زن مریدی کی سعادت

سعد اللہ جان برق  منگل 13 مارچ 2018
barq@email.com

[email protected]

ویسے تو ہمیں ’’پیری مریدی ‘‘سے کچھ زیادہ شناسائی نہیں ہے کہ ہمیں یہ دونوں کام بڑے مشکل لگتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ہم حیران بھی ہوتے ہیں کہ یہ لوگ ایسا کر کیسے لیتے ہیں لیکن آدمی کتنا ہی دامن بچائے کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں ’’ تر ‘‘ ہو ہی جاتا ہے۔ یہ تو بالکل ناممکنات میں سے ہے کہ آدمی کیچڑ میں سے گزرے اور ایک بھی چھنٹا اس کے دامن پر نہ پڑے اسی بات کو ایک فارسی شاعر نے یوں بیان کیا ہے کہ

درمیان درمیان قصر دریا تختہ بندم کردہ ای

باز می گوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش

یعنی تم نے مجھے عین دریا کے بیچو ں ایک تختے کے اوپر باندھا ہوا ہے، پھر بھی کہہ رہے ہوکہ خبردار جو دامن کو تر کیا ۔ لیکن ہمارا دامن پیری مریدی کے دریا میں اس طرح نہیں بھیگا ہے جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ قصہ ہی دوسرا ہے ۔ ’’ پیری ‘‘ کا تو یہ ہے کہ بھوپال میں صوفی کا نفرنس کے دوران ایک لاہورئیے نے اعلان کیا کہ میں تمہارا ’’ مرید اول ‘‘ ہوگیا ہوں، ہم نے آیندہ کے خطرات کو بھانپتے ہوئے کہاکہ اس ’’ اول ‘‘ کے ساتھ ’’ آخر ‘‘ بھی لگا دو تب سے وہ اور ہم ایک دوسرے کے پیراول ہیں البتہ اس کا پتہ نہیں کہ یہ لاہور بلکہ پنجاب والے کچھ زیادہ ہی پیر پسند ہوتے ہیں۔ کھانے پینے کے بغیر تو شاید ان کا گزارہ ہوجائے لیکن بابا جی کے بغیر ان کا گزارہ بہت مشکل ہو تا ہے۔

ویسے کھانے کے بغیر بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہمارے اس مرید اول و آخر نے بتایا ہے کہ پنجاب بلکہ پنجابیوں یعنی ادھر والے پنجاب میں بھی صرف دوہی کاروبار خاصے کامیاب چلتے ہیں۔ ایک کھانے کھلانے کا اور دوسرا حکمت کا کہ ان لوگوں کو صرف دو ہی کام مرغوب ہیں ،کھانا اور کھاتے کھاتے بیمار ہونا، پھر دوائیں کھانا اور کھاتے کھاتے بد پرہیزی کرتے رہنا ۔

یہ تو ہوا ’’ پیری‘‘ کا قصہ لیکن مریدی کا تو ہمیں بہت عرصے بعد پتہ چلا کہ ہم آدمی کے ساتھ ساتھ مرید بھی ہیں بلکہ بقول چشم گل چشم عرف قہر خداوندی آدمی کم اور مرید زیادہ تھے اور وہ بھی اپنی ذاتی اور اکلوتی پیرنی کے ۔

ہوا یوں کہ قہر خداوندی بری طرح اپنی بیوی اور اس کے بھائیوں کی گھریلوں تشدد کا شکار تھا۔ وہ جب بھی گھر سے نکلتا تو چہرے پر کچھ ایسے نشانات ہوتے تھے جیسے کسی نے کانٹے دار جھاڑیوں میں خوب خوب گھسیٹا ہو۔ ناک اورماتھے پر پٹی ہوتی اور ساتھ ہی لنگڑا ہٹ وغیرہ سے بھی تصدیق ہوتی تھی کہ بچارا بری طرح گھریلوں دہشت گردی کا شکار ہے۔ لوگ اس پر ہنستے تھے، مذاق اڑاتے تھے اور طرح طرح کے لطیفے اس سے جوڑتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ اس کے گھریلو سامان یا آلات کی عمر آدھی ہوتی تھی، جھاڑو برتن ڈولئی اور جوتے چپل دوہری ڈیوٹی سے بہت جلد ڈیٹ ایکسپائر ہو جاتے تھے ۔

اس کے بھی منہ میں زبان تھی اور وہ بھی نہایت تیز اس لیے تنگ آکر اس نے بالکل ہی ایک نیا نظریہ لانچ کردیا کہ ہاں میں مار کھاتا ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے کیونکہ میں ’’ جابر سلطان ‘‘ کے آگے کلمہ حق کہتا ہوں ۔ گھریلو مار صرف وہ لوگ نہیں کھاتے جو پہلے سے سرینڈر ہو کر سب کچھ بلا چو چرا کیے مان چکے ہیں جن کو صرف ’’ہاں ‘‘ کے سوا اور کوئی لفظ نہ آتا ہو تو کیا بیویاں اتنی ظالم ہیں کہ پھر بھی ان کو ماریں گی، مارتی ان کو ہیں جو  ہم جیسے مجاہد اور کلمہ حق یعنی ’’ ناں‘‘ کہنے والے ہوتے ہیں اور پھر سب صلح پسند ، سعادت مند اور اطاعت گزار ، مارنہ کھانے والے شوہروں کو ایک مجموعی نام ’’ زن مرید ‘‘ سے بھی موسوم کیا جو نہ کچھ کہتے ہیں نہ مار کھاتے ہیں۔ کم بخت نے زیادتی یہ کی کہ ہمارا نام بھی اس لسٹ میں ڈال دیا ہے جو ابھی تک موجود ہے ۔

اس کے علاوہ ہمیں پیری مریدی سے اور کوئی تعلق نہیں ہے۔ گویا ہم صرف اکلوتے پیر بھی ہیں اپنے اکلوتے مرید کے اور اکلوتے مرید بھی ہیں اپنی اکلوتی پیرنی کے ۔ اگر چہ کچھ لوگ ہمیں پیٹھ پیچھے ’ ’زن مرید ‘‘ کچھ غلط لہجے میں بھی بولتے ہیں لیکن یہ تو ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو بُرا کہتے ہیں، جب پیرنی زن ہو تو مرید کو ’’ زن مرید ‘‘ ہی کہا  جائے گا ۔کوئی گملہ مرید ، پتھر مرید یا ککڑ مرید تو نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

اور ہمارے خیال سے یہ کوئی بری بات ہے بھی نہیں، اگر مرید اپنی پیرہ یا پیرنی کا عقیدت یا خدمت گزار ہو بلکہ ایک لحاظ سے اچھی بات ہے بلکہ ایک طرح سے خود کفالت ہے، اب کون لمبی لمبی مسافییں طے کرکے دریا اور صحرا جنگل پار اپنا کوئی ’’ پیر ‘‘ رکھے جس کے دیدار سے مشرف ہونے کے لیے لمبے لمبے سفر کرنا پڑیں اس سے بہتر یہ نہیں کہ پیرنی گھر میں ہی ہو۔ ویسے یہ سعادت کسی کسی کے ہی حصے میں آتی۔ ہر مدعی کے واسطے دار و ر سن کہاں

اس سلسلے میں ہمیں ایک ہندی اسطورہ یاد آتا ہے۔ رامائن کا مشہور کردار راون جب راون نہیں بنا تھا تو اس کا اپنا نام سن دشاسن ہوتا تھا اور وہ شیو دیوتا کا بھگت تھا ۔ چونکہ اس کا بھائی ’’ کوبیر ‘‘ دولت کا دیوتا تھا اس لیے اس نے اپنے بھائی سے زبردستی سونا حاصل کیا اور سونے کو لنکا لے جانا چاہا ۔ آگے کہانی میں بہت سارے ٹوسٹ ہیں جن سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں، بات اتنی کرنی ہے کہ ہر بھگت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ممدوح یا پیر یا پیرنی اس کے پاس رہے، نظروں کے سامنے ، دل کے قریب ، یک جان دو قالب لیکن قسمت قسمت کی بات ہوتی کہ شیو دیوتا اتنی طاقت اور دولت کے باوجود اپنے دیوتا کے ’’ چرن ‘‘ اپنے لنکا میں نہیں لا سکا۔ اس کے مقابل وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ اپنے ممدوح کے ’’ چرن ‘‘ اس کے اپنے گھر میں اسے صبح دوپہر شام میسر ہوں ۔

سب کچھ خد ا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہاتھ مرے اس ’’ دعا ‘‘ کے بعد

مطلب یہ کہ ’’ زن مرید ‘‘ کوئی طعنہ نہیں بلکہ جن لوگوں کو یہ نعمت میسر نہیں وہ خوامخواہ اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ کر برے نام سے پکارتے ہیں ورنہ زن مرید ہی دنیا کے کامیاب ترین ’’ مرید ‘‘ ہوتے ہیں۔ لوگوں کا کیا ہے وہ تو منفی تنقید کرتے رہتے ہیں ،کرتے رہیں جلنے والے جلا کریں، ممدوح یا ممدوحہ ہمارے ساتھ ہے ۔

یہاں پر ہو سکتا ہے کہ کچھ منفی تنقیدیے ہماری اس بات کو لے جاکر کہیں اور چپکا دیں، یہ ان کی اپنی منفی ذہنت ہوگی، ہم تو بس صرف اپنی بپتا بلکہ پوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں کہ چشم گل چشم عرف قہر خداوندی لوگ کچھ بھی سمجھیں یا کہیں ہمیں اپنی اس پوزیشن اور مقام پر فخر ہے اور زن مرید ہونا کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ ہم تو یہاں تک کہیں گے کہ

ایں سعادت بزور بازو نیست

تانہ بحشد خدائے بحشندہ

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔