں، شہر کے شہر،گاؤں کے گاؤں سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایسے کہ صفحہ ہستی سے نشان تک مٹ گئے اور اگر نشان باقی رہے تو وہ حکمرانوں کے تھے۔ غریب تو اپنے گھر بار، مال مویشی سمیت مر کھپ گیا اور حکمران ٹولہ، اپنے محل، ماڑیوں، فارم ہاؤسز سمیت زندہ سلامت رہے۔ ان کے بڑے بڑے ایوان زندگی کی روشنیوں سے جگمگاتے رہے، ان کے درباریوں کے محل، حویلیاں آباد رہے۔ اور غریب اپنے سیلاب زدہ گھروندوں کے ملبے پر بیٹھے حسرت بھری نگاہوں سے بڑے بڑے ایوان، محل ماڑیاں، حویلیاں، فارم ہاؤسز دیکھتے رہے اور اپنے خدا سے کہتے رہے بقول جالبؔ:

خدایا کوئی آندھی‘ اس طرف بھی
الٹ دے ان کلہداروں کی صف بھی
زمانے کو جلال اپنا دکھا دے
جلا دے تخت و تاج ان کے جلا دے

مگر ایسا کبھی نہیں ہوا اور غریب اپنے ملبے سے اینٹیں اٹھاکر اپنے گھر بار پھر بنانے میں جت گئے، حکمران پیرس کی سیر کو چلے گئے۔ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ حکمرانوں نے ہمارا ملک غنڈوں، بدمعاشوں کے حوالے کردیا، کہیں کوئی ’’ٹپی‘‘ زمینیں ’’ٹپتا‘‘ پھرتا رہا تو کہیں کوئی قاتلوں کو فرار کرواتا رہا۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ’’نوگوایریاز‘‘ بنا دیے گئے۔ اسلحے بلکہ مجھے کہنے دیجیے جدید ترین اسلحے کے ذخیرے ڈھیر کردیے گئے۔ لیاری اور شانتی نگر دہشت گردوں کے نام کردیے گئے۔

انسانیت بے ننگ و نام ہوگئی، سر کاٹے گئے، سر سے فٹ بال کھیلی گئی۔ہاں اسی شہر میں اسی نام نہاد عروس البلاد اور روشنیوں کے بد بخت شہر کراچی میں۔ بلوچستان کو علیحدگی کی حدود تک پہنچا دیا گیا، لوگ اغواء ہوتے رہے، پھر ان کی لاشیں ملتی رہیں۔ حالات خراب ہوتے رہے اور حکمران نظریں چرائے رنگ رلیوں میں مصروف رہے۔ خیبر پختونخواہ طالبانی خودکش حملوں کی زد میں آج بھی ہے۔ امریکا بہادر اور اس کے اتحادی ڈرون حملے کر رہے ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ہزاروں بے گناہ لوگ ان ڈرون حملوں اور طالبانی خودکش حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

لوگ مرتے رہے اور حکمران اپنے وزراء، سفراء، مشیروں ، کارندوں کے ذریعے کرپشن میں مصروف رہے۔ اربوں کھربوں لوٹ لیے اور جاتے جاتے اپنے اور اپنے حواریوں کے لیے تاحیات مراعات کا اعلان کرتے گئے۔

یہ سب خلاصہ ہے پانچ سالہ حکمرانی کا۔ وہ لوگ جن کے باہر بھی ٹھکانے ہیں، ان کو تو اس ملک پاکستان کی کوئی فکر نہیں کہ یہ رہتا ہے رہے، نہیں رہتا نہ رہے۔ مگر ہم جن کا پاکستان کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں، ہم کو تو اپنے وطن کو بچانا ہے، اسے قائم رکھنا ہے، اسے ترقی دینا ہے، کیونکہ ہم نے مرنے کے بعد اسی وطن کی مٹی میں دفن ہونا ہے، کیونکہ:

دل دل پاکستان‘ جاں جاں پاکستان
ایسی زمیں اور آسماں
ان کے سوا جانا کہاں
بڑھتی رہے یہ روشنی
چلتا رہے یہ کارواں
دل دل پاکستاں‘ جاں جاں‘ پاکستان

دیکھو جی کیا موقعے پر نوجوانوں کا گایا ہوا نغمہ یاد آیا ہے اور واقعی بروقت یاد آیا ہے۔ اور یہ بھی غور کریں کہ اس وقت پاکستان کے نوجوان میدان میں کود پڑے ہیں اور یہی نوجوان اپنے ملک کی ڈوبتی کشتی کو بحفاظت ساحل مراد پر لے آئیں گے۔ اس بار ووٹنگ لسٹوں میں تقریباً چار کروڑ نوجوانوں کے نئے ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور یہ نوجوان پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لیے بڑے بے چین ہیں اور یہ الیکشن والے دن ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے ضرور نکلیں گے۔ میں یہاں نوجوانوں کے لیے شاعر عوام حبیب جالب کا ایک شعر نذر کرتے ہوئے آگے بڑھوں گا۔ نوجوان اس شعر کو دلوں میں بٹھا لیں:

نہ چھوڑنا کبھی طوفاں میں آس کی پتوار
یہ آ رہی ہے صدا ‘ دم بہ دم کناروں سے

تو خواہ کیسے ہی برے حالات ہوں، گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں اور اس الیکشن میں ووٹ ضرور ڈالنا۔ یقین مانیے جب پولنگ اسٹیشنوں پر ہزاروں کا مجمع صبح سے شام تک موجود رہے گا، تو ان بزدل دہشت گردوں کا کوئی وار نہیں چل سکے گا۔ یہ دہشت گرد سوچتے اور دیکھتے ہی رہ جائیں گے اور ہم ووٹ کے ذریعے بہت سا فاصلہ طے کرکے آگے بڑھ جائیں گے۔

اس وقت ووٹ کی پرچی ہی آگے بڑھنے کا وسیلہ ہے۔ اس موقعے کو ضایع نہیں کرنا اور الیکشن والے دن گھروں میں نہیں بیٹھنا۔ صرف ایک دن اپنے وطن کو دے دو۔ وطن ہمیں پکار رہا ہے۔ منزل ہمیں بلارہی ہے، اچھے دن سنہرا مستقبل بازو کھولے ہمیں سمیٹنے کے لیے منتظر ہے۔ اپنے وطن کے کروڑوں نوجوانوں کے ساتھ بڑے، بوڑھے، عورتیں مرد سب گھروں سے نکلیں اور ریکارڈ ووٹ کاسٹ کریں۔

اپنے وطن کو بچانے، اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کا واحد راستہ ووٹ کی پرچی ہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے اپنے پسندیدہ نمایندوں کو ووٹ دیں۔ دہشت گردی، بھتہ خوری، اسلحے کے انبار، زخم زخم بلوچستان، خود کش حملے، ڈرون حملے، لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ، ان تمام مسائل کا واحد اور موثر حل ووٹ کی پرچی کا استعمال ہے۔ ’’ہے وقت یہی یارو‘ ہونا ہے جو ہوجائے‘‘۔ آزاد اور بہادر عدلیہ، بے خوف الیکشن کمیشن اور ہماری فوج نے بھی فخر الدین جی ابراہیم کو یقین دلایا ہے کہ ہم آپ کے احکامات کے پابند ہیں۔ بہرحال ہمیں ہر صورت ووٹ ڈالنا ہے۔

ان کو ووٹ ڈالیے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم جواں رکھتے ہیں اور جو دل سے چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عزت ملے،اسے زندگی کی ساری مسرتیں اور سہولتیں ریاست اور حکومت دے۔کوئی ٹارگٹ کلر اس کو نہ مارے۔کسی بیگناہ کو کام پر جاتے ہوئے کوئی اغوا کرکے ہلاک نہ کرے۔ سب ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔ایسی حکمرانی کی کیا ضرورت ہے۔جو چہرے ووٹرز نے دیکھ اور بھانپ لیے ان سے خبردار رہیں جو چہرے بدل کر پھر سے ووٹ مانگنے در پر سوالی بن کر آنے والے ہیں۔ اپنے خوابوں کو سجا کر اور اپنے ووٹ کو سنبھال کر رکھنا ۔ سوچ سمجھ کر ووٹ دینا کہ اسی ووٹ سے بدلے گی زندگی ہماری۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔