اندرون لاہور: ایک تاریخی اثاثہ

انس سلیم  جمعـء 2 مارچ 2018
لاہور کوئی چھوٹا شہر نہیں، گھومنے نکلو تو بہت جگہیں دیکھنے اور دریافت کرنے کو ملتی ہیں۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

لاہور کوئی چھوٹا شہر نہیں، گھومنے نکلو تو بہت جگہیں دیکھنے اور دریافت کرنے کو ملتی ہیں۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

مجھے لاہور میں آئے ہوئے چار مہینے گزر چکے ہیں، ابھی تک تو لاہور کی کچھ ہی جگہیں دیکھ پایا ہوں۔ لاہور کوئی چھوٹا شہر نہیں، گھومنے نکلو تو بہت جگہیں دیکھنے اور دریافت کرنے کو ملتی ہیں۔

منگل کا دن تھا، وقت اپنے مطابق چل رہا تھا، میں اپنے بستر پر لیٹا آنکھیں موند کر دنیا ومافیہا سے بے خبر، نیند کے بحرِ بے کراں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ رہا تھا۔ خوابوں کے سمندر میں، زوردار موجوں کے طمانچے کھاتی میری سوچوں کی کشتی کسی گرداب میں پھنسی ہوئی تھی… کہ اچانک موبائل کی گھنٹی نے میری سوچوں کا تسلسل توڑا۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو کلاس سی آر کا میسج تھا کہ دونوں ٹیچر آج چھٹی پر ہیں۔ یونیورسٹی کے دوسرے لڑکوں کی طرح میری بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

موبائل اٹھا کر دوستوں کو میسج کیا کہ چلو اندرون لاہور گھومنے چلتے ہیں۔ میری طرح وہ بھی کہیں باہر جانا چاہتے تھے تو سب اندرون لاہور جانے پر ہی راضی ہوگئے۔ دو بجے تک سب تیار ہو کر میری طرف آگئے اور یہاں سے میں نے اپنا ’’ڈسکوری پلان‘‘ شروع کیا۔ کچھ دیر بعد مجھے ان گلیوں میں گھومنا تھا جن کا آج تک سنا تھا یا صرف تصویروں میں یہ جگہیں دیکھی تھیں۔

جوں جوں منزل قریب سے قریب تر ہوتی گئی، میرے جوش و ولولے کا پیمانہ لبریز ہوتا گیا۔ آخر وہ گلی آ ہی گئی جو دہلی دروازے کو جاتی تھی۔ دوستوں نے کہا کہ پہلے وزیر خان مسجد دیکھیں، پھر باقی جگہیں گھومیں گے۔ تھوڑی دیر تک ہم شاہی گزرگاہ سے گزر رہے تھے جہاں کبھی بادشاہوں کی سواریاں گزرا کرتی تھیں لیکن اب یہاں ہر کوئی شاہی انداز سے گزرتا ہے۔ چھوٹی گلیاں، جن کے دونوں اطراف دکانیں اور اوپر سجی بالکونیاں تھیں، اس گزرگاہ کو ایک الگ ہی احساس دے رہی تھیں۔ اور تو اور بادشاہ تو صرف یہاں سے گزرا کرتے تھے لیکن وزیر خان نے تو شاہی حمام کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت مسجد بھی بنا ڈالی جو نقوش و نگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

گلی میں تھوڑا چل کر آگے آئے تو مسجد وزیر خان بائیں جانب تھی۔ یہ لاہور کی قدیم، عالیشان اور لاثانی عمارت ہے جس کی شہرت اور تذکرہ یورپ تک پھیلا ہوا ہے۔ فی الحقیقت یہ خشتی کانسی کار عمدہ عمارت اپنی مثال میں ایسی نادر ہے کہ جس کا مثیل کہیں اور نہیں ملتا۔ مؤرخین لاہور نے اِسے لاہور کا فخر و اقتدار کہا ہے۔ عمارتِ مسجد میں ہر کام خوش اسلوبی سے کیا گیا ہے۔ عمارت ایسی پختہ چونا کار مستحکم تعمیر ہوئی ہے کہ باوجود پونے چار سو سال گزرنے کے، بغیر کسی نقص کے دکھائی دیتی ہے۔ مسجد کی دیواروں پر کانسی کار نقاشی ایسی ہوئی ہے کہ بڑے بڑے نقاش، نقاشی کا سبق لینے اِس مسجد آتے ہیں اور اِن طاقچوں کی نقول اُتار کر لے جاتے ہیں۔ کتبوں پر عربی و فارسی کے حروف کی خوشخطی ایسی نادر ہے کہ بڑے بڑے خوشنویس حضرات دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں۔ مقطع ایسا ہے کہ اِس قطع کی دوسری مسجد دیکھنے میں نہیں آتی۔ یہ مسجد دیواروں کی کاشی کاری اور منبت کاری کےلیے مشہور ہے۔

ہم نقاش تھے نہ ہی خوشنویس۔

خیر! ہم سب دوست اندر داخل ہو گئے۔ مسجد کی دیواروں سے لے کر اندر تک پوری مسجد کا جائزہ لیا، ذہن میں کئی سوال آئے کہ یار اسے بنانے والے کتنے خوش نصیب اور عظیم ہوں گے۔ دل نے تو یہ بھی کہا کیوں نہ درویش بن کر یہیں بسیرا کرلیا جائے۔ میں اپنے موبائل سے کیمرے کا رول ادا کرواتے ہوئے تصویریں کیھنچنے لگا۔ مسجد کے اسپیکر سے اذان کی صدا آنے لگی، ہم نے وضو کیا اور عصر کی نماز ادا کی۔ سورج ڈھل رہا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب سورج کی کرنیں مسجد وزیر خان کو اور بھی زیادہ خوبصورت بنارہی تھیں۔

مسجد وزیر خان سے نکلے تو شاہی حمام کا رخ کیا۔ یہ حمام سترہویں صدی عیسوی کے شروع میں مغلیہ حکومت کے صوبیدار حکیم علم الدین انصاری نے بنوایا۔ اسے حمام وزیر خان بھی کہا جاتا ہے اور شاہی حمام بھی۔ وسط ایشیا اور ایرانی حماموں کی طرز پر بنا یہ حمام عوام و خواص، مسافروں اور شہر کے باسیوں کے استعمال میں رہا۔ قریب ہی ایک سرائے بھی بنائی گئی تھی جس کے آثار اب نہیں ملتے۔

شاہی حمام میں داخل ہوئے تو گارڈ نے ٹکٹ خریدنے کا کہا۔ ہم نے یونیورسٹی کارڈ دکھاتے ہوۓ سو روپے میں پانچ ٹکٹ خریدلیے۔ ابھی وزیر خان مسجد کی دیواروں کی خوبصورتی آنکھوں کے سامنے ہی رقصاں تھی کہ شاہی حمام کی دیواریں بھی دلکش منظر پیش کرنے لگیں۔ حمام کے اندر روشنی کچھ کم تھی لیکن منظر دلفریب تھا۔

شاہی حمام کے بیچوں و بیچ جانے کےلیے کئی راستے تھے۔ ہم نے الگ الگ ہو کر ایک ایک راستہ چنا اور کچھ دیر بعد سب شاہی حمام کے احاطے میں موجود تھے۔ ہم نے یہاں کچھ تصویریں لیں اور ایک ایک دیوار کو کئی کونوں سے دیکھنا چاہا۔ بادشاہوں کی طرح ہم یہاں نہا تو نہیں سکتے تھے مگر صرف سوچ سکتے تھے جو ہم نے بخوبی کیا۔

کچھ وقت شاہی حمام میں گزارنے کے بعد ہم واپس شاہی گزرگاہ سے اندرون لاہور کی طرف جانے لگے۔ پرانے مکان، تنگ گلیاں جہاں روشنی بھی اپنا جلوہ بہت کم دکھاتی تھی۔ شام ہو رہی تھی تو سوچا کیوں نہ مغرب کی نماز بادشاہی مسجد میں پڑھی جائے۔ سب نے اتفاق کیا اور ہم بادشاہی مسجد کو نکل پڑے جہاں دیکھنے کو شاہی قلعہ بھی تھا مگر وقت نے اجازت نہ دی۔

بادشاہی مسجد پہنچے تو نماز ہو چکی تھی۔ خیر، ہم جوتے اتار کر اندر داخل ہوگئے۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کھڑکی میں پہنچے جہاں سے مینار پاکستان دکھائی دے رہا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ، ایک ہی منظر میں ہمارے سامنے ہو۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا، زوال، جدوجہد اور پھر یہ مختصر سا آزاد خطہ… ایک پوری داستان نظر آرہی تھی۔

کچھ وقت بادشاہی مسجد میں گزارنے کے بعد ہم واپسی کےلیے نکلے۔ پورا راستہ آنکھوں کے سامنے مسجدوں کی دیواریں تھیں یا اندرون لاہور کی تنگ اور خوبصورت گلیاں۔ واپس پہنچ کر انسٹاگرام پر اپنی تصویریں لگائیں تو سوچا اپنی حسین یادوں کو قلم کے ذریعے صفحۂ قرطاس پر اتارلیا جائے تاکہ پڑھنے والے بھی ہماری اس مختصر سی سیر میں شریک ہوسکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

انسان سلیم

انس سلیم

انس سلیم ایک فری لانس صحافی اور بلاگر ہیں ان کو ٹوئٹر پر فالو کرسکتے ہیں [email protected]



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔