پاک ایران تعلقات اہم ہیں

ایڈیٹوریل  بدھ 14 مارچ 2018
 تاریخی سچ ہے کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے اچھے اور بہترین پڑوسی ہیں۔ فوٹو: فائل

تاریخی سچ ہے کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے اچھے اور بہترین پڑوسی ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور ایران دو برادر اسلامی ملک جو تاریخ، ثقافت، تہذیب،ادب اور لسانیت کے حوالے سے ایک دوسرے سے جڑے ہیں، پاکستان کے وجود کو سب سے پہلے اقوام عالم میں ایران نے ہی تسلیم کیا ۔ ہماری قومی زبان اردو ’’فارسی کی بیٹی‘‘ کہلاتی ہے، جب کہ مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ ایران نے پاکستانی موقف کی دوٹوک الفاظ میں تائیدوحمایت کی ہے ۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف دورہ پاکستان پر تشریف لائے اوروزیراعظم سمیت ، وزیر خارجہ اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ان کے اس دورے کا  مثبت نتیجہ نکلا، پاکستان اور ایران دو طرفہ تجارت کو5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر رضامند ہوگئے، اس بات کو جتنا سراہا جائے وہ کم ہے۔ خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان  خدانخواستہ دوریاں بڑھ رہی ہیں ۔

اس کی وجہ سعودی عرب ، افغانستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ چاہ بہار اور سرحدی معاملات تھے ۔ دوران ملاقات وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پر امن اور مستحکم افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور اس ہدف کے حصول کے لیے پڑوسی ممالک ہونے کے ناتے پاکستان اورایران اہم کردارادا کر سکتے ہیں ۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو عملی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ایرانی وزیرخارجہ نے سرحد پارغیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے بارڈر منیجمنٹ کے ضمن میں پاکستانی اقدامات کو قابل تعریف قرار دیا۔

یہ تو ایک تاریخی سچ ہے کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے اچھے اور بہترین پڑوسی ہیں لیکن روز بروز سیاسی صورتحال کی تبدیلی ، امریکا اور روس کے اتحادیوں کی تبدیلی، خطے میں نئے بلاک کی تشکیل ، عرب ممالک میں بڑھتی کشیدگی اور خانہ جنگی اس میں ایران پر مداخلت کے الزامات ، افغانستان،کشمیر کے مسائل کا حل نہ ہونا اور سرحدی معاملات میں غیرریاستی عناصرکی سرگرمیاں اور بہت کچھ  زمینی حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاک ایران گیس منصوبہ امریکی دباؤکے باعث تاخیر اورالتوا کا شکار ہوا ، حالانکہ اس منصوبے کی تکمیل سے دوستی کے رشتے مضبوط اور پائیدار ہوتے جب کہ ماضی میں بھی دونوں ملکوں نے ہر کڑے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ہے ۔

پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ اس نے امریکی دوستی نبھاتے ہوئے خود کو تقریبا تنہا کرلیا ہے کیونکہ ہمارا کوئی دوست رہ نہیں گیا سوائے چین کے ۔ بلوچستان میں جب سے گوادرکی بندرگاہ کو فنکشنل کیا گیا ہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے باعث حالات کافی کشیدہ ہیں ، بھارت نے چاہ بہار کے حوالے سے کثیر سرمایہ کاری کی ہے وہ بھی ایران سے لگائی بجھائی میں لگا رہتا ہے ۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرنو حالات کے مطابق ترتیب دے، ایران سے بھی مذاکرات کی میز پر فہم ودانش کے ساتھ معاملات حل کرکے آگے کی جانب بڑھا جائے۔ پاکستانی اور ایرانی حکومتوں کے موقف سامنے آنے کے بعد یقینا جوگرد اڑ رہی تھی وہ تو بیٹھ گئی ہے ، باہمی تجارتی عمل سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ یہ عمل تعلقات کی بنیادوں کو مزید مستحکم بنانے میں اہم اپنا کردار ادا کرے گا ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔