حقوق نسواں، اسلام اور مشرقی و مغربی معاشرے کا رویہ

فاطمہ قمر  پير 12 مارچ 2018
معاشرے کے ہر فرد، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، کسی کو بھی اپنے مکمل حقوق و فرائض کا نہیں پتا۔ 
فوٹو: انٹرنیٹ

معاشرے کے ہر فرد، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، کسی کو بھی اپنے مکمل حقوق و فرائض کا نہیں پتا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

عورت اس ہستی کا نام ہے جس کے بغیر یہ کائنات ادھوری ہے۔ وہ ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے، بیوی ہے۔ وہ جس روپ میں بھی ہو، جب کسی کو چاہتی ہے تو اپنا تن من دھن سب اس پر قربان کر دیتی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ محبت کی اس پیکر کو دنیا میں ہر دور میں اور ہر خطہ میں پیروں تلے روندا گیا ہے۔ کہیں اس کے حقوق کو سلب کیا گيا ہے تو کہیں اس کے وجود کو ناپاک اور شرم کا باعث سمجھا گیا ہے، کہیں اس کو زندہ درگور کر کے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے تو کہیں اس کو نن بن کر زندگی کے لطف سے محروم ہو کر جینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

آج میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کی جسارت اس لیے کی ہے کہ وہ عورت جس کے وجود سے اس کائنات میں بہار ہے، جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دی ہے، وہ آج ہر معاشرے میں چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، انصاف اور اپنے حقوق کے حصول کےلیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر عورتوں کے حقوق پر اگر قلم اٹھایا جاتا ہے، تو تحریر میں یا تو مغربی سوچ کی ترجمانی ہوتی ہے یا پھر ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں فقط مغرب کو نیچا دکھانےکےلیے اسلامی تعلیمات بیان کی گئی ہوں، کہ اسلام نے عورت کو یہ مقام دیا اور یہ حقوق دیے جو مغرب انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کے باوجود خواتین کو آج تک نہیں دے پایا۔ یہ دو انتہائیں ہیں جن کے درمیان ہم گھرے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی درمیانے درجے پر آ کر موجودہ حالات کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے اس موضوع پر بات نہیں کرتا اور نہ ہی اس مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر سینکڑوں کالم لکھے جاتے ہیں، مشرقی و مغربی خطے کے تقریباً تمام ممالک میں زور و شور سے اس پر قانون بنائے جا رہے ہيں، اس کےلیے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، سیمینارز منعقد کروائے جا رہے ہیں، الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کئی مہمات چل رہی ہیں اور ٹاک شوز ہو رہے ہيں۔ اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو جو نتائج سامنے آتے ہیں تو وہ ان سب کاوشوں پر پانی پھیر دیتے ہيں۔ میں نے اس موضوع پر تحقیق کی، مختلف تحاریر کا مطالعہ کیا، لوگوں سے آراء لینے کے بعد جس نتیجہ پر پہنچی وہ آپ کے سامنے پیش کرتی ہوں۔ عین ممکن ہے کہ آپ سب کو میری رائے سے اختلاف بھی ہو کیونکہ ہر ایک کا نقطۂ نظر الگ ہوتا ہے لیکن بہر حال حقیقت یہی ہے۔

اس موضوع پر جو کالم علماء کی جانب سے لکھے جاتے ہیں یا پھر اگر علماء دین کو اس موضوع پر بات کرنے کےلیے ٹاک شوز میں بلایا جاتاہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حقوق نسواں کے نام پر ان چیزوں کی قطعا کوئی ضرورت نہیں، یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے اور ہم اسکی پر زور مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام نے جو حقوق عورتوں کو دیئے ہیں وہ کوئی اور مذہب یا حکومت دے ہی ںہیں سکتی اسلیے اس حوالے سے قانون سازی کرنا، مہیں چلانا، ٹاک شوز اور سیمینار کے انعقاد کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔ بجا فرمایا آپ نے کہ اسلام سب حقوق عورتوں کو دیتا ہے ہمیں اس پر کوئی شک نہیں، ہمارا سوال یہ ہے کہ اسلام جو حقوق عورتوں کو دیتا ہے وہ حقوق ہمارا معاشرہ کیوں نہیں دیتا؟ کیا وجہ ہے جو بڑے سے بڑا مذہبی طبقہ بھی اسلام کی تمام تر تعلیمات سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ حقوق اپنے گھروں کی خواتین کو نہیں دیتا؟ اور اس سب کا سد باب کیا ہو اور کیسے ہو؟

میں نے اس حوالے سے مختلف لوگوں سے آراء لیں تو اس موضوع کے مختلف پہلو میرے سامنے آئے۔ جو میں آپ لوگوں کے سامنے پیش کر رہی ہوں۔

سب سے پہلی بات جو اکثریت نے کی وہ یہ کہ حقوق نسواں کا شور بلا وجہ نہیں اٹھا، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونےکے باوجود ہمارے معاشرے کے لوگ حقوق نسواں کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل نہيں کرتے، بلکہ عمل درآمد تو دور کی بات ہمارے معاشرے کے بیشتر افراد کو ان حقوق کا سرے سے علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون سے حقوق ہیں جو اسلام عورت کو دیتا ہے، اور جن لوگوں کو علم ہوتا ہے وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی محض اپنی جھوٹی انا کی تسکین کی خاطر عمر بھر خواتین کو ان کے بیشتر حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔

خواتین کو ان کے حقوق کیسے دلوائے جائیں؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کے جواب میں یہ سب کام ہو رہے ہیں، این جی اوز، حکومتی ادارے، عہدے دار اور ہمارے ملک کا لبرل اور سیکولر طبقہ، ہر کوئی اپنے آپ کو سب سے زیادہ خواتین کے حقوق کا علمبردار ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ہم سب سے زیادہ خواتین کو ان کے حقوق دلواتے ہیں اس لیے ہمارا ساتھ دیا جائے، مگردر حقیقت اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کی تعداد جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق عورتوں کو ان کے حقوق دیتے ہیں، آٹے میں نمک کے برابر ہے یا شاید اس سے بھی کم ہے اور یہ تعداد کیوں کم ہے تو میرے خیال سے آج تک اس کے اسباب پر کسی نے روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تحریک حقوق نسواں اس مسئلے کا جزوقتی حل ہے۔ اس تحریک کے ذریعے اس مسئلے کو تو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے( جو کہ ایک قابل تحسین قدم ہے) لیکن اس مسئلے کے اسباب کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ اور جب تک کسی مسئلے کے سبب کو ختم نہیں کیا جاتا، وہ مسئلہ بار بار سر اٹھاتا رہتا ہے اور معاشرے میں موجود رہتا ہے۔ وہ اسباب کیا ہيں؟

سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حقوق نسواں ہے کیا؟ ہمارے ہاں حقوق نسواں کا عام تصور جو پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی آزادی دی جائے، اسے معاشی طور پر اپنا بوجھ خود اٹھانے دیا جائے، وہ کسی کی پابند نہ ہو، اسے اپنی مرضی سے جینے کی آزادی جائے اور اس پر کوئی روک ٹوک نہ کی جائے۔ یہ ہمارے نزدیک خواتین کے حقوق ہیں اور بس۔ میرے خیال میں سب سے پہلے ہمارے معاشرے میں خود عورت کو اپنا کا صحیح مقام پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اور اسے لفظ “حقوق نسواں” کو مکمل معانی اور تشریح سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے ہاں اس لفظ کو بہت غلط انداز میں لیا جا رہا ہے اور اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

حقوق نسواں کیا ہیں؟

سب سے پہلے عورت کو اپنے اصل حقوق کا پتا ہونا چاہئے کہ اس کے حقوق کیا ہیں؟ ہمارے ہاں عام طور پر یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اسلام عورتوں کو تمام مذاہب سے زیادہ حقوق دیتا ہے لیکن جب حقوق نسواں کی تحریک اور اس کےلیے احتجاج اور ریلیوں میں شریک عورتوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کن حقوق کے حصول چاہتی ہیں تو ان کا جواب ہرگز بھی تسلی بخش نہیں ہوتا۔ درحقیقت انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے حقوق کون کون سے ہیں اور ان کو کن کن حقوق کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ راقم کو حقوق نسواں تحریک سے کوئی ذاتی پر خاش نہیں اور نہ ہی وہ اس تحریک کی مخالفت کرتی ہے بلکہ وہ عورتوں کو ان کے اصل حقوق جو کہ ان کے مطالبہ کردہ حقوق سے کہیں زیادہ ہیں، بتانا چاہتی ہے اور کہتی ہے کہ تم نے ایک اچھے مقصد کےلیے تحریک چلائی ہے تو اسے چند حقوق حاصل کر کے چھوڑ نہ دوبلکہ اپنے ہر اس حق کا مطالبہ کرو جو تمہیں اسلام دیتا ہے اور جو یہ دنیا، یہ معاشرہ نہیں دیتا۔

ہمارے معاشرے کے ہر فرد، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، کسی کو بھی اپنے مکمل حقوق و فرائض کا نہیں پتا۔ مدرسوں، سکولوں ، کالجوں میں بھی کبھی حقوق و فرائض نہیں بتائے جاتے۔ ہمارے وطن میں تعلیم بہت ہے، ٹیلنٹ بھی ہے لیکن تربیت موجود نہیں ہے۔ اس لیے حقوق و فرائض کی لا علمی کی وجہ سے انسان مغرب کی طرف رجوع کرتا ہے، اس کی طرف دیکھتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں مغربی معاشرے کو مثالی اور ہر برائی سے پاک معاشرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اکثر معاملات میں وہ واقعی ایک مثالی معاشرہ ہے لیکن اس معاملے میں خود وہاں کی خواتین کو اکثر حقوق نہیں ملتے، جس معاشرے کو ہم انصاف کا علمبردار کہتے ہیں وہاں اگر ہم کسی بھی شعبے میں چلے جائیں تو ہر جگہ وہی برائی نظر آئے گی جسکا ہمارا معاشرہ تیزی سے شکار ہوتا جا رہا ہے اور مغرب جیسے مادر پدر آزاد معاشرے میں بھی زیادہ تر خواتین اس کا جبرا شکار بنتی ہیں اور ان کی بارہا شکایات پر بھی زیادتی کرنے والوں کے ساتھ کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔ اس صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ پھر ہمارے اور مغربی معاشرے میں فرق کہاں ہے؟

فرق یہ ہے کہ ہمارا میڈیا اس چیز کو بہت زیادہ نمایاں کر کے دکھاتا اور اس کے حل کےلیے مغربی معاشرے کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جس سے عوام کو یہ تاثر ملتا ہے کہ تمام برائیاں مشرق میں ہی موجود ہیں (جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ پورے پاکستان میں ہر طرف خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں، پاکستان میں حقوق نسواں کے حوالے سے امریکہ اور بھارت سے کہیں بہتر حالات ہیں) اور ان کے تمام حل مغربی طرز زندگی اپنانے میں ہے۔ چونکہ ہر شخص اپنی زندگی میں سکون چاہتا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ اسے جلد سے جلد ان تمام مسائل سے چھٹکارا مل جائے تو وہ مغرب کی تقلید کرتا ہے اور وہ شخص عملی طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس دین پر عمل کر کے میں کیا کروں جس میں میری عزت ہی نہیں کی جاتی، اگر میں مغرب کی نقالی کروں گا تو کم از کم مجھے میرے حقوق تو مل جائیں گے اور میں معاشرے میں عزت سے جی تو سکوں گی ناں۔ یہی سوچ لے کر ہر انسان اپنی جگہ اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نظام کو بدلو اور مغربی نظام لا‏ؤ تا کہ ہم اس ملک ميں عزت سے جی سکیں۔ پھر اس کےلیے تحریکیں چلائی جاتی ہیں اور حقوق نسواں کا شور اٹھتا ہے، اس شور کی مخالفت میں علماء دین کا شور اٹھتا ہے اور یوں ملک کا میڈیا ایک میدان جنگ بن جاتا ہے جہاں پر ہر کوئی ایک دوسرے کو نییچا دکھانے کےلیے بڑھ چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا کہیں بیچ میں ہی رہ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں عام طور پر گھر داری کرنے والی خواتین کو بہت حقارت اور ترحم بھری نظروں سے دیکھا جات ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کو کوئی حق حاصل نہیں اور نہ ہی یہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی سکتی ہے، اس کی زندگی کا کوئی مقصد اور فائدہ نہیں۔ اگر حقوق والی بات دیکھی جائے تو یہ ایک حد تک درست ہے مگر مکمل درسست نہیں، اسے زندگی میں کسی جگہ حقوق نہیں بھی ملتے مگر کہیں بھی حقوق نہیں ملتے، یہ بات قطعا غلط ہے۔ رہی دوسری بات کہ ان کی زندگی کا کوئی فائدہ اور مقصد نہيں تو یہ دیکھ لیا جائے کہ اس دنیا کے تمام کامیاب انسانوں کی مائیں گھریلو عورتیں ہی تھیں، اور جو لوگ آج یہاں تک پہنچ کر یہ بات کہنے کے قابل ہوئے ہیں تقریبا ان کی مائیں بھی گھریلو عورتیں ہی تھیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون کون سے طبقے کی خواتین کو ان کے حقوق نہيں دیئے جاتے؟ کیوں نہیں دیئے جاتے؟ اس مسئلے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ اور اس مسئلے کا اصل حل کیا ہے؟ اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین چاہے وہ اپر کلاس سے ہوں، مڈل کلاس سے ہوں یا لوئر کلاس سے ہوں، وہ تمام اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر، کہیں نہ کہیں اس مسئلے کا شکار ہيں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ تعلیم سے دوری، نام نہاد غیرت اور انا، جاگیردارانہ نظام اور دینی احکامات سے نابلد ہونا ہے۔

لیکن اکثر دیکھا جاتا ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور مذہبی گھرانوں کی خواتین کو بھی ان کے اکثر حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین کے احکامات کا علم ہونے کے باوجود بھی عورتوں کو ان کے حقوق کی ادائیگی کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو مجھے اس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی غلطی نظر آتی ہے۔ عورتیں اپنے مردوں کا کہنا نہیں مانتیں، ان کی حق تلفی اور نافرمانی کرتی ہيں، ان کے ساتھ گستاخانہ رویہ روا رکھتی ہیں، ایسے میں مرد کا اشتعال میں آنا فطری بات ہے۔ اگروہ غصےمیں ان کی بات کے رد عمل کے طور پر کچھ کرتے ہيں تو وہ ظالم ٹھہرےاور عورتیں مظلوم۔ لیکن جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ویسے تمام مرد بھی ایک سے نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ صرف اشتعال میں ہاتھ اٹھاتے ہیں بلکہ کچھ مرد بلا وجہ اپنی انا کی تسکین کےلیے عورتوں کی تذلیل کرتے ہیں اور اس کو اپنا حق سمجھتے ہيں۔ کچھ نے بچپن سے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہوتی ہے اور ان کی تربیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ عورتوں کو پاؤں کی جوتی سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں ہوتے۔

ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہندوؤ‏ں کے ساتھ رہ رہ کر، ٹی وی پر ان کے ڈرامے اور ثقافت کو دیکھ دیکھ کر ہمارے خیالات بھی تقریبا ہر معاملے میں ان کے جیسے ہی ہوگئے ہیں اور خواتین کے معاملے میں تو خصوصا بہت زیادہ ہم نے ان کی نقالی کرنی شروع کر دی ہے۔

مثلا اگر کسی کی نئی شادی ہوتی ہے اور شادی کے فورا بعد اس کو یا اس کے گھر والوں کو کوئی نقصان اٹھانا پڑ جاتا ہے تو فورا نئی آنے والی دلہن کو منحوس ہونے کا طعنہ دے دیا جاتا ہے اور یہ طعنہ بھی عموما عورتوں کی جانب سے ہی دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی گھروں میں اگر بہو ساس اور نندوں کو پسند نہیں آتی تو وہ سب مل کر اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں، اتنا کہ شوہر کو اس کی جھوٹی سچی شکایات لگا لگا کر اس سے بد ظن کر دیتے ہيں، یوں اس پر ہر طرح سے زند گی تنگ ہو جاتی ہے۔ اگر وہ لڑکی مظالم سے گھبرا کر اپنے میکے کا رخ کرتی ہے تو ماں باپ اسے ہر حال میں اپنا گھر بسائے رہنے کےلیے خاموشی اور صبر سے سب کچھ برداشت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اگر وہ لڑکی خلع لینے کا سوچے بھی تو اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ خلع لینے کا سوچنا بھی مت۔ اس کو اس کے خلع لینے کے جائز حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ حق مہر کی رقم کا مطالبہ کیا جائے تو بھی اسے نہیں دیا جاتا، جائیداد میں حصہ اسے نہیں دیا جاتا، اس کی شادی کے وقت رضامندی اس سے نہيں لی جاتی، اور اکثر علاقوں میں اسے تعلیم کے جائز حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ سب تو عورتوں کے حقوق کے مسائل میں سے چند مسائل ہیں، اگر تمام مسائل بیان کرنے لگوں تو یقینا ایک پوری ضخیم کتاب کی شکل میں ہی بیان ہو سکیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا حل کیا ہے؟ ہمارے ہاں اس مسئلے کے حل کےلیے قانون بنائے گئے، اس پر قراردادیں منظور کی گئیں جو کہ حقیقتا ایک بہت قابل تحسین عمل ہے کہ ہماری حکومت کو واقعتا اس بات کا شعور ہے کہ عورتوں پر زیادتیاں کی جا رہیں ہيں اور ان کی روک تھام ہونی چاہئے لیکن ہر کام کرنے کے کچھ مراحل ہوتے ہیں اور ان مراحل کو طے کر کے ہی انسان اس مقصد کوحاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو حل کرنے کے بھی کچھ مراحل ہيں جن پر عمل کرکے ہی ہم اس معاشرے میں خواتین کو ان کے حقوق دلوانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، اور وہ مراحل مندرجہ ذیل ہیں:

بچوں کو بچپن ہی سے دوسروں کی عزت کرنا سکھائی جائے، ان میں ایثار کے جذبے کو بیدار کیا جائے۔ اگر اسے بچپن سے ہی دوسروں کی عزت کرنا سکھائی جائے گی تو وہ کسی کی بھی حق تلفی نہیں کرے گا۔ کچھ چیزوں کی تعلیمات والدین بچوں کو نہیں دیتے کہ بڑا ہو کر خود ہی سمجھ جائےگا، جبکہ بچے کو اگر کوئی چیز ماں باپ نہ سکھائیں تو وہ اسے معاشرے میں اردگرد لوگوں سے سیکھتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے اردگرد سے سیکھے گا وہ جانے کیسا ہوگا۔ اس لیے بچے کی ذہنی استعداد کے مطابق اسے اس کے سوالات کے جوابات دے کر مطمئن کریں کیونکہ اگر آپ ٹالیں گے تو وہ کسی اور سے پوچھے گا اور وہ کوئی اور جانے کیا جواب دے اسے۔ ہمارے معاشرے میں الحمدللہ العزیز اکثریت مسلمانوں کی ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت محبت کرتے ہيں اور اپنے بچوں کو قرآن حفظ کروانا اور اس کی تعلیم دلوانا ایک بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں، ایسے میں اگر بچوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ یہ قرآن جسے تم پڑھ رہے ہو، یہ صرف یاد کرنے اور پڑھنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس میں زندگی گزارنے کا وہ طریقہ لکھا ہے جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا اور اسے ہرمسئلے میں قرآن سے رجوع کرنا سکھائيں تو وہ ضرور اس کے مطابق عمل کرے گا۔

خواتین اپنے حقوق جاننے کےلیے قرآن سے رجوع کریں کیونکہ جتنے حقوق انکے قرآن میں درج ہیں، وہ انہیں معلوم ہی نہیں ہیں، اور آج کے ماڈرن دور میں جہاں مغرب کی طرف اسلام قبول کرنے میں تیزی آرہی ہے، اس کو قبول کرنے والی زیادہ تر خواتین ہیں اور انہوں نے اسلام کا مطالعہ کر کے اس میں خواتین کے حقوق کو پڑھ کر اسلام قبول کیا ہے کہ جو حقوق ہمیں اسلام دے رہا ہے، وہ ہمارا جدید اور فوری انصاف پر مبنی معاشرہ بھی نہیں دے رہا۔ لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ حقوق و فرائض لازم و ملزوم چیزیں ہیں اور انہیں اپنے حقوق لینے کےلیے اپنے فرائض کو ادا کرنا ہو گا جبکہ آج کے دورمیں ہر شخص اپنے حقوق تو حاصل کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس میں کوئی کمی بیشی بھی نہ ہو۔ تعلیم کو ہر سطح پر عام کیا جائے اور اس کےلیے ہر ذریعے کا استعمال کیا جائے۔ اپنے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کریں اور دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس مقصد کےلیے قرآن و حدیث کی تعلیم بچپن سے بچوں کو دی جائے اور اسے ہر سطح پر عام کیا جائے چاہے آپ طالبہ ہیں، آپ بہن ہیں، آپ ماں ہیں، آپ بیٹی ہیں، آپ بیوی ہيں، آپ بہو ہیں، آپ استاد ہیں، آپ جو بھی ہيں، آپ اپنی استعداد کے مطابق اپنا کام کریں، اپنے پیغام کوپھیلائيں۔

یہ نہ سوچیں کہ میں تنہا کیا کر سکتی ہوں؟ آپ بہت کچھ کر سکتی ہيں، آپ کے ہاتھ میں آئندہ آنے والی نسلیں ہیں، اس ملک کا مستقبل ہے، تو اٹھیں اور دنیا کو بتا دیں کہ پاکستانی خواتین اپنے حقوق کےلیے دنیا بدل سکتی ہيں۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

فاطمہ قمر

فاطمہ قمر

بلاگر اسلامی یونیورسٹی میں بی ایس کی طالبہ ہیں اور بلاگنگ کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کی کوشش پر یقین رکھتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔