یہ باحوصلہ خواتین

سمیرا انور  پير 12 مارچ 2018
اگر ہم اپنی خواتین کی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی معاشرتی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اگر ہم اپنی خواتین کی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی معاشرتی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

عام طور سے کہا جاتا ہے کہ قوموں کی ترقی میں خواتین مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صنف نازک اگر چاہے تو اپنی صلاحیتوں کا  لوہا منواسکتی ہے۔ یہ ہر رنگ میں انمول ہے، بیٹی ہے تو رحمت، بیوی ہے تو سکون، ماں ہے تو جنت اور بہن کے روپ میں خوش بو کا دریچہ ہے۔

ہماری باہمت خواتین نے بہت سے شعبوں میں اپنا مقام بنایا ہے، لیکن آج بھی پاکستانی معاشرہ مردانہ بالادستی کے اصول پر قائم ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین ویسی ہی بے بس اور مجبور ہیں جیسی ماضی میں تھیں۔ وہ سارا دن محنت کی چکی میں پستی ہیں، لیکن بدلے میں انہیں صرف عورت ہونے کا طعنہ ملتا ہے۔ انہیں بارہا یہ یاد کرایا جاتا ہے کہ وہ شوہر کو اپنا حاکم سمجھیں اور اس سے کسی ہمدردی کی امید نہ رکھیں۔ چھوٹی عمر سے ہماری خواتین کھیتوں میں کام کرتی ہے اور بڑھاپے تک وہیں ایڑیاں رگڑتی رہتی ہیں۔

آج بھی  پاکستانی مردوں کی سوچ یہی ہے کہ بچیوں کو پڑھا لکھا کر کیا کرنا ہے، جب انہیں ہر حال میں ہانڈی چولہا ہی جھونکنا ہے تو ان کی تعلیم پر پیسہ کیوں خرچ کیا جائے؟

یہ بات ذہنوں میں بٹھادی گئی ہے کہ عورت تو صرف مرد کی خدمت گزاری کے لیے ہوتی ہے۔ یہ کوئی نہیں مانتا کہ وہ بھی ایک جیتا جاگتا وجود ہے، تازہ فضا میں سانس لینا اس کا بھی حق ہے اور وہ بھی اچھی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اپنے مستقبل کے لیے اچھا فیصلہ کرنا کوئی گناہ نہیں ہے جس پر اسے سزا سنائی جائے۔ یہ فرسودہ اور متعصبانہ خیالات ایک ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں خواتین کی ترقی رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔ گھریلو حالات، غربت و افلاس کے ہاتھوں تنگ جب وہ روزگار کی تلاش میں باہر نکلتی ہے تو اس پر نہ صرف الزامات کی بوچھار کی جاتی ہے، بلکہ جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر عورت کا قتل ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ تیزاب پھینک کر انہیں عمر بھر کے لیے معذور کردینا بھی ایک عام سی بات ہے۔ ماضی کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ محنت کش خواتین، مردوں کے ساتھ، ان کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھی ہیں۔

خواتین جو آبادی کے نصف حصے سے بھی زیادہ ہیں، ان کے متعلق یہ رائے قائم کی جاتی ہے کہ یہ کم زور ہیں، گھر کی زینت ہیں اور چار دیواری کے اندر ہی اچھی لگتی ہیں۔ ان کا کام صرف گھر داری کرنا ہے، معاشرتی زندگی کے باقی پہلوؤں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ فرسودہ خیالات ہی تو ہمارے معاشرے کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی خواتین کی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی معاشرتی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، تنگ نظر ی اور تعصب سے باہر نکلنا ہوگا۔ ان کو عزت و احترام سے نوازکر معاشرے میں اچھا مقام دینا ہوگا، تاکہ وہ پر سکون اور مطمئن انداز سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ عورت ہونا باعث عار نہیں ہے، بلکہ یہ تو فخر کا احساس ہے، عزت و تکریم کا دوسرا نام ہے۔

اسلام نے بھی ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو معاشرتی، قانونی اور سیاسی حقوق دیے ہیں جن کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست پر ڈالی ہے۔ پاکستان کی عورت آج بھی اپنی اور ملکی ترقی کے کوشاں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو کام کرنے کے نہ صرف مواقع فراہم کیے جائیں، بلکہ انھیں عدم اعتمادی کا شکار ہونے سے بھی بچایا جائے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسا کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گام زن ہوسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔