ستار مرگیا! آنکھیں کھولو

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 5 اپريل 2013
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

[email protected]

اس دن کراچی کی سڑکوں پر ماری جانی والے13 بے گناہ انسانوں کی لاشوں میں جب میں نے ستار کی لاش چینلوں پر دیکھی تو حیرت دکھ اور افسوس سے میں سن سا ہوکر رہ گیا، گولیاں اس کے سر اور پیٹ پر لگی تھیں، ٹی وی اسکرین پر ستار کی لاش خون میں لت پت نظر آرہی تھی، کیمرہ مین بار باراس کی حیرت سے کھلی آنکھیں دکھارہاتھا، اس کا ایک ہاتھ جیب کو مضبوطی سے تھامے نظر آرہاتھا، ستار کی عمر لگ بھگ35 سال ہوگی، اس سے میری پہلی ملاقات کوئی چار سال پہلے اس وقت ہوئی تھی جب وہ ایک راج مستری کے ساتھ میرے گھر آیا تھا، میرے لان کا فرش جگہ جگہ سے خراب ہورہا تھا،اس کی مرمت کے لیے راج مستری آیا تھا، راج مستری غفور کے ساتھ وہ دن بھر سخت دھوپ میں کام کرتارہا تھا، مسلسل کام کرتے کرتے اس کے ہاتھ پائوں لوہا بن گئے تھے۔

وہ بھری ٹرالی کو یوں اٹھالیتاتھا جیسے بچے کوئی کھلونا اٹھالیتے ہیں، فرش کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے وہ مال سے بھری ٹرالی کو اٹھاکر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ رہاتھا اور میں اس کی طاقت دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتاتھا، وہ بڑا محنتی مزدور تھا۔ شام5بجے جب مزدوری کا وقت ختم ہوگیا تو راج مستری نے اوزار باندھنے شروع کیے، تھوڑا سا کام باقی تھا، ستار نے راج مستری کو سمجھا بجھاکر کام پورا کرنے پر راضی کیا، یوں ایک گھنٹہ مزید کام کے بعد فرش کا کام مکمل ہوگیا، میں نے انھیں ایک گھنٹے کے اوورٹائم کی اضافی اجرت ادا کی وہ خوش خوش چلے گئے۔

اس کے بعد جب بھی مجھے مرمت یا کسی چنائی پلستر کے کام کی ضرورت ہوتی میں اڈے پر جاکر ستار کو لے آتا، یوں ستار سے اکثر ملاقات ہوجاتی،اس میںسب سے گھل مل جانے کی ایسی صلاحیت تھی جو بہت کم لوگوں میں دیکھی جاتی ہے، وہ ہمیشہ ہنستا رہتاتھا، اس کی اس ملنساری اور خوش مزاجی نے اسے ہمارے گھر میں اس قدر مقبول بنادیاتھا کہ ہر تقریب کے موقعے پر بچے ستار کو لے آتے وہ سارا کام اتنے سلیقے اور محنت سے کرتا کہ ہمیں کسی بات کی کوئی فکر نہ رہتی۔

آج ٹی وی پر جب میں نے اس کی لاش دیکھی تو میرا دل بھرآیا اور میری آنکھیں بھیگ گئیں، میں جب اس کے گھر پہنچا تو گھر میں ایک کہرام مچا ہوا تھا، اس کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے جن کی عمریں5 سے15 سال کے درمیان تھیں لاش سے لپٹے ہوئے تھے، بیوی پر بار بار غشی کے دورے پڑرہے تھے، کچی آبادی کے کچے مکان کے سامنے سوگواران کا ایک ہجوم تھا۔

وہ آس پاس میں اس قدر مقبول تھا کہ ہر آنکھ اس کے لیے اشک بار تھی، تدفین کے بعد میں نے اس کے بڑے بیٹے سے اس دن کے بارے میں جانکاری حاصل کی اس کے بیٹے اشفاق نے بتایا پچھلے دو دن سے ابو کو کام نہیں ملاتھا جس کی وجہ سے گھر میں آٹا ختم ہوگیاتھا، ابو جب کام پر جارہے تھے تو گھر میں صرف دو روٹی  کا آٹاتھا، امی نے دو روٹیاں بنائیں، ابو کی آنکھوں میں آنسوتھے، وہ یہ روٹیاں ہمارے لیے چھوڑنا چاہ رہے تھے لیکن ہم نے انھیں ناشتے کے لیے مجبور کیا کیونکہ انھیں دن بھر سخت کام کرنا پڑتاتھا، اس دن وہ بڑے پر امید تھے کہ آج انھیں ضرور کام ملے گا، اڈے کی روزی کو مزدور ’’ہوائی روزی‘‘ کہتے تھے۔ملی ملی نہ ملی نہ ملی، ہزاروں مزدوروں کا گزر اسی ہوائی روزی پر تھا جو شہر کے مخدوش حالات کی وجہ سے ہوا میں اڑ رہی تھی اور مزدوروں کے گھروں میں فاقے ہورہے تھے۔

کراچی میں رہنے والا ہر شخص اپنے آپ کو گھر کے اندر اور گھر کے باہر انتہائی غیر محفوظ سمجھ رہا تھا۔ ستار کے بیٹے کی عمر 11سال ہوگی اس نے بتایا ہم جب بھی اپنے ابو کو احتیاط کے لیے کہتے وہ یہی جواب دیتے کہ موت حیات اور رزق اﷲ کے ہاتھ میں ہے، آج جب میں ستار کی بات پر غور کررہاتھا تو مجھے محسوس ہورہاتھا کہ رزق کی سپلائی کی ذمے داری تو ہمارے نظام نے صدیوں پہلے اپنے ہاتھوں  میں لے لی، یہ نظام جس کو چاہے بھوکا رکھتا ہے، لیکن پچھلے لگ بھگ ایک عشرے سے کراچی کے ٹارگٹ کلرز اور ملک کے دہشت گردوں نے موت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیاتھا، وہ جب چاہتے جہاں چاہتے جس کو چاہتے جیسی  چاہتے موت دے دیتے تھے، کیا انسان نے خدا کے اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے؟

یہ سوال ذہن میں اس لیے پیدا ہورہاتھا کہ خدا رحمن اور رحیم ہے، وہ اپنے بندوں کو بھلا کیوں ایسی خوفناک موت دیتا؟ اور ایک ایک وقت میں سیکڑوں بے گناہوں کو سزائے موت کیوں دیتا؟

ستار مرحوم کے راج مستری نے جو تدفین میں شامل تھا بتایاکہ شام چھ بجے ہم نے کام ختم کیا اور ہم دونوں گھر جانے کے لیے روانہ  ہوئے اس نے بتایا عموماً ہم گھر پیدل ہی جاتے تھے، آج ہمیں جہاں کام ملاتھا وہ گھر سے کوئی چار کلو میٹر کے فاصلے پر تھا، میں معمول کی طرح پیدل  ہی گھر کی طرف نکل گیا لیکن ستار آج خلاف معمول جلد گھر جانا چاہتاتھا اس لیے وہ بس اسٹاپ کی طرف چلاگیا، آج ستار بہت خوش تھا کیونکہ آج جو کام ملاتھا وہ پندرہ بیس دن کا تھا اگر کسی مزدور کو اتنا لمبا کام ملتا ہے تو وہ بڑا خوش ہوتاہے، ستار اور راج مستری دونوں خوش تھے کہ ایسے حالات میں جہاں روزی کے انتظار میں کئی کئی دن گزرجاتے اکٹھے پندرہ بیس دن کی روزی ایک نعمت سے کم نہ تھی، ستار بس اسٹاپ پر  بس کے انتظار میں کھڑاتھا کہ ایک موٹر سائیکل پر دو افراد نے قریب سے گزرتے ہوئے گولیاں چلادیں اور اپنے گھر جلدی پہنچنے کا آرزومند ستار خدا کے گھر پہنچ گیا۔

ستار کی بیوی دل کی مریضہ تھی، اس کے دل کے دو وال بند تھے، شوہر کی اچانک موت نے اس کے دل ودماغ پر اتنا اثر کیاکہ وہ بیمار ہوگئی، اسے شہر کے ایک سرکاری کارڈک اسپتال میں داخل کردیاگیا، ستار کا گھر اب ایک ویران کدے میں بدل گیاتھا، ستار کی تدفین اہل محلہ نے کی کہ اس کے گھر میں فاقوں کے علاوہ کوئی سرمایہ نہ تھا، میں حیران تھا کہ اس وحشی سرمایہ دارانہ نظام میں لاکھوں انسانوں کے پاس فاقوں کے علاوہ کوئی سرمایہ کیوں نہ تھا کروڑوں انسان دو وقت کی روٹی کے لیے کیوں محتاج تھے۔ لاکھوں انسان صرف صبر وشکر کی دولت سے کیوں مالا مال تھے، ستار جو عشروں سے رات دن محنت کرتاتھا آج اپنے کفن دفن سے کیوں لاچارتھا؟ میں حیرت سے ان مرنے اور مارنے والوں میں عام طورپر غریب طبقات کو ہی دیکھ رہاتھا۔

ستار کی بڑی خواہش تھی کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر ایک بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں، اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ شام میں سائیکل پر گلی گلی گھوم کر مونگ پھلی  بیچتاتھا، اس کے بچے اس کی بیوی اسے رات ایک دو بجے تک گلی گلی گھوم کر مونگ پھلی بیچنے سے منع کرتے اور شہر میں ہونے والی قتل وغارت کی طرف توجہ دلاتے لیکن اس کا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا’’موت حیات اور رزق اﷲ کے ہاتھ میں ہے‘‘ آج وہ  اﷲ کی دی ہوئی یا بندوں کی دی ہوئی موت لے کر منوں مٹی کے نیچے دنیا کے جھمیلوں سے ہمیشہ کے لیے مکت ہوکر سکون سے لیٹا ہواتھا لیکن اس کا خواب اس کی طرح چکنا چور ہوگیاتھا، اس کی بیوی اسپتال میں تھی، اس کی بڑی بیٹی آنکھوں میں مایوسی اور دکھ کے آنسو سنبھالے ماں کی تیمارداری کررہی  تھی اور ایک بہن دو بھائی اہل محلہ کے رحم وکرم پر زندہ تھے۔

ستار رات دن محنت کرکے اپنے بچوں کو ایک معیاری انگلش اسکول میں پڑھارہاتھا اب اس کے بچوں کے سامنے تعلیم کے بجائے روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیاتھا، ستار کی بڑی بیٹی جو میٹرک کی طالبہ تھی حیرت اور خوف سے اپنے مستقبل کو خلائوں میں تلاش کررہی تھی اور بیٹا اشفاق جو آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اسے اہل محلہ اور رشتے دار کسی قالین کے کارخانے میں نوکری ڈھونڈنے کا مشورہ دے رہے تھے کہ 11سالہ اشفاق ابھی کسی راج مستری کی ہیلپری جیسی سخت مشفقت کرنے کے قابل نہ تھا، سرکار خصوصی دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کی امداد کرنے پر تو مجبور تھی لیکن ہر روز کراچی میں مارے جانے والے بے گناہ لوگوں کی مالی مدد سرکار کے ایجنڈے میں نہیں تھی۔

کہاجاتاہے کہ ملک میں جوٹارگٹ کلر سرگرم ہیں ان میں دو طرح کے ٹارگٹ کلر شامل ہیں ایک وہ جو جنت میں جانے کے لیے بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتاررہے ہیں، دوسرے وہ جو معاوضہ بلکہ بھاری معاوضہ لے کر بے گناہ انسانوں کو قتل کررہے ہیں، جو لوگ جنت کے لالچ میں بے گناہ انسانوں کو قتل کررہے ہیں وہ جنت میں تو نہیں جہنم میں ضرور جائیںگے، جو لوگ معاوضہ لے کر قتل کررہے ہیں ہوسکتا کہ اس بھاری لیکن شرمناک اور قابل نفرت معاوضے سے اپنی زندگی بہتر بنالیں لیکن ان کے خیر خواہ وہ کتنے ہی مردہ کیوں نہ ہوں یقیناً ان پر چوبیس گھنٹے لعنت بھیجتے رہیںگے کہ وہ اپنی زندگی بہتر بنانے کے جنون میں بے گناہ انسانوں کی زندگیاں چھیننے کا جو شرمناک کام انجام دے رہے ہیں اس کا نتیجہ خود ان کے ضمیر کی موت کی شکل میں ان کے سامنے ہوگا اور ضمیر کی موت اس موت سے زیادہ بد تر موت ہوتی ہے جو وہ بے گناہ انسانوں کو دے رہے ہیں۔

اے قوم وملک کے غم میں مگرمچھ کے آنسو بہانے والے مگرمچھو! اگر تمہارا ضمیر زندہ ہے تو ذرا ستار اور ستار جیسے بے گناہ محنت کشوں کے گھروں میں برپا کہرام کو دیکھو! ستار کے بیوی بچوں کی مایوسیوں اور تاریک مستقبل میں جھانک کر دیکھو! ستار جیسے ہر روز مارے جانے والوں کے گھروں میں پھیلے سناٹوں اور ویرانیوں پر نظر ڈالو تو تمہاری نظریں شرم سے زمین میں گڑھ جائیںگی، اگر تم میں شرم ہوتی تو تم اپنے سارے سیاسی بزنس کو چھوڑ کر ستاروں کے دکھ بانٹنے، ستاروں کے لواحقین کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے نظر آتے! تم ستار کی آنکھوں میں منجمد ہونے ہونے والی حیرت اور اس کی جیب پر جکڑے ہاتھ کو دیکھتے جس میں اس کی دن بھر کی محنت کی کمائی پانچ سو روپے تھے، جن سے وہ اپنے دو دن سے بھوکے بیوی بچوں کی بھوک مٹانا چاہتاتھا کیا تم ستار کی آنکھوں میں جمی حیرت اور جیب سے چمٹے ہاتھ کی معنویت کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہو؟حیرت کے اس آخری لمحے کی اذیت کو سمجھ سکتے ہو جو ستار کو گولیاں لگنے اور اس کا دم نکلنے سے پہلے اس کی آنکھوں میں منجمد ہوگیاتھا، کیا کوئی پکاسو ہے جو اس لمحے کی تصویر بنادے !

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔