بے حسی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!!

رحمت علی رازی  اتوار 11 مارچ 2018
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

جس قماش کے مقتدر سیاستدانوں اور حکمرانوں سے پاکستان کے بے بس اور بے کس عوام کا پالا پڑتا رہا ہے، یہ داستان المناک بھی ہے اور خوں رنگ بھی۔ یہ کہانیاں اور داستانیں ختم ہوئی ہیں نہ ان کا تدارک ہو سکا ہے، یہ اب بھی جاری ہیں اور نجانے کب تک جاری رہیں گی! جب معاشرے میں مزاحمت کی طاقت جاتی رہے، بُرے کو بُرا کہنے اور بُرائی کے خلاف نفرت کرنیکا جذبہ ماند پڑجائے، شر انگیز قوتیں شیر بن جاتی ہیں۔

ایسے مایوس کُن اور دل شکن ماحول میں بے کسوں اور مظلوموں کی آخری اُمید اپنے ملک کے عسکری ادارے اور انصاف کا ترازو تھامنے والے رہ جاتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان آجکل یہی منظر پیش کررہا ہے۔

ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ شر انگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ گئی ہیں۔ جنہوں نے اس بدقسمت ملک کو لُوٹا اور وطن کو ہر طرح سے اُجاڑنے کی اپنی سی ہر کوشش کی، وہی عسکری اداروں کو بھی مطعون کررہے ہیں اور وہی انصاف فراہم کرنیوالوں کو بھی للکارتے نظر آرہے ہیں۔ کوئی شرم ہے نہ حیا۔ وہی عناصر خود کو ’’دلیر اور بہادر‘‘ قرار دے رہے ہیں جو چھاتی بجا کر عدلیہ کے بالمقابل آ کھڑے ہوئے ہیں۔

قہر خدا کا نہال ہاشمی نام کا ایک نون لیگی کارندہ توہینِ عدالت میں ایک ماہ کی سزا کاٹ کر آتا ہے اور آتے ہی اپنے ہمنواؤں کی منڈلی میں عدلیہ کو دشنام بھی دیتا ہے اور للکارے بھی مارتا ہے اور اُسکی پارٹی کے سُننے والے جواباً تالیاں بھی پیٹتے ہیں۔ شرمناک بات تو یہ ہے کہ راج دُلاری نے عدلیہ کی مزید تضحیک کرنے پر ٹویٹر کی ڈی پی پر ہاشمی کی تصویر لگا رکھی ہے۔

گالی دینے والے اس بے لگام شخص نے سوچا ہوگا کہ اب میں نے ایک ماہ کی سزا بھگت لی ہے، مجھے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ اگر کوئی قاتل کسی طرح عدالت اور جیل سے رہائی پالیتا ہے تو کیا اُسے مزید قتل کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی؟ کیا ایک قانون شکن کار ڈرائیور کو اگر ایک چوراہے پر جرمانہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ سارا دن سارے شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرتا رہیگا؟

سارے شہر کیلیے خطرہ بنا رہیگا؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ اُسکا راستہ ہر صورت روکا جائے گا،اُسکی سرکشی، اُسکے غرور کو خاک میں ملانے کی اجتماعی کوششیں عمل میں لائی جائینگی تاکہ اُسکا قانون شکن وجود سارے سماج کیلیے زہرِ قاتل نہ بن جائے! نون لیگ کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی رہائی کے بعد عدلیہ مخالف تقریر اور پریس کانفرنس اخلاقی اعتبار سے کس معیار کی تھی، اِسکا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب یہ ویڈیو عدالتِ عظمیٰ میں سنائی گئی تو خود نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا:’’مائی لارڈ، اِسے بند کر دیا جائے، مجھے شرم آرہی ہے‘‘۔

بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نہال ہاشمی کے وہ الفاظ کتنے شرمناک اور المناک ہونگے جنہیں سُن کر نہال ہاشمی کے وکیل صاحب خود بھی شرمسار ہو گئے یہاں تک کہ ان وکیل صاحب نے نہال ہاشمی کا مقدمہ لڑنے سے بھی انکار کر دیا ہے، وکالت نامہ بھی واپس لے لیا ہے۔کیا عزت رہ گئی نواز شریف کی محبت میں نہال ہونیوالے صاحب کی!!  چنانچہ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ اگلے ہفتے وجہ بیان کرینگے کہ کس وجہ سے وہ ججوں کو دشنام دینے پر ’’مجبور‘‘ ہوئے۔محض اداکاری کے شوق میں؟

عبرت دینے اور عدالتی وقار قائم رکھنے کیلیے ایسے حکم کا دیا جانا عین انصاف بھی ہے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیے جانے کے مصداق بھی، اگر عدالتوں اور عادلوں کا رعب اور دبدبہ ہی معاشرے سے جاتا رہے تو معاشرہ خود بھی جنگل بن جائے گا، ذلّت کی گہرائیوں میں ڈوب کر اپنا وجود ہمیشہ کیلیے کھو دیگا۔ نہال ہاشمی کی زبان اور اسلوب ہی ایسا تھا کہ اُنہیں دوبارہ کٹہرے میں کھڑا کیا جانا ضروری ہو گیا تھا۔

بعض اطراف سے ایسی آوازیں بھی اُٹھی ہیں: ’’عدالتوں کو سزائیں دیکر اپنا دبدبہ قائم نہیں کرنا ‘‘۔ نہیں حضور، ایسا بیانیہ بیان نہ کیجیے۔ اِس سوچ اور فکر کی ہر شکل میں حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے کہ یہ بغاوت اور سرکشی کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔یہ تو سماج کو انارکی میں مبتلا کرنے کی دانستہ سازش ہے۔ ایک عدل پسند معاشرے میں بھلا نہال ہاشمی ایسے عناصر کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟

ششدر انگیز بات یہ بھی ہے کہ نہال ہاشمی کے قائدین کوایسی سرکش اور سرکشیدہ آوازیں مرغوب ہیں۔ پھر اُنہیں شہ کیوں نہ ملے؟ بے حسی کا بھی کوئی حد سے گزرنا دیکھے!!غضب خدا کا، سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف ’’نیب‘‘ ریفرنسز نمٹانے کیلیے وقت میں دو ماہ کی توسیع کی تو مریم نواز نے اس پر بھی طنز کے کئی تیِر چلا دیئے لیکن جب نواز شریف اور مریم نواز ایسے نہال ہاشمی کے محترم قائدین عدلیہ مخالف ایسی ہی زبان پر عمل پیرا ہونگے تو اُنکے پیروکار ایسے ڈِکشن سے متاثر اور انسپائر کیوں نہ ہوں گے؟ پھر نہال ہاشمی کے ساتھ ساتھ دھمال ڈالنے والے طلال اور دانیال بھی ’’میدان‘‘ میں کیوں نہیں نکلیں گے؟

یہ ’’انسپائریشن‘‘ اتنی ہیجان خیزاور ’’چھوت چھات‘‘ ثابت ہُوئی ہے کہ ڈی آئی جی رینک کا ایک پولیس افسر بھی عدلیہ کے سامنے آواز بلند کرنے لگا ہے‘ لیکن اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس عدلیہ مخالف لہجے کو نواز شریف اور اُنکی صاحبزادی نے جلسے جلوسوں میں متعارف کروایا ہے، لوگ تو اب بار بار ایک ہی راگ الاپنے والوں سے اس قدر تنگ آگئے ہیں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ ’’پاناما کی بجائے اقامہ سے کیوں نکالا‘‘ ’’اگر میں نے لوٹ مارکی ہے تو انھیں کیا‘‘ ہم انھیں باور کرانا چاہتے ہیں کہ انھیں عدلیہ کو غلیظ گالیاں دینے سے کچھ نہیں ملے گا عدلیہ کا کمال ہے کہ انھوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

عدالتِ عظمیٰ کو ہر شکل میں انصاف کا ترازو تھامنا ہے تاکہ معاشرہ عدل اور توازن کے سائے میں پُرامن اور بے خوف رہ سکے اور وطنِ عزیز میں تو دو ہی ادارے ایسے رہ گئے ہیں جو عوام کی امیدوں اور آشاؤں کا آخری سہارا ہیں۔ اِن میں سے ایک ہماری پُر شکوہ عدلیہ اور اس میں تشریف فرما عظیم الشان ہمارے جج صاحبان ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی اُمید بھری نظروں سے ہماری عدلیہ اور عادلوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

امیدِ واثق ہے کہ ان شاء اللہ ہماری عدلیہ کے بیمثال تمام جسٹس صاحبان عوام کی ساری اُمیدوں پر پورا اُترینگے۔چنانچہ دانیال عزیز کے بارے میں جب عدلیہ کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا کہ اُن پر 13مارچ کو فردِ جرم عائد کی جائے گی تو تقریباً ہر طرف طمانیت کی لہر دوڑ گئی۔ یہ کسی کے خلاف عناد ہے نہ بُغض بلکہ یہ فکر اور سوچ اِس امر کی عکاس ہے کہ معاشرہ عدلیہ مخالف بے لگام عناصر اور اشخاص سے ہر صورت نجات کا متمنی ہے۔

عدالت ِ عظمیٰ نے جب دانیال عزیز کی درخواست مسترد کر دی تب بھی عوام نے اطمینان کا سانس لیا اِس خیال سے کہ اِن بظاہر طاقتور، منہ زور اور مقتدر افراد کو اتنی کھلی چھٹی ہر گز نہیں ملنی چاہیے کہ وہ عدالت کا گریبان پکڑنے کی جرأت کے بھی مرتکب ہو جائیں۔ بیہودگی اور بدتمیزی کو کسی ایک جگہ توروکا جانا چاہیے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری عدلیہ کرپٹ افراد کو پُرسش اور احتساب کے دائرے میں لا کر معاشرے کی طرف سے عزت اور تحسین پا رہے ہیں۔

عادلوں کیلیے یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے اور یہ ہمارا رب ہے جو انسانوں میں عزتیں بھی بانٹتا ہے اور وہی ہے جو لوگوں کو ذلّت بھی دیتا ہے۔ اُسکے گھر میں دیر ہے، اندھیر نہیں ہے لیکن وہ انسانوں سے ہمیشہ انصاف ہی کا سلوک کرتا ہے اور متکبرین کو اُنکے کِبر کی سزا ضرور دیتا ہے۔ اِس جہان میں بھی اور اُس جہان میں بھی۔ جو صاحب یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ’’ستّر سال سے پاکستان کو لگی بیماری سے نجات حاصل کرنیکا وقت آگیا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’سِکھا شاہی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنا ضروری ہے‘‘ یہ صاحب در اصل تکبّر میں ڈوبے ہیں۔ ان کی راج دُلاری بھی بھرپور طریقے سے اس کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہیں۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ تین بار پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے یہ صاحب کسے ’’سِکھا شاہی‘‘ اور ’’ستّر سالہ‘‘ بیماری کے القابات سے یاد کر رہے ہیں؟ کس طرف اشارے اور کنائے ہیں؟ اُنکی اختراع کردہ یہ نئی اصطلاحیں کہیں اُنہیں مزید گہرے پانیوں میں نہ لے جائیں؟

وہ انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر دراصل عوام کو اداروں کے خلاف بھڑکانے کی ترغیب اور ترہیب دے رہے ہیں۔ تو کیا اِس سے در گزر کر لیا جائے؟ رانا ثناء اللہ کا فرمان ہے کہ عدلیہ اور فوج کو ڈھٹائی، بے شرمی سے گالیاں دینے والا نوازشریف کا بیانیہ عوام میں بہت بک رہا ہے۔ وہ صحیح فرما رہے ہیں کہ جن سادہ لوح عوام کو وہ بیانیہ بیچ رہے ہیں۔ انھیں جب پتہ چلے گا کہ ان بیچاروں اور مظلوموں (پٹواریوں، ٹیچروں، نائب قاصدوں اور چوکیداروں) کو کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ڈی پی او زبردستی جلسوں میں لاتے ہیں۔ انھیں کیا پتہ جو نااہل اور کرپٹ شخص اور اس کی راج دُلاری مضحکہ خیز بیانیہ بیچ رہی ہے۔

بیانیہ سننے والے اصلی عوام جب سامنے آئینگے تو وہ یہ بیانیہ ان کے منہ پر دے ماریں گے پھر ان بیانیہ سنانے والوں کا پتہ بھی نہیں چلے گا کہ وہ کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ کیا دوسرے صوبے کا کوئی سابق مقتدر شخص ایسی سرکشی کا اظہار کرتا تو اُس سے صرفِ نظر کیا جا سکتا تھا؟ صرفِ نظر کیے جانے کے یہ نتائج نکلے ہیں کہ اُنکی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی یہی رنگ پکڑنا شروع کر دیا ہے اور یہ کم خطرناک رجحان نہیں ہے۔ سینیٹ کی رُکنیت سے ابھی ابھی فارغ ہونیوالے فرحت اللہ بابر بھی نواز شریف سے رنگ پکڑنے اور اُن سے ’’انسپائر‘‘ ہونیوالوں میں سے ایک ہیں۔

موصوف کا رواں ہفتے ہی جونہی ایوانِ بالا سے رشتہ منقطع ہُوا، سینیٹ میں ریٹائرمنٹ کا آخری دن آیا تو عدلیہ کے خلاف اُنکی مذموم زبان بھی کھل گئی۔ سینیٹ کے فلور پر کی گئی اُنکی آخری تقریر نے ابھی تک سُننے والوں کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کررکھا ہے۔ منظم اور مقدس اداروں کے خلاف اُنہوں نے اپنے خطاب میں جو گُل کھلائے ہیں، قابلِ گرفت الفاظ کا جس بے محابہ انداز میں استعمال کیا ہے، ناپسندیدگی و بیزاری کا جس پیرائے میں اظہار کیا ہے اور ملفوف اسلوب میں جسطرح عدلیہ کو دھمکی آمیز لہجے میں یاد کیا ہے، ہم سب ہنوز انگشت بدنداں ہیں۔

کیا ہمارے تینوں ہمسایہ ممالک کے دونوں ایوانوں میں موجود کوئی رُکن اپنے دونوں بڑے اداروں کے خلاف یہ نفرت پھیلانے والا اسلوبِ تقریر اختیار کر سکتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے اور واقعی ایسا نہیں ہے تو استفسار کیا جا سکتا ہے کہ سابق سرکاری ملازم فرحت اللہ بابر ایسے اشخاص اور عناصر کو کس چیز سے بدہضمی ہو گئی ہے؟ اداروں کے خلاف اُنکا بیزار کُن لہجہ کس شے کی چغلی کھا رہا ہے؟

ہمارے جو ادارے اِس مملکت کے تحفظ کے لیے دن رات اپنے جوانوں کا خون دے رہے ہیں، اُن کے خلاف فرحت اللہ بابر ایسے عقل کے عاری پاکستانیوں کی وطن و ادارہ جاتی دشمنی کو کیوں اور کیسے برداشت کیا جا رہا ہے؟ آخر کیوں؟ آخر کب تک؟ عوامی محاسبے کی مشین کب حرکت میں آئے گی؟ یاد رکھا جائے کہ ایسی زبانوں کو لگام نہ دی گئی تو یہ ’’ندیاں‘‘ عنقریب ’’دریا‘‘ بن کر ملک و قوم کو بہا لے جائینگی، خس وخاشاک کی طرح، اِس ملک کا تارو پود بکھیر کر رکھ دینگی، ہماری یکجہتی خواب و خیال بن کر رہ جائے گی۔

خاکم بدہن!!ششدر انگیز بات ہے کہ زرداری کے ایک دوسرے پیروکار رضا ربانی نے بھی سینیٹ کی سربراہی سے فراغت حاصل کرتے ہی ایک نیا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ مسٹر ربانی نے اپنے ربّ کا خوف کیے بغیر جو لہجہ اختیار کیا ہے، اس نے تو سب کے ہوش اُڑا دئیے ہیں۔ مناسب تو یہی تھا کہ جب نواز شریف اور اُنکی صاحبزادی نے اداروں کے خلاف سرکشی کا بادبان کھولاتھا تو اُسی وقت اُنکے راستے مسدود کر دئیے جاتے، اُنہیں وارننگ دی جاتی، انتباہ کیا جاتا۔

افسوس کسی پُراسرار مصلحت کے تحت ایسا کرنے سے گریز پا اختیار کیا گیا اب جب کہ پُلوں کے نیچے سے غفلتوں کا بہت سا پانی بہہ چکا ہے، فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی ایسے لوگ بھی اداروں کے خلاف اپنے کنکوے اُڑانے لگے ہیں حالانکہ اِنہیں تو شَٹ اَپ کال دینے کی ضرورت ہے۔

زرداری نے فرحت اللہ بابر کو اپنی ترجمانی سے ہٹا کر ایک قسم کی شَٹ اَپ کال تو دی ہے لیکن یہ مشکوک بھی ہے اور مبہم بھی اور ٹرسٹ ڈیفیسٹ اسقدر زیادہ ہے کہ زرداری کے اِس اقدام کو مشکوک نظروں سے بھی دیکھا جا رہا ہے کہ نجانے اندر خانے موصوف کیا کھچڑی پکا رہے ہوں۔ باطنی طور پر سب کو اِس بات کی شدید تکلیف ہے کہ عدلیہ آزادانہ طور پر ایسے فیصلے کیوں کر رہی ہے جن سے عوام، قوم اور ملک کا بھلا ہونے والا ہے اور انصاف کا بول بالا ہوگا ۔

سب مقتدرین کو ان فیصلوں کے پیش منظر میں اپنے اپنے مفادات کے محل مسمار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ عدلیہ نے جعلی ادویات بنانیوالوں پر ہاتھ ڈالا ہے تو جعلسازوں کے پشتیبان بھی اپنی اپنی بِلوں سے باہر نکل آئے ہیں۔ ایک سرکاری افسر نے جعلساز دوا ساز کی حمایت میں عدلیہ کو للکار نے کی جرأت کر کے اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال لیا ہے۔

’’ڈریپ‘‘ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) میں کئی کمزوریاں عیاں ہوئی ہیں۔ اِنہی کا فائدہ اُٹھا کر تو جعلی دوائیاں بنانیوالے اربوں میں کھیل رہے تھے۔ اِنہیں نہ اللہ کا خوف ہے نہ ہی انسانوں کا جنہیں زہر ملی دوائیاں فروخت کی جارہی ہیں۔ اِنہی کالی بھیڑوں کی وجہ سے ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) میں پورے پاکستان کو بھی مشکوک قرار دیا جارہا ہے۔

کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ عوام دوائی کے پیسے تو پورے دیتے ہیں لیکن دوائی جعلی بھی ملتی ہے اور کئی بار ایکسپائری ڈیٹ والی بھی۔ افسوس مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اس ضمن میں اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ ایسے میں عدلیہ نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، اُنکے دُکھوں کو جان کر جعلی دوائیں بنانیوالے ظالموں پر ہاتھ ڈالا ہے تو کیا بہت بڑا گناہ کر ڈالا ہے؟

عوام تو جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر عدالتوں کو دعائیں دے رہے ہیں اگر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب لاہور کے ایک بڑے سرکاری اسپتال جا کر بے کس اور بے بس مریضوں کا احوال جاننے کا عملی اقدام کرتے ہیں تو حکمرانوں،اُنکے ریزہ چینوں اور چیلوں چانٹوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ ’’کسی‘‘ کے اختیارات میں مداخلت ہے۔ مداخلت کہاں سے ہو گئی جناب؟

کسی مظلوم کی داد رسی کرنا اور اُسے ظلم کی چکّی میں پِسنے سے نجات دِلانا کیا اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے؟ اگر ہمارے حکمران اسپتالوں کے انسانی مذبح خانے میں زندہ ذبح کیے جانے والے اور بے بسی سے تڑپتے مریضوں کی فلاح اور بہبود کے لیے عملی اقدامات کرتے تو چیف جسٹس صاحب کو یہ قدم اُٹھانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

سچی بات یہ ہے کہ ہماری معزز بڑی عدالتیں جرأتمندی سے فیصلے کررہی ہیں۔ اُنکے اقدامات سے عوام کو نیا حوصلہ اور تسلّی مل رہی ہے ۔ ملک پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ’’نیب‘‘ کا نیا اور جری چہرہ بھی سامنے آیا ہے۔ ایک بڑے قومی اور سرکاری بینک کے سربراہ سعید احمد پر بھی ہاتھ ڈالنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

سُنا ہے کہ 12مارچ کو وہ بھی سخت پُرسش کے رُو برو کھڑے کیے جا رہے ہیں اگر بڑے عہدوں پر فائز حکمرانوں کے چہیتے مفرور، مجرم اور مشکوک افراد پر ’’نیب‘‘ اور اعلیٰ عدلیہ اِسی طرح ہاتھ ڈالنے اور اُنہیں عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑا کرنے کی جرأتیں بروئے کار لاتی رہیں تو لا محالہ عدلیہ اور احتساب کرنیوالوں پر عوام کا اعتماد اور اعتبار بحال ہو گا اور جس قوم کو اپنی عدالتوں اور ججوں پر بھرپور اعتماد ہو، ایسی قوم اور ایسے ملک میں کوئی دشمن طاقت کسی بھی طرح نقب لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔