بلین ٹری منصوبہ، صرف 40 فیصد نئے پودے لگائے گئے

ظفر علی سپرا  پير 12 مارچ 2018
بین الاقوامی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ذریعے آزادانہ آڈٹ بھی کرایا گیا، امین اسلم۔ فوٹو: سوشل میڈیا

بین الاقوامی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ذریعے آزادانہ آڈٹ بھی کرایا گیا، امین اسلم۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اسلام آباد: خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ارب میں سے 40 کروڑ پودے نئے جبکہ 60 کروڑ پہلے سے موجود جنگلات میں خود رو پودوں کو محفوظ بنا کر اگائے گئے۔

خیبرپختونخوا حکومت کا سونامی ٹری پلانٹیشن منصوبے میں ایک ارب پودے لگانے کا اعلان شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ارب میں سے 40 کروڑ پودے نئے جبکہ 60 کروڑ پہلے سے موجود جنگلات میں خود رو پودوں کو محفوظ بنا کر اگائے گئے، 22 ارب کی لاگت کا منصوبہ ساڑھے 12 ارب روپے میں مکمل، جنگلات کا رقبہ 6 لاکھ ایکٹر تک وسیع اور 5 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔

عمران خان کے حکم پر خیبر پختونخوا میں شروع کردہ بلین سونامی ٹری منصوبہ گزشتہ دسمبر میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا جس کو جنگلات کے تحفظ یا فروغ کیلیے شروع کی گئی دنیا کی چوتھی بڑی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر منصوبے کے روح رواں امین اسلم نے کہا کہ یہ منصوبہ مکمل شفاف انداز میں مکمل کیا، بین الاقوامی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ذریعے آزادانہ آڈٹ بھی کرایا گیا، انھوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ ایک روشن حقیقت ہے جسے دنیا بھر کے تمام اداروں نے سراہا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔