شام کی تقسیم کا خفیہ پلان

سید عاصم محمود  اتوار 11 مارچ 2018
مشرق وسطیٰ کا تاریخی خطہ عالمی قوتوں کی باہمی کشمکش کا نشانہ بن گیا، تحقیقی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

مشرق وسطیٰ کا تاریخی خطہ عالمی قوتوں کی باہمی کشمکش کا نشانہ بن گیا، تحقیقی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

پچھلے دنوں فرانس اور لیبیا میں ترکی کے سابق سفیر، یولک اوذلکر (Uluc Ozulker) نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا۔

یولک اوذلکر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس مل کر شام کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے مذموم مفادات پورے کرسکیں۔ یہ تینوں طاقتیں تیل کی دولت سے مالامال اور جغرافیائی طور پر بھی اہم خطے،مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ بحال رکھنا چاہتی ہیں۔ نیز امریکا کی سرتوڑ کوشش ہے کہ ایران شام میں اپنی پوزیشن مضبوط نہ کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ شام فی الوقت متحارب طاقتوں کے مابین ایک نئی گریٹ گیم کا نشانہ بن چکا۔ گویا آنے والے دنوں میں بدقسمت و مظلوم شامی عوام کو تباہی، بربادی اور قتل و غارت کے مزید خوفناک واقعات دیکھنے ہوں گے۔

مغربی استعماری طاقتوں نے پچھلی ایک صدی سے شام کو اپنی سازشوں اور مفاداتی کھیل کا شکار بنایا ہوا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران درج بالا تینوں مغربی طاقتوں… برطانیہ، فرانس اور امریکا نے حجاز کے عرب والی، شریف حسین کو لارا دیا کہ اگر وہ عثمانی ترک حکومت کے خلاف بغاوت کردے، تو بعدازاں سارا جزیرہ نما عرب (یعنی سعودی عرب)، عراق، شام اور فلسطین اسے دے دیا جائے گا۔شریف حسین مغربی طاقتوں کے جال میں پھنس گیا اور اس نے ترک حکومت کے خلاف بغاوت کردی۔ عربوں کی حمایت پاکر ہی برطانوی و فرانسیسی فوج نے فلسطین، شام، عراق اور اردن پر قبضہ کرلیا۔ بعدازاں اردن اور عراق شریف حسین کے بیٹوں کو دے کر انہیں ٹرخا دیا گیا جبکہ عالمی طاقتوں نے اہم علاقے آپس میں بانٹ لیے۔ فلسطین برطانیہ جبکہ شام فرانس کے قبضے میں چلا گیا۔

اس وقت شام کی 90 فیصد آبادی مسلمان تھی۔ ان میں سے 87 فیصد سنّی تھے اور 13 فیصد شیعہ۔ شیعوں میں بیشتر مسلمان علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ فرقہ ورانہ اختلافات موجود تھے مگر وہ نمایاں نہیں ہوپاتے اور تمام مسلمان مل جل کررہتے ۔ یہی وجہ ہے، جب فرانس نے شام پر قبضہ کیا، تو تمام مسلمانوں نے اس استعماری طاقت کے خلاف اعلان جہاد کردیا۔ یہ جہاد 1925ء تا 1927ء جاری رہا۔ فرانسیسی فوج جدید ترین اسلحے کے بل پر ہی اسے ختم کرپائی۔دوسری جنگ عظیم میں جرمن حکمران ہٹلر نے برطانیہ اور فرانس کی عسکری طاقت تہس نہس کردی۔ کمزور ہوکر فرانس شام پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکا اور آزادی پسند لیڈروں نے 24 اکتوبر 1945ء کو شام کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ شکری القوتلی پہلے شامی صدر منتخب ہوئے جو مشہور آزادی پسند رہنما تھے۔

شکری القوتلی استعماری طاقتوں اور اسرائیل کے مخالف تھے۔ وہ اپنے نوزائیدہ ملک کو مغربی استعماری قوتوں کے اثرورسوخ سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ نئی سپرپاور، امریکا کے مغرور اور خود غرض حکمران طبقے کو ان کا مخالفانہ رویہ پسند نہیں آیا۔ چناں چہ امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے اور شام میں امریکی سفارت کاروں نے شامی جرنیلوں کو سبز باغ دکھائے اور شکری القوتلی کے خلاف انہیں ابھار دیا۔ نتیجتاً 29 مارچ 1949ء کو شامی فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

یہ جدید دنیائے عرب کی پہلی فوجی بغاوت تھی جو امریکی حکمران طبقے کے مفادات کی وجہ سے انجام پائی۔اس بغاوت کے بعد شام میں حکمران آتے جاتے رہے اور ملک سیاسی و معاشرتی لحاظ سے انتشار کا شکار رہا۔ نومبر 1970ء میں وزیر دفاع، حافظ الاسد نے حکومت سنبھال لی جو علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔اوائل میں صدر حافظ الاسد نے عوام میں سیاسی، مذہبی اور معاشرتی طور پر اتحاد پیدا کرنے کی خاطر مثبت اقدامات کیے۔ سیاسی قیدی رہا کردیئے گئے۔ روزمرہ اشیا کی قیمتیں 15 فیصد کم کردیں جس سے عوام کی مشکلات میں کمی آئی۔ صدر اتحاد اسلامی کے لیے بھی کوشاں تھے اور عالم اسلام میں کرنل قذافی کی طرح انہیں ایک ہیرو سمجھا جانے لگا۔

لیکن رفتہ رفتہ حافظ الاسد پر اقتدار کا نشہ چڑھ گیا اور وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگے۔ انہوں نے اپنی حکومت کو دوام بخشنے کی خاطر اہم سرکاری عہدوں پر رشتے دار اور دوست احباب تعینات کردیئے۔ خصوصاً فوج اور تمام سکیورٹی اداروں کے چیف علوی افسر مقرر کیے گئے۔ یوں یہ واضح ہوگیا کہ اب ایک چھوٹا سا فرقہ قومی وسائل پر قابض ہوچکا جبکہ بقیہ عوام مشکلات زندگی سے نبرد آزما تھے۔

1979ء میں شام کی اسلام پسند تنظیم،اخوان المسلمون کے ارکان حکومت کے خلاف مسلح جہدوجہد کرنے لگے۔ حافظ الاسد حکومت نے نہایت سختی سے اخوانی جنگجوؤں کو کچل ڈالا اور کئی شہری مردوزن اور بچے بھی خانہ جنگی کا نشانہ بن کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مقتولین کی تعداد چالیس ہزار تک بتائی جاتی ہے۔

اس واقعے کے بعد حافظ الاسد حکومت نے مخالفین پر مزید سختی کردی اور ہر قسم کی تنقید ممنوع قرار پائی۔ یوں حافظ الاسد آمر بن بیٹھا اور طاقت کے سہارے حکومت کرنے لگا۔ 2000ء میں وہ چل بسا اور اس کے بیٹے بشارالاسد نے حکومت سنبھال لی۔ گویا شام میں بادشاہت کا سلسلہ چل نکلا۔ فوج اور تمام اعلیٰ سرکاری عہدوں پر حافظ الاسد کے ہمدرد تعینات تھے۔ اسی لیے بشارالاسد نیا صدر بننے میں کامیاب رہا۔

2011ء میں دنیائے عرب میں آمروں اور بادشاہوں کے خلاف ’’عرب بہار‘‘ کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات شام تک بھی پہنچ گئے جہاں تقریباً چالیس برس سے ایک ہی طاقت ور ٹولہ حکومت کر رہا تھا۔ مٹھی بھر لوگ قومی وسائل پر قابض تھے۔ اعلیٰ سرکاری عہدوں سے لیکر صنعت و تجارت و کاروبار تک ،سب کچھ انہی کے قبضے میں تھا۔ چناں چہ یہ طبقہ امیر سے امیر تر ہورہا تھا جبکہ عوام بدستور دو وقت کی روٹی پانے کے لیے دن بھر تگ و دو کرتے رہتے۔ اب دیگر عرب باشندوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شامی عوام بھی حکمران طبقے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ یہ احتجاج بنیادی طور پر معاشی و سیاسی نوعیت کا تھا، مذہبی نہیں۔

بشارالاسد نے بھی باپ کی طرح عوام کے احتجاج کو سختی سے دبانا چاہا، تو وہ پھیل گیا۔ اب عوام نے بھی سرکاری سکیورٹی اداروں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔ جلد ہی اس احتجاج میں مذہبی عنصر بھی داخل ہوگیا اور احتجاجی یہ کہہ کر عوام کو ساتھ ملانے لگے کہ ایک مخصوص فرقے کی حکمرانی ختم کرنے کا وقت آپہنچا۔ اس احتجاج سے القاعدہ اور دیگر جنگجو تنظیموں نے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے شام میں قدم جمالیے۔

بشارالاسد حکومت ایران کی حمایتی اور اسرائیل کی مخالف تھی۔ نیز وہ روس سے بھی قریبی تعلقات رکھتی تھی۔ لہٰذا امریکا اس حکومت کو ناپسند کرتا تھا۔ جب شام میں حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا، تو امریکی حکومت جنگجوؤں کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کرنے لگی۔ دلچسپ بات یہ کہ شامی حکومت سے نبرد آزما جنگجوؤں میں القاعدہ کے مقامی لیڈر بھی شامل تھے اور انہیں بھی امریکی اسلحہ دیا گیا۔حالانکہ امریکا دیگر ممالک مثلاً افغانستان، یمن، صومالیہ، پاکستان وغیرہ میں القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیموں سے برسرپیکار تھا۔ یہ معاملہ یہ سچائی اجاگر کرتا ہے کہ امریکی حکمران طبقہ سچ اور جھوٹ کا معیار نہیں رکھتا بلکہ صرف اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر عمل کرتا ہے چاہے وہ منفی اور غلط ہی ہوں۔

جب امریکا نے شام میں دخل اندازی کی، تو بشارالاسد حکومت نے پہلے ایران اور پھر روس سے مدد مانگ لی۔ یوں یہ دونوں غیر ملکی قوتیں بھی شامی خانہ جنگی کا حصہ بن گئیں۔ اس دوران داعش کا ظہور ہوا اور خانہ جنگی میں ایک اور فریق داخل ہوگیا۔شام کی خانہ جنگی لحظہ بہ لحظہ کروٹیں بدلتی رہی۔ داعش نے دیکھتے ہی دیکھتے عراق و شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا۔ مگر پھر امریکی، روسی، عراق اور شامی افواج کے حملوں نے داعش کو تتر بتر کردیا اور شام میں یہ تنظیم تقریباً ختم ہوچکی۔اب شام کی خانہ جنگی میں بنیادی طور پر دو بڑے فریق ہیں:

 شامی حکومت کی مخالف جماعتیں اور بشارالاسد حکومت

مخالف جماعتیں تین دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ ایک دھڑا انتہا پسند جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ دوسرے دھڑے میں اعتدال پسند اور سیکولر مزاج رکھنے والے شامی لیڈر شامل ہیں۔جبکہ تیسرا دھڑا کرد تنظیموں پر مشتمل ہے۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس دوسرے اور تیسرے دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں۔بشارالاسد حکومت کو روس اور ایران کی مدد حاصل ہے۔داعش کی شکست کے بعد شمالی شام کا بڑا حصّہ کرد تنظیموں کے قبضے میں ہے۔امریکا اسی علاقے میں اپنی فوجی چوکیاں قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ شام میں قدم جما سکے۔وجہ یہ کہ وہ ایران کو ہر صورت شام سے نکالنے کا متمنی ہے۔دراصل امریکی حکومت پر اسرائیل نے دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ ایران کو شام میں اپنی پوزیشن مضبوط نہ کرنے دے۔اگر بشارالاسد حکومت کے تعاون سے ایران نے شام میں مربوط فوجی اڈے بنا لیے تو اسرائیل کو دو طرح سے نقصان پہنچے گا۔

اول یہ کہ سبھی اسرائیلی شہر ایرانی میزائلوں کی زد میں آ جائیں گے۔یوں فی الوقت اسرائیل کو خطے میں جو عسکری برتری حاصل ہے،وہ ختم ہو جائے گی۔دوسرے ایران کے لیے آسان ہو گا کہ وہ لبنان میں اپنی اتحادی تنظیم،حزب اللہ کو اسلحہ وسرمایہ فراہم کر سکے۔یوں یہ تنظیم مزید طاقتور ہو گی۔اس طرح اسرائیل خود کو دو اطراف سے دشمنوں میں گھرا پائے گا۔اس صورت حال سے بچنے کی خاطر ہی اسرائیلی حکومت اور امریکا کی بااثر یہودی لابی نے صدر ٹرمپ پہ دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ ایران کو شام میں فوجی اڈے بنانے نہ دے۔

ماہ فروری میں اسرائیلی طیاروں نے شام میں ایرانی اڈوں پر وسیع پیمانے پر بمباری کی تھی۔اس دوران اسرائیلی ایک ایف سولہ طیارے سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے۔جدید طیارے کی تباہی سے یہ تاثر جاتا رہا کہ اسرائیلی فضائیہ ناقابل شکست ہے۔اس امر نے شامی حکومت کا حوصلہ بلند کر دیا۔اس دوران ترکی اور کرد تنظیموں کے مابین پیچ پڑ گیا۔ترکی کا دعوی ہے کہ کرد اپنی مملکت،کردستان تشکیل دینا چاہتے ہیں جس میں ترک علاقے بھی شامل ہوں گے۔اسی لیے ترکی علیحدگی پسند کرد تنظیوںکا مخالف ہے۔ماہ جنوری سے ترک فوج نے شمالی شام کے علاقے،عفرین پر حملہ کر رکھا ہے تاکہ وہاں قائم کردوں کے عسکری اڈے تباہ کیے جا سکیں۔

ماہرین کی رو سے شام میں اب دو بڑی طاقتیں…امریکا اور روس مدمقابل آ گئی ہیں۔ان کی سعی ہے کہ اپنے اپنے حمایتوں کو شام کا اقتدار سونپا جائے ۔یہی وجہ ہے،دونوں قوتیں شام میں اپنا عسکری حلقہ اثر پھیلانے میں جتی ہیں۔روس نے کچھ عرصہ قبل اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے،سخوئی ایس یو۔57 شام بھجوائے ہیں۔جبکہ امریکا شمالی شام میں مزید فوجی بھجوا رہا ہے۔دونوں سپر پاورز کے اقدامات سے عیاں ہے کہ شام میں ان کے درمیان نئی گریٹ گیم شروع ہو چکی۔لگتا ہے،اپنی اپنی انا کی خاطر وہ اس اسلامی مملکت کو آگ و خون کے سمندر میں جھونکنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔گویا لاکھوں شامی مردوں ،عورتوں اور بچوں کو ابھی مذید تباہی وبربادی کے لرزہ خیز مناظر سے گذرنا ہو گا۔نجانے ان کے دیس میں امن وآشتی اور محبت کے پھول کب کھلیں گے اور وہ زندگی کی خوبصورتیاں دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو ں گے۔

روس کا خوفناک میزائل
روسی صدر پوٹن نے اوائل مارچ میں اپنی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ روس بہت سے جدید ترین ہتھیار بنا چکا۔ان میں ایک ہائپرسونک میزائل،اون گراڈ(Avangard) شامل ہے جسےRS-26 Rubezh بھی کہا جاتا ہے۔اون گراڈ دنیا کا تیز ترین ایٹمی میزائل ہے۔یہ 20 ماک کی رفتار سے سفر کرتا ہے یعنی ساڑھے چوبیس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ صرف ایک گھنٹے میں طے کر لیتا ہے۔یہ ایک سیکنڈ میں6کلومیٹر پار کر تا ہے۔

امریکا کے سبھی میزائل شکن میزائل زیادہ سے زیادہ 5 ماک کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔گویا وہ کسی صورت روسی اون گراڈ میزائل تباہ نہیں کر سکتے۔اصول یہ ہے کہ جو میزائل 2 ماک کی رفتار سے سفر کر رہا ہے،اسے نشانہ بنانے والے میزایئل کی رفتار کم ازکم 3 ماک ہونی چاہیے۔اس لحاظ سے روسی اون گراڈ کے سامنے کسی امریکی میزائل کی دال نہیں گل سکتی۔اسے گرانے کے لیے 28 ماک کی رفتار والا میزائل ہونا چاہیے۔

دراصل امریکا نے کچھ عرصہ قبل یورپ میں اپنی میزائل شکن بیٹریاں نصب کی ہیں تاکہ نیٹو ممالک کو روسی میزائلوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔جواباً روس ترپ چال چل کر اون گراڈ میزائل سامنے لے آیا جس کے بالمقابل امریکی میزائل بیٹریاں کسی کام کی نہیں رہیں۔اس روسی میزائل نے پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع)میں ہلچل مچا دی ہے اور امریکی سائنس داں اون گراڈ کا توڑ دریافت کے کے لیے اپنی حکومت سے کروڑوں ڈالر مانگ رہے ہیں۔لگتا ہے،امریکا اور روس کے مابین بتدریج نئی سرد جنگ جنم لے رہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔