خواتین کے لیے غیرطبقاتی معاشرے کا قیام

زبیر رحمٰن  اتوار 11 مارچ 2018
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استحصال، مزدوروں اور کسانوں کا ہوتا ہے، مگر میرے خیال میں پاکستان ان چند ملکوں میں ہے جہاں کہیں زیادہ ظلم اور جبر خواتین کے ساتھ ہوتا ہے۔ صرف 2017 میں ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں چھ ہزارخواتین قتل ہوئیں، مگراعلیٰ طبقے کی خواتین کو نہ صرف مراعات ملی ہوئی ہیں بلکہ وہ ظلم کرنے والے طبقے کا حصہ ہیں۔

سب سے زیادہ ظلم و زیادتی تھرپارکرکی دلت ہندو( بھیل، میگھواڑ اورکولھی) لڑکیوں کے ساتھ ہو رہی ہے، اس کے بعد ملک بھرکی دیہی خواتین کے ساتھ۔ اس کے علاوہ بیہودہ رسم ورواج ( جیساکہ غیرت، ونی،سٹہ وٹہ،کاروکاری، جہیز وغیرہ )کے نام پر قتل کردی جاتی ہیں۔ دیہی خواتین صبح 5 بجے سے سے لے کر رات 9 بجے تک مسلسل کاموں میں مصروف ہوتی ہیں۔ صبح سویرے وہ مویشیوں اور مرغیوں اور بطخوں کو دڑبوں سے باہر نکالتی ہیں۔ گوبر، بیٹ اور دیگر غلاظتوں کی صفائی ستھرائی کرتی ہیں۔

اس کے بعد بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے تیارکرتی ہیں، انھیں ناشتہ تیارکرکے کھلاتی ہیں، ساتھ ساتھ پورے گھر والوں کوناشتہ دیتی ہیں، اس کے بعد جھا ڑو دیتی اور برتن مانجھتی ہیں۔ پھر دن کا کھانا پکانے کی تیاری میں لگ جاتی ہیں۔کھانا پکانے کے بعدگھر والوں کوکھانا کھلاتی ہیں اورکھیت میں کام کرنے والوں کوکھانا پہنچاتی ہیں۔ سب کوکھانا کھلانے کے بعد برتن مانجھنے میں جت جاتی ہیں ، پھر جب دن کے وقت کچھ آرام کا موقع ملتا ہے تو آرام کی بجائے پھٹے پرانے کپڑوں کی سلائی یا پھر کپڑے دھو نے میں لگ جاتی ہیں۔

ان کاموں کے خاتمے تک شام ہونے لگتی ہے اور وہ پھرکھانا پکانے میں لگ جاتی ہیں، مویشیوں اور مرغی وغیرہ کو چارہ اور دانہ کھلانا پڑتا ہے۔ دن میں یہ عورتیں وقت نکال کر جلانے کی لکڑیاں چننے جاتی ہیں اور بیشتر علاقوں کی دیہی خواتین دور درازعلاقوں سے پانی سے بھرے مٹکے سر پر اٹھا کے لاتی ہیں۔ بعض جنگلاتی اور میدانی علا قوں میں لکڑیاں چننے اور پانی بھرنے کے دوران چیتے یا شیرکا شکار بھی بن جاتی ہیں ۔

چند سال قبل راقم الحروف ضلع ایبٹ آباد ،گلیات گیا تھا جہاں پانچ خواتین کو چیتوں نے کھا لیا تھا ۔ جب کہ چھٹی خاتون پر حملہ ہوا تو ڈونگا گلی کے آس پاس کے باسیوں نے ایک شیر کو گھیر کر گولی مار دی تھی۔ خاتون بچ گئیں لیکن شدید زخمی حالت میں ملیں، یہ نہیں معلوم ہوسکا تھا کہ وہ جانبر بھی ہوپائیں یا نہیں ۔ اتنی محنت، مزدوری اورانتھک کام کرنے کے باوجود اپنے شوہر، والدین اور بھائیوں کے تشدد کا شکار بھی ہوتی ہیں۔

تھرپارکرکے گاؤں 22 میل موری میں 26 سالہ خاتون سوہنی گرگیزکو مبینہ طورپر شوہر مبارک گرگیز اور دیور تگیونے مل کر معمولی بات پر تشدد کا نشانہ بنایا اورگلا دبا کر قتل کرنے کی کوشش کی، خاتون نے الزام لگایا ہے کہ شوہر نے اس کا شیرخوار بچہ بھی چھین لیا۔

سامارو اسپتال کے عملے کی بے حسی کے باعث حاملہ عورت نے اسپتال کے مین گیٹ کے باہر بچے کو جنم دیا، متاثرہ عورت گنگا اوراس کے شوہر رام چند نے میڈیا کو بتایا کہ رات کی تاریکی میں گھر آکر ٹیم کے ہمراہ ڈاکٹر نے بھلا پھسلا کر کورے کاغذ پر انگوٹھے لگوائے،انھوں نے اعلیٰ حکام اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔

سانگھڑ، کھپرو کے نواحی گاؤں شفیع محمد ہالے پوٹومیں گنے کے کھیت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس دوران کھیتوں میں گنا توڑتے ہوئے تین بچے شدید زخمی ہوگئے، اسپتال میں طبی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے شاہد ولد واحد بخش جان سے جاتا رہا ۔ ٹنڈو محمد خان ، شیخ بھرکیو تھانے کے حدود میںواقع ماچھی گوٹھ کی رہائشی دس سالہ روزینہ کو ڈسٹرکٹ اسپتال لایا گیا ، میڈیکل چیک اپ کے بعد ڈیوٹی ڈاکٹرز نے مذکورہ بچی کو زیادتی کے بعد آگ لگانے کی کوشش کاخدشہ ظاہرکیا۔

ہمارے آئین میں ایک سقم ہے کہ اگر والدین اور سر پرست قاتل کو معاف کردیں تو اس کی سزا منسوخ ہوجاتی ہے، اس لیے ہمارے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔ چند سال قبل کی بات ہے کہ گلوکارہ غزالہ جاوید سے جہانگیرخان نامی شخص کی شادی ہوئی ۔ شادی کے بعد غزالہ کو پتہ چلا کہ اس کا شوہر پہلے سے شادی شدہ ہے ، جس پر غزالہ نے اپنے شوہر جہانگیر خان سے خلع لے لیا ، خلع لینے کی پاداش میں جہانگیر خان نے غزالہ جاویدکوگولی مارکر ہلاک کردیا ، گلوگارہ کا والد بھی فائرنگ کے نتیجے میں مارا گیا جب کہ بھائی زخمی ہوا۔

عدالت نے جہانگیرخان کو عمرقید کی سزا دی اورکروڑوں روپے کا جرمانہ کیا، بھائی کے زخمی ہونے پر مزید دس لاکھ رو پے کا جرمانہ عایدکیا ، بعد ازاں جہانگیر خان جیل چلا گیا لیکن غزالہ کے لواحقین کی جانب سے معاف کرنے پر جہانگیرخان جیل سے رہا کردیا گیا۔ اسی جہانگیر خان نے پھر ایک گلوکارہ سنبل کوکسی پروگرام میں جانے سے انکارکرنے پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔

جہانگیر خان کے سہولت کار توگرفتار ہوگئے لیکن اصل مجرم جہانگیرخان مفرور ہے۔کچھ ملتا جلتا واقعہ کوہاٹ کی طالبہ عاصمہ رانی کا ہے، قاتل کو سہولت کار نے فرارکروا دیا ، اگرچہ سہولت کارگرفتار ہوا ہے،مگر قاتل مجاہد آفریدی روپوش ہے یا ملک سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔ البتہ اطلاع یہ ہے کہ مردان کی چار سالہ بچی ’اسما‘ کا قاتل گرفتار ہوگیا ہے اور وہ اس کاکزن ہے۔ اسی طرح کے واقعات پاکستان میں ہر روز رونما ہو رہے ہیں۔

قصور، جڑانوالہ،گجرات اور سندھ میں تقریبا روزانہ ایسے واقعات ہورہے ہیں ۔ شاید زیادہ شورشرابا ہونے سے ابھی حال ہی میں دو تین واقعات میں ملزموں کو پولیس نے بروقت گرفتار بھی کیا ہے ۔ ماڈل واداکارہ قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ ’باغی‘ نام کا ایک ڈراما نجی چینل پر پیش کرنے پر بھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی ( خراج تحسین ہے ایسے ڈراما پیش کرنے والوں کو ) ۔ اس لیے کہ خواتین کوکمتر انسان سمجھا جاتا ہے۔

صدیوں سے اس طبقاتی معاشرے میں ایک بیہودہ کہاوت چلی آرہی ہے کہ جنگ ’’ زر، زمین اور زن پر ہوتی ہے‘‘ جب خونخوار فاتح مفتوح کو زیرکرتا ہے تو اس کی جائیداد کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی ملکیت بن جاتی ہیں اور یہ مفتوح عورتیں آپس میں بانٹ لی جاتی ہیں اور یہ عمل بلا تشخیص مذہب ، رنگ ونسل ، زبان کے ہوتا ہے ۔ یورپ ہو، عرب ہو، امریکا ہو، جاپان یا کوئی ملک یا خطہ ، ہر جگہ ایسا ہوتا آیا اور آج بھی ہو رہا ہے۔

ہندوستان میں حالیہ بننے والی فلم ’پدما وتی‘ میں جب علاؤ الدین خلجی، راجپوت کی رانی پدما وتی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو رانی اپنے آپ کو آگ میں جلا لیتی ہے ۔ ایسی ہزاروں بلکہ لاکھوں مثالیں موجود ہیں ۔ اس دورکی بات کو چھوڑیں ہم ابھی کی بات کر تے ہیں۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کرنا مردانگی اور انتقام کے زمرے میں آتا ہے اس لیے کہ عورت کو بھی ایک جنس جیسے دال چاول ہے ، اس طرح سمجھا جا تا ہے۔

اس وقت بھی نائیجیریا میں بوکوحرام ،کشمیر میں بھارتی فوج اور اسلامک اسٹیٹ ( عراق اور شام) میں داعش ایسا کررہی ہے، اگرخواتین خود منظم ہوں اور زیادتیوں کا مقابلہ کرنے لگیں تو پھر کیا مجال ہے کہ کوئی ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کرسکے ۔ عرب ممالک میں دوران جنگ کرد اور یزدی خواتین نے مسلح ہوکر مقابلہ کیا تو پھر ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات خاصی حد تک رک گئے ان خواتین کے مسائل کا مکمل حل ایک غیرطبقاتی معاشرے کا قیام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔