چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عاصم کے نام

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  پير 12 مارچ 2018
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

اٹھارویں ترمیم کے بعد جہاں ملکی سطح پر بے شمار تبدیلیاں آئی ہیں، وہیں جامعات اور ہائر ایجوکیشن کے درمیان عدم اعتماد کی فضا بھی بڑھ گئی ہے اور اس میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

صوبہ سندھ میں ہائر ایجوکیشن کے سربراہ کے طور پر ڈاکٹر عاصم کی تعیناتی کے بعد اساتذہ کی ایک تنظیم نے جامعات کی خودمختاری اور مسائل سے متعلق بات چیت کی تھی، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف معاملات حل ہونے کی توقع تھی اور خیال کیا جارہا تھا کہ بہت حد تک مسائل حل ہوجائیں گے، اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کے مشاورت کے لیے کچھ اساتذہ کو نمائندگی دینے کے علاوہ جامعات کے تمام پی ایچ ڈی اساتذہ کے لیے پی ایچ ڈی الاؤنس بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جو ظاہر ہے کہ ایک اچھی پیش رفت تھی۔ مگر حال ہی میں حکومت سندھ کی جانب سے اسمبلی میں سرکاری جامعات سے متعلق 2018 کی منظوری دی گئی، جس پر جامعات کے اساتذہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، خصوصاً جامعہ کراچی کے اساتذہ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

اساتذہ کا موقف ہے کہ 1973 میں سندھ کی جامعات کو دی جانے والی خودمختاری کو ختم کردیا گیا ہے، اب سینڈیکیٹ و گورنر بورڈز کے دس میں سے آٹھ بیوروکریٹ وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ کی جانب سے نامزد کیے جائیں گے۔ یوں اب جامعاتی سینڈیکیٹ کے پچیس میں سے صرف چھ افراد ہی منتخب ہوں گے، جس سے تمام فیصلے بشمول داخلہ پالیسی بھی بیوروکریسی کی محتاج ہوجائے گی۔

خبروں کے مطابق اب جامعات کے وائس چانسلرز کو عہدے کی مدت مکمل ہونے سے قبل (شکایت کی صورت میں) عہدے سے برطرفی کا اختیار بھی وزیراعلیٰ سندھ کے پاس آگیا ہے، جبکہ اہم انتظامی عہدورں پر بھرتی کا اختیار بھی جامعات سے لے لیا گیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے اساتذہ کے درمیان اختلاف مزید بڑھ گئے ہیں، آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے عہدیداران نے جامعات کے ترمیمی ایکٹ میں داخلوں سے متعلق خودمختاری ختم کرنے کے خلاف سندھ ہائر ایجوکیشن کی کمیٹی سے مستعفی ہونے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

ان نمائندوں کا موقف ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے، ان سے کہا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین سندھ سے ملاقات کریں، ملاقات ہوگئی اور یہ طے پاگیا کہ جامعات کے ترمیمی ایکٹ میں ہماری مشاورت شامل کی جائے گی، لیکن وعدے کے مطابق ایسا نہیں ہوا، نہ ہی ترمیمی ایکٹ انھیں دکھایا گیا اور یوں اس ترمیمی ایکٹ کے تحت جامعات کی خودمختاری ہی ختم کردی گئی۔

راقم کا خیال ہے کہ سرکاری جامعات اور ان سے وابستہ اساتذہ و طلبا سب ہی روز بروز مسائل کے بوجھ تلے دبتے جارہے ہیں، نیز صوبائی انتظامیہ اور جامعات میں غلط فہمیاں اور فاصلے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ان فاصلوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس ضمن میں اساتذہ کے نمائندوں کی نہ صرف چیئرمین ہائر ایجوکیشن سے بلکہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور گورنر سے بھی ملاقاتیں ہونی چاہئیں، جامعات کے اساتذہ کے مسائل سننے چاہئیں، اس سے بہتری کی راہ نکل سکتی ہے، لیکن ان ملاقاتوں اور وعدوں کا پاس بھی رکھنا چاہیے۔

جو وعدے کیے جائیں ان پر عمل بھی ہونا چاہیے، کیونکہ یہ جامعات کے پڑھے لکھے اساتذہ کے نمائندے ہیں، کسی سیاسی جماعت کے ورکر نہیں کہ ان کے ساتھ سیاست کھیلی جائے۔ یہ اساتذہ اس ملک کے وہ دانشور بھی ہیں جو صرف ملک کے معماروں کو تیار ہی نہیں کرتے بلکہ اس ملک و قوم کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے حل بھی پیش کرتے ہیں اور درست راہ بھی دکھاتے ہیں۔

دانشور کسی بھی ملک و قوم کا وہ حصہ ہوتا ہے جو پوری قوم کو سوچنے سمجھنے کا سلیقہ اور فلسفہ بھی پیش کرتا ہے، یہ کسی جماعت کے کارکن یا ووٹر نہیں ہوتے، لہٰذا ان کے ساتھ پڑھا لکھا اور مہذبانہ رویہ رکھنا چاہیے، نیز ان سے جو وعدے کیے جائیں وہ پورے بھی کرنا چاہیے۔ یہ بات مقتدر قوتوں کو اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے اور ان کے اساتذہ اگر گمبھیر مسائل کا شکار ہوں گے تو اس سے اساتذہ اور ادارے دونوں کی کارکردگی متاثر ہوگی۔

جامعات کے مالی وسائل پہلے سے کہیں کم ہوچکے ہیں، حالانکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ان میں کئی گنا اضافہ ہونا چاہیے تھا، چنانچہ اب ملک کی سب سے بڑی جامعہ کراچی کا یہ حال ہے کہ انفرااسٹرکچر دن بہ دن تباہی کی طرف جارہا ہے، کلاسوں اور راہداریوں میں پلستر خستہ حال ہوکر طلبہ اور اساتذہ کے سروں پر گرتا ہے، سائنس کی لیبارٹریوں میں کیمیکل ہی نہیں ہیں تو طلبا کہاں سے پریکٹیکل کریں؟ غرض ایک طویل کہانی ہے، کیا کیا بیان کیا جائے۔

دوسری طرف مہنگائی کے باعث حال یہ ہے کہ انیس گریڈ کے اکثر اساتذہ موٹرسائیکل یا پوائنٹ سے سفر کرکے جامعہ پہنچتے ہیں، وہ ذاتی کار بھی افورڈ نہیں کرپاتے۔ اساتذہ رزلٹ، مارکس شیٹ بنانے وغیرہ جیسے کام کرکے اپنی آمدنی میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں۔

کبھی عید کے موقع پر لیو انکیشمنٹ کی مد میں انھیں اپنی ہی چھٹیوں کے عوض کچھ رقم مل جاتی تھی، اب اس کا بھی آسرا نہیں ہوتا، کیونکہ جامعہ سے تنخواہیں بھی پوری نہیں ملتیں، کسی کو پنشن نہیں ملتی، کسی کو واجبات نہیں ملتے، میڈیکل کی سہولت ایک عرصہ سے صرف کاغذات کی حد تک ہے، کیو نکہ جامعہ کراچی رقم نہ ہونے کے باعث اسپتالوں کے بلوں کی ادائیگی نہیں کر رہی اور اسپتال نے ٹریٹمنٹ ہی بند کر رکھی ہے۔

حال یہ ہے کہ خود وزیراعلیٰ کی جانب سے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافہ کی رقم جامعہ کراچی کے اساتذہ کو نہیں مل رہی ہے، نہ ہی جامعہ کے پاس اس کے لیے رقم ہے، نہ ہی ایچ ای سی یہ رقم دے رہی ہے، گویا یہ محض اعلان ہی ثابت ہوا۔

یوں دیکھا جائے تو جامعات خاص کر جامعہ کراچی اس وقت دو قسم کے مسائل سے گزر رہی ہے، ایک حصہ مالی وسائل، یعنی گرانٹ کی کمی کا، اور دوسرا حصہ جامعات کی خودمختاری کا ہے۔

راقم کا خیال ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ میں ڈاکٹر عاصم کی تقریری جامعات کے لیے ایک اچھی پیش رفت ہے، انھوں نے قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں اور یہ صوبہ سندھ خصوصاً شہری علاقوں کے تعلیمی معاملات و مسائل سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں اور ان کو حل کرنے کی پوری پوری صلاحیت اور سمجھ بھی رکھتے ہیں اور انھوں نے آتے ہی اس کا مظاہرہ بھی کیا ہے، مثلاً اساتذہ کے نمائندوں کو مشاورت کے لیے موقع فراہم کیا اور پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کے لیے فوری اعلان کیا۔

گویا انھیں اس حقیقت کا ادراک تھا کہ جامعات کے دونوں طرح کے مسائل بہت اہم ہیں، یعنی انتطامی خودمختاری اور مالی وسائل کی کمی۔ اپنے عمل سے انھوں نے دونوں معاملات میں فوری پیش رفت دکھائی۔ چنانچہ راقم کے خیال میں ڈاکٹر عاصم کو بطور چیئرمین فوری طور پر ایک جانب جامعات کے نمائندوں کو اپنے اعتماد میں لے کر ان کے جامعات سے خودمختاری سے متعلق مسائل پر بات کرنا چاہیے اور دوسری جانب مالی وسائل کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔

پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے سے اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے (مگر جامعہ کراچی کے اساتذہ ابھی تک اس سے محروم ہیں)۔ راقم کی تجویز ہے کہ ڈاکٹر عاصم جامعہ کراچی کی گرانٹ میں کم ازکم چار سوفیصد اضافہ کا اعلان کیں، اساتذہ کے لیے پلاٹ فراہم کریں، اسی طرح مکان خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی بھی کوئی سبیل نکالیں اور اگر بینک سے بلاسود قسطوں پر گاڑیاں فراہم کرنے کی بھی اسکیم وغیرہ متعارف کرائیں تو یہ وائٹ کالر، دانشور طبقہ ان کے ہاتھ مضبوط بھی کرے گا اور دعاگو بھی ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔