پتہ نہیں میری پارٹی مشرف کیخلاف خاموش کیوں ہے؟ سینیٹرظفر علی شاہ

مانیٹرنگ ڈیسک  منگل 2 اپريل 2013
لال مسجد انتظامیہ کا غیرملکی دہشتگردوں سے رابطہ تھا، احمد رضا قصوری،کل تک میں گفتگو فوٹو : فائل

لال مسجد انتظامیہ کا غیرملکی دہشتگردوں سے رابطہ تھا، احمد رضا قصوری،کل تک میں گفتگو فوٹو : فائل

لاہور:  پاکستان مسلم لیگ کے سینیٹرظفر علی شاہ نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویزمشرف کیخلاف عدالت میں جانے والا سب سے پہلا آدمی میں تھا اس وقت میری پارٹی میرے ساتھ نہیں تھی۔

ایکسپریس نیو زکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ مشرف کے خلاف فری ٹرائل ہونا چاہیے اور یہ ٹرائل تمام ٹی وی چینلزپر لائیو دکھانا چاہیے۔میری پارٹی پتہ نہیں کیوں خاموش ہے لیکن میں تو خاموش نہیں ہوں ۔

لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ امیراورطاقتور کے لیے قانون کچھ اور ہے جبکہ غریب اور کمزور کے لیے قانون کچھ اور ہے۔جنرل مشرف کے جرائم پر کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے قانون کی زد میں نہیں آسکتا ہمیں امید نہیں ہے کہ موجودہ سسٹم میں پرویز مشرف کو سزا ملے ۔ہم ایمن الظواہری اوراسامہ بن لادن کو دہشتگرد نہیں اسلام کے ہیروسمجھتے ہیں ۔ لال مسجد کی انتظامیہ کے پاس جو اسلحہ تھا وہ قانونی تھا اس کا لائسنس تھا اور ہم عدالتوں سے باعزت بری ہوئے ہیں۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما احمد رضا قصوری نے کہاکہ پرویزمشرف اسلام آباد میں محفوظ ہیں ۔نائن الیون کے بعد امریکیوں کے منہ سے غصے کے مارے جھاگ نکل رہی تھی اگر مشرف حکمت عملی کا مظاہرہ نہ کرتے تو شاید امریکا افغانستان ، ہیروشیما، ناگاساکی، ویتنام کی طرح پاکستان پر بھی حملہ کر دیتا۔

جس نے پرویزمشرف پر جوتا اچھالا ہے اس کی پٹائی بھی دیکھنے والی تھی ہمیں پتہ ہے کس نے یہ حرکت کی ہے۔لال مسجد انتظامیہ کا ایمن الظواہری اور مصر کے دہشتگرد شیخ عیسٰی سے رابطہ تھا۔اسلام آباد میں لال مسجد انتظامیہ کیخلاف 38 مقدمات درج ہوئے تھے انھوں نے ریاست میں ایک الگ ریاست بنالی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔