عاشقِ صادق حضرت ابوبکر صدیق ؓ

محمد کامران خالد  اتوار 11 مارچ 2018
حضور ﷺ کے ایک اشارۂ ابرو پر جان و مال کو بے دریغ نچھاور کردینے کوصحابہ کرام ؓ اپنی زندگی کا بہترین مقصد تصورکرتے تھے۔ فوٹو: فائل

حضور ﷺ کے ایک اشارۂ ابرو پر جان و مال کو بے دریغ نچھاور کردینے کوصحابہ کرام ؓ اپنی زندگی کا بہترین مقصد تصورکرتے تھے۔ فوٹو: فائل

ہر امتی کے لیے اپنے نبیؐ سے سچی محبت کے سوا دوسری کوئی شے اہمیت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی امتی اپنے نبیؐ کے اسوۂ مبارکہ کو پاتا ہے تو کمال وارفتگی سے کھنچا کھنچا اپنے مرکز محبت کی اداؤں میں خود کو ڈھالتا چلا جاتا ہے اور وہ جب اسوۂ رسولؐ میں ڈھل چکتا ہے تو پھر ساری مخلوق کا مرکز التفات، ہادی و مقتدا اور میرکارواں بن جاتا ہے۔

پہلے جو اپنی حیات مستعار میں کسی راہ بر و راہ نما کا متلاشی تھا، دامن رسولؐ سے لپٹتے ہی اب وہ خود راہ بر و راہ نما بن گیا اور لوگوں کے لیے وجہ تقلید اور مرجع ہدایت ہوگیا۔ یہ برکات نبویؐ کی کرشمہ سازی ہے کہ ذرے کو ہم دوش ثریا کردیتی ہے۔ نبوت و رسالت کے منتہاء، انبیاء و مرسلین کے سردار و مقتداء، انسان کو مقام انسانیت دکھانے والے، گم راہوں کو راہ ہدایت بتانے والے اور کام یابی و کام رانی کی بلندی عطا کرنے والے، گناہ گاروں کے شفیع اور بے کسوں کے والی تاج دار مدنی حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے تمام صحابہؓ جان نثاری، محبت و وارفتگی اور ایثار و قربانی کا مرقع تھے۔

حضور ﷺ کے ایک اشارۂ ابرو پر جان و مال کو بے دریغ نچھاور کر دینے کو صحابہ کرام ؓ اپنی زندگی کا بہترین مقصد تصور کرتے تھے۔ حضورؐ کا قول صادق ہو یا فعل مبارک، گریہ و تبسم ہو یا عبادت و معاملت، جنگ ہو یا امن ہر بات صحابہ ؓ کے لوح قلب پر منقش تھی۔

شرف صحابیت پانے والے تمام صحابہؓ آسمان ہدایت کے ستارے اور چشم بینا کے لیے نور تھے۔ مگر قافلۂ صحابہؓ کے سالار اعظم، نبوت و رسالتؐ کے بعد فضیلت و حرمت کا نشان، انصار و مہاجرین کے سردار، مظہر انوار رسالت، یار غار و مزارؐ، افضل الابشر بعد الانبیاء سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ محبت رسولؐ کے جس مقام ارفع و اعلیٰ پر فائز تھے، وہ تاریخ کے صفحات میں کسی کے ہاں نظر نہیں آتا۔ حضرت صدیقؓ سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ آپ کو دنیا میں کیا پسند ہے ؟ تو آپؓ نے بے ساختہ فرمایا ’’ بس حضور پاک ﷺ کے چہرۂ انور کو دیکھنا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔‘‘

حضرت ابو بکر ؓ حضور پاک ﷺ کی رضا جوئی، مزاج رسالت کی رعایت اور منشاء نبوتؐ کی جستجو میں ہمہ تن مستغرق و منہمک رہتے تھے۔ ایک مرتبہ حضورؐ نے اللہ کی راہ میں مال طلب فرمایا تو تمام صحابہؓ اپنا مال لے کر دوڑے چلے آئے۔ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے بھی اپنے گھر کا آدھا اثاثہ جمع کیا اور یہ خیال فرمایا کہ آج مال دینے میں کوئی مجھ سے سبقت نہ لے جاسکے گا، یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؓ سے بھی میں بڑھ جاؤں گا۔ اور گھر کا آدھا مال لا کر حضور پاک ﷺ کی پاک بارگاہ میں پیش کردیا۔ بالآخر حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ بھی مال لے کر دربار رسالت ﷺ میں آن موجود ہوئے۔ حضور نے دریافت فرمایا صدیقؓ گھر کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ عرض کیا میں نے اُن کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ چھوڑا ہے۔ آپؓ نے اپنے گھر کا تمام اثاثہ اپنے محبوب پاک ﷺ کی نذر کر دیا۔ حضرت ابوبکر ؓ کے اس مثالی جذبہ حُب و ایثار سے متاثر ہو کر حضرت عمر فاروقؓ نے خراج عقیدت کے طور پر فرمایا کہ ’’اے ابوبکر ؓ آپ محبت و ایثار کی ایسی منزل پر ہیں کہ ہم کسی چیز میں بھی آپ پر کبھی بھی سبقت نہیں لے جاسکتے‘‘ (مشکوۃ)

حضرت ابوبکر ؓ محبت رسول ﷺ میں بہ ہر پہلو کامل اور اسوۂ رسولؐ کا مکمل نمونہ تھے۔ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ تاج دار مدینہ نے اہل روم سے جنگ کے لیے ایک لشکر مرتب فرمایا تھا اور جلیل القدر صحابی حضرت اسامہ بن زید ؓ کو اس لشکر کا سپاہ سالار مقرر فرمایا تھا۔ یہ لشکر ابھی جنگ کے لیے روانہ نہ ہو پایا تھا کہ بنی پاک ﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے۔ اس سانحہ عظیم کے ساتھ ہی کئی شورشیں کھڑی ہوگئیں۔

ارباب علم و دانش نے حضرت ابوبکر ؓ سے عرض کی کہ ان دگرگوں حالات میں لشکر کشی قرین مصلحت نہیں، کیوں کہ داخلی انتشار میں خارجی امور بے حد نازک اور حساس ہوتے ہیں، اس لیے فوج کی روانگی سردست مناسب نہیں۔ مگر جس کا ہر لمحہ اتباع رسول ﷺ اور ہر سانس رضائے حبیب میں صرف ہوتا ہو وہ کیسے گوارا کرلے کہ اپنے محبوبؐ کے حکم کو مؤخر کر دے۔ آپؓ نے ولولۂ شجاعت سے لبریز یقین محکم کے ساتھ فرمایا کہ مجھ سمیت تمام مسلمان اگر شہید ہو جائیں تو کچھ غم نہیں، مگر حضورؐ کا فرمان پورا نہ ہو تو مجھ پر یہ بوجھ بہت گراں اور بھاری ہے۔

عشق رسول ﷺ کی جو دولت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حصے میں آئی، قلم اس کا احاطہ کرنے سے عاجز ہے۔ سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ’’بنی نوع انسان میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں سوائے اس کے کہ وہ نبی نہیں۔‘‘ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء مرسلین کے صحابہ میں سے کوئی ابوبکرؓ سے بڑھ کر نہ تھا اور نہ ہی میرے صحابہؓ میں کوئی ابوبکرؓ سے افضل ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’ ابوبکر سے محبت رکھنا اور ان کی تعظیم و توقیر کرنا میرے ہر امتی پر واجب ہے۔‘‘

آپؓ کو قدرت نے بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا۔ آپؓ کے سوا کسی کا نام صدیق نہیں رکھا گیا۔ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار میں ساتھی، ہجرت میں رفیق رہے اور رسول پاک نے آپ کو نماز پڑھانے پر مامور فرمایا، جب کہ تمام صحابہ کرامؓ موجود تھے۔ ابوبکر صدیقؓ رسول پاک ﷺ کے وزیر تھے تمام امور میں آپؐ ان سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ ابوبکرؓ ہی اسلام میں ثانی، غار میں ثانی، بدر کی جنگ کے روز خیمہ میں ثانی اور مزار میں ثانی ہیں۔ سرور کائنات ﷺ کسی کو آپ پر ترجیح نہ دیتے تھے۔ مَردوں میں سب سے پہلے اسلام بھی آپؓ نے قبول کیا۔ قرآن مجید کا نام سب سے پہلے آپ نے مصحف رکھا۔

قرآن مجید کو سب سے پہلے جمع بھی آپ نے کرایا۔ سب سے پہلا شخص جس نے کفار قریش کے ساتھ نبی پاک ﷺ کی حمایت میں جنگ لڑی اور ضربات شدید برداشت کیں وہ بھی حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ آپؓ خلیفہ رسولؐ ہیں۔ آپؓ سب سے پہلے خلیفہ ہیں، جس کا نفقہ رعایا نے مقرر کیا۔ سب سے پہلے بیت المال آپؓ نے قائم فرمایا۔ سب سے پہلے آپؓ نے جہاد اور استنباط احکام کے اصول اربعہ مقرر فرمائے۔ سب سے پہلے دوزخ سے نجات کی خوش خبری نبی کریم ﷺ نے آپؓ ہی کو دی اور آپؓ کو عتیق کے لقب سے مشرف فرمایا۔ آپؓ ہی سب سے پہلے وہ شخص ہیں جن کو بارگاہ رسالتؐ سے کوئی لقب عطا ہوا۔ بائیس جمادی الآخر کو آپؓ کا وصال مبارک ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان مقدس صحابہ کرام ؓ کی سیرت سے راہ نمائی لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔