خلیفۃالرسول ﷺ حضرت ابُوبکر صدیق ؓ

دُرِّصدف ایمان  اتوار 11 مارچ 2018
حضرت سیدنا ابُوبکر صدیقؓ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے، جو اس کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ فوٹو : فائل

حضرت سیدنا ابُوبکر صدیقؓ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے، جو اس کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ فوٹو : فائل

حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب پر جاکر آپؓ کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپؓ کی کنیت’’ ابُوبکر ‘‘ ہے۔ (المعجم الکبیر)

سیرت حلبیہ میں ہے کہ ’’ آپؓ کی کنیت ابُوبکر اس لیے ہے کہ آپ شروع ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے۔‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابُوبکر صدیقؓ کا نام ’’عبداللہ‘‘ تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ’’تم جہنم سے آزاد ہو۔ ‘‘ تب سے آپؓ کا نام ’’عتیق‘‘ ہوگیا۔ ‘‘ (صحیح ابن حبان)

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان صحن میں تشریف فرما تھے۔ اچانک میرے والد گرامی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر اپنے اصحابؓ سے ارشاد فرمایا: ’’جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابُوبکر کو دیکھ لے۔‘‘ (المعجم الاوسط)

آپؓ کے لقب ’’صدیق‘‘ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اے ابُوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام ’’صدیق‘‘ رکھا۔‘‘

(الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ)

آپ کا رنگ سفید، رخسار ہلکے، چہرہ باریک اور پتلا، پیشانی بلند اور منحنی جسم کے تھے۔

(بہ حوالہ: الکامل فی التاریخ )

قریش کے مشہور قبیلے قارہ کے سردار ابن دغنہ نے آپؓ کے اوصاف حسنہ کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: ’’ اے ابُوبکر! بے شک آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، صلۂ رحمی کرتے ہیں، کم زورں کا بوجہ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصیبت زدہ افراد کے کام آتے ہیں۔‘‘ (تاریخ الخلفاء)

حضرت سیدنا ابُوبکر صدیقؓ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے، جو اس کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابوقحافہؓ بھی صحابی، آپ کے تینوں بیٹے (حضرت عبداللہ، حضرت عبدالرحمن اور حضرت محمد بن ابی بکر) بھی صحابیؓ، آپؓ کے پوتے بھی صحابی، آپ کی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہؓ، حضرت سیدہ اسماءؓ اور حضرت سیدہ ام کلثومؓ ) بھی صحابیات اور آپؓ کے نواسے بھی صحابی ہوئے۔ (المعجم الکبیر)

حضرت ابُوبکر صدیقؓ کی ازواج کی تعداد چار ہے۔ آپؓ نے دو نکاح مکہ مکرمہ میں کیے اور دو مدینہ منورہ میں۔ ان ازواج سے آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔

حضرت سیدنا ابُوبکر صدیقؓ نہایت ہی حلم مزاج تھے، لیکن اسلام کے معاملے میں انتہائی غیرت مند اور سخت تھے۔ دین اور شان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں نہ اپنوں کو دیکھتے نہ غیروں کو۔ غزوۂ بدر میں آپؓ کے بیٹے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر اسلام قبول کرنے سے پہلے مشرکین کے ساتھ اسلام کے خلاف جنگیں لڑتے تھے۔ جب وہ اسلام لے آئے تو ایک روز حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ سے کہنے لگے: ابا جان! میدان بدر میں ایک موقع پر آپ میری تلوار کی زد میں آئے لیکن میں نے آپ کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ یہ سن کر حضرت سیدنا ابُوبکر صدیقؓ نے غیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لیکن اگر تُو میرا ہدف بنتا تو میں تجھ سے اعراض نہ کرتا۔‘‘ یعنی اے بیٹے! اس دن تم نے تو مجھے اس لیے چھوڑ دیا کہ میں تمہارا باپ ہوں لیکن اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو میں کبھی نہ دیکھتا کہ تم میرے بیٹے ہو بل کہ اس وقت تمہیں دشمن رسول سمجھ کر تمہاری گردن اڑا دیتا۔ (امام ترمذی) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیعت خلافت کے دوسرے روز کچھ چادریں لے کر بازار جارہے تھے، حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے دریافت کیا کہ آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: تجارت کے لیے بازار جارہا ہوں۔ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے عرض کیا: اب آپ یہ کام چھوڑ دیجیے، اب آپ لوگوں کے خلیفہ (امیر) ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر آپؓ نے فرمایا: اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو پھر میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں گے؟ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے عرض کیا: آپؓ واپس چلیے، اب آپ کے یہ اخراجات حضرت سیدنا ابوعبیدہؓ طے کریں گے۔ پھر یہ دونوں حضرات حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ کے پاس تشریف لائے اور ان سے حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: آپ حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور ان کے اہل و عیال کے لیے ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کرکے روزانہ کی خوراک اور موسم گرما و سرما کا لباس مقرر کیجیے، لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے تو واپس لے کر اس کے عوض نیا دے دیا جائے۔ چناں چہ آپؓ نے سیدنا صدیق اکبرؓ کے لیے بکری کا گوشت، لباس اور روٹی مقرر کردی۔ (تاریخ الخلفاء)

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنی وفات کے وقت ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا: دیکھو! یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پیالا جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں، یہ سب بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وقت تک نفع اٹھا سکتے ہیں جب تک میں مسلمانوں کے امور خلافت انجام دیتا رہوں گا۔ جس وقت میں وفات پاجاؤں تو یہ تمام سامان حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کو دے دینا۔ چناں چہ جب آپؓ کا انتقال ہوگیا تو ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے یہ تمام چیزیں حسب وصیت واپس کردیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے چیزیں واپس پاکر فرمایا: ’’اے ابُوبکرؓ! اللہ آپ پر رحم فرمائے کہ آپؓ نے تو اپنے بعد میں آنے والوں کو تھکا دیا ہے۔‘‘ (تاریخ الخلفاء)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی۔ قرآن مجید کی کئی آیات آپؓ کے متعلق ہیں، جن سے آپؓ کی شان کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب ابوبکر ؓ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے مگر ابُوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روز قیامت انہیں عطا فرمائے گا۔

آپؓ مدینہ منورہ میں22 جمادی الثانی کو اس دنیائے فانی سے رخصت فرما گئے۔ اُس وقت آپؓ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ آپؓ کو حجرۂ مبارک کے اندر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آسودہ کیا گیا۔

ربِ کریم سے دعا ہے ہمیں ہمارے ان بے مثال اسلاف کے اطوار اپنانے والا بنائے اور ہماری نسلوں میں بھی یہ صداقت و دین داری منتقل فرمائے۔ آمین

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔