صرف 20 سیکنڈ میں چارج ہونے والی بیٹری

ویب ڈیسک  پير 12 مارچ 2018
مائع بیٹری کا ایک نمونہ جو صرف 20 سیکنڈ میں مکمل چارج ہوجاتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ کے اے آئی ایس ٹی

مائع بیٹری کا ایک نمونہ جو صرف 20 سیکنڈ میں مکمل چارج ہوجاتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ کے اے آئی ایس ٹی

جنوبی کوریا: دستی آلات اور اسمارٹ فون کو چارج کرنا ہماری روزمرہ زندگی کا ایک معمول بن چکا ہے۔ اب نئی تحقیق سے ایسی بیٹری بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے جو صرف 20 سیکنڈ میں صفر سے مکمل چارج ہوسکتی ہے۔

اس عمل میں مائعاتی الیکٹرولائٹ میں توانائی یا چارج جمع کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی ایسی کوششیں ہوئی ہیں لیکن ایک جانب تو ان میں چارج بہت دیر تک محفوظ نہیں رہتا تھا اور دوم وہ بہت جلد ناکارہ ہوجاتی تھیں۔

جنوبی کوریا میں واقع ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کے اے آئی ایس ٹی) نے دنیا کا پہلا ’’ایکویس ہائبرڈ کپیسٹر (اے ایچ سی) تیار کیا ہے جس میں مائعاتی الیکٹرولائٹس کا استعمال کیا گیا ہے۔

اے ایچ سی بیٹری اور کیپیسٹر کا ملغوبہ ہے جس میں الیکٹروڈ برق کیمیائی (الیکٹرو کیمیکل) طرز پر برق سکونی یا الیکٹرو اسٹیٹک چارج جمع کرتے ہیں۔ پھر ان میں کرنٹ کے بہاؤ کےلیے ایک مائع محلول شامل کیا گیا ہے۔ لیکن محلول ہونے کے باوجود بھی ایسی بیٹریاں اسمارٹ فون کی عام بیٹریوں سے بہت محفوظ اور دیرپا ثابت ہوسکتی ہیں۔ پھر ماہرین کا خیال ہے کہ ان بیٹریوں کی تجارتی پیمانے پر تیاری سے بہت سستی بیٹریاں ممکن ہوسکیں گی۔

عام بیٹری میں الیکٹرون دو مٹیریلز کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں تاہم مائع بیٹریوں میں سے ایک سرا یا اینوڈ تیزی سے ضائع ہوتا رہتا ہے۔ اسی بناء پر اب تک اس طرح کی پائیدار بیٹریاں نہیں بن سکی ہیں۔

کوریائی ماہرین نے روایتی دھاتوں کے بجائے گریفین پر مشتمل پولیمر استعمال کیا ہے اور اس سے بیٹری کا ایک سرا اینوڈ بنایا ہے ۔ دوسری جانب میٹل آکسائیڈ سے دوسرا سِرا یا کیتھوڈ تیار کیا ہے۔ اس سے بیٹری کے خرچ ہونے اور ضائع ہونے کی رفتار بہت کم رہ گئی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ اینوڈ پر باریک کاربن فائبر کا ایک جال، الیکٹرون کی منتقلی بہت اچھی طرح کرتا ہے۔ اس سے بیٹریاں حیرت انگیز رفتار سے چارج ہوتی ہیں اور ایک لاکھ مرتبہ چارج ہونے پر بھی ان کی افادیت برقرار رہتی ہے۔ اس طرح بند بیٹری کو صرف 20 سیکنڈ میں مکمل طور پر چارج کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔