عامل نے جادو ٹونے سے2 سالہ بچی کی جان لے لی،ملزم گرفتار

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 4 اپريل 2013
طوبیٰ کے والد کو ملزم غلام مصطفی نے وہم میں مبتلا کیا کہ بچی پر جن کا سایہ ہے فوٹو: فائل

طوبیٰ کے والد کو ملزم غلام مصطفی نے وہم میں مبتلا کیا کہ بچی پر جن کا سایہ ہے فوٹو: فائل

کراچی: سرجانی ٹائون پولیس نے لانڈھی میں چھاپہ مار کر 45 سالہ عامل غلام مصطفی ولد فضل احمد کوگرفتار کرلیا۔

ایس آئی او سب انسپکٹر طارق نے ایکسپریس کو بتایا کہ یوسف گوٹھ کے رہائشی شاکر نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیٹی 2 سالہ طوبیٰ کو عامل غلام مصطفیٰ نے جادو ٹونے کے ذریعے ہلاک کردیا ، اس نے پولیس کو بیان دیا کہ چند روز قبل وہ یوسف گوٹھ کے مقامی پارک میں اپنی بیٹی کو لے کر تفریح کی غرض سے  گیا تھا کہ وہاں موجود غلام مصطفی نے اسے وہم میں مبتلا کردیا کہ اس کی بیٹی پر جن ہے جس پر شاکر نے کہا کہ وہ کسی عامل کے بارے میں بتادے۔

غلام مصطفی نے کہا کہ وہ خود عامل ہے اور اس بہانے اس کے گھر آگیا ، گھر میں اس نے مختلف منتر پڑھے پھونکے اور دیوار میں کچھ کیلیں ٹھونکنے کے بعد تعویزدیے ، اگلے دن اس نے شاکر کو خواجہ اجمیر نگری کے علاقے فور جے کے اسٹاپ کے قریب اپنے آستانے پر بلایا ، غلام مصطفی نے کہا کہ اسے کچھ تعویز غلطی سے دے دیے ہیں اور چند دوسرے تعویزدیدیے۔

 

14

سرجانی تھانے کے سب انسپکٹر طارق نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ وہ تعویز لے کر مطمئن ہوکر گھر چلا گیا لیکن 26 مارچ کو عامل نے شاکر اور بچی کو دوبارہ بلایا اور کسی پانی پر پھونکیں مارنے کوکہا اور واپس گھر بھیج دیا لیکن شاکر اپنی بچی کو لے کر گھر بھی نہیں پہنچا تھا کہ راستے میں بچی کی حالت غیر ہوگئی ، اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے اور وہ فوراً ہی دم توڑ گئی۔

شاکر نے اپنی بچی کے بارے میں آکر تھانے میں مطلع کیا جس پر پولیس نے خواجہ اجمیر نگری میں اس کے آستانے پر چھاپہ مارا تاہم وہ وہاں سے فرار ہوچکا تھا ، ملزم کے موبائل فون ریکارڈ کے ذریعے اس کی لوکیشن لانڈھی کی آئی جس پر پولیس نے لانڈھی36 بی میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر ملزم غلام مصطفی کوگرفتار کرکے مقدمہ الزام نمبر 171/13 بجرم دفعہ 322 کے تحت درج کرلیا ، ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا ہے ، پولیس نے اس کے آستانے سے متعدد تعویز اور جادو ٹونے میں استعمال کیا جانے والا دیگر سامان بھی برآمد کرلیا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔