قانونی تقاضے پورے کیے بغیر زبانی طلاق نہیں ہوتی، سپریم کورٹ

ویب ڈیسک  منگل 13 مارچ 2018
ماہانہ خرچ بیوی کا حق ہے جو آپ کو ادا کرنا پڑے گا، عدالت فوٹو:فائل

ماہانہ خرچ بیوی کا حق ہے جو آپ کو ادا کرنا پڑے گا، عدالت فوٹو:فائل

 کراچی: سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر زبانی طلاق نہیں ہوتی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اہلیہ کی جانب سے شوہر سے ماہانہ خرچے کے مطالبے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے شوہر کو نان نفقے کے لیے خرچہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار شوہر رشید احمد قریشی کے وکیل نے کہا کہ میرا موکل اپنی اہلیہ صفیہ رشید کو طلاق دے چکا ہے، اس لیے وہ اسے ماہانہ اخراجات ادا کرنے کا پابند نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ طلاق کہاں دی گئی اور اس کی دستاویزات کہاں ہیں؟۔  وکیل نے کہا کہ میرے موکل نے اپنی سابقہ اہلیہ کو زبانی طلاق دی ہے، لیکن ماتحت عدالت نے میرے موکل کو سابقہ اہلیہ کو ماہانہ 5 ہزار روپے خرچہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے خلاف ہم نے درخواست دائر کی ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر طلاق نہیں ہوتی۔ ماتحت عدالت چاہے تو ماہانہ خرچہ 5 ہزار کی بجائے 25 ہزار روپے بھی مقرر کر سکتی ہے، ماہانہ خرچ بیوی کا حق ہے جو آپ کو ادا کرنا پڑے گا۔ عدالت نے ماہانہ خرچ مقرر کرنے سے متعلق ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف شوہر کی اپیل مسترد کردی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔