سینیٹ انتخابات، بلوچستان کے نام

ایڈیٹوریل  بدھ 14 مارچ 2018

مشال خان کو تشدد کرکے مارنے والوں نے تو مارتو دیا، لیکن وہ مر کے بھی امر ہوگیا۔ ہمارے ملک میں ہر سطح پرکرپشن کو دبانے، چھپانے اور بھلانے کے لیے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی صورتحال ولی خان یونیورسٹی مردان کی انتظامیہ کی تھی۔ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے مشال خان کے خلاف جھوٹا اور مبالغہ آمیز پروپیگنڈا کیا گیا۔ مشال خان یوسفزئی یونیورسٹی انتظا میہ کی کرپشن کو بے نقاب کررہا تھا۔ اس مسئلے پر اس کا نجی ٹی وی پر انٹرویو بھی آیا اور پریس کانفرنس بھی کی۔

اس کے قا تلوں میں سے کچھ کو تفریقات کے ساتھ سزائیں تو ہوئیں لیکن ان لوگوں پر کوئی مقدمہ نہیں چلا جو لوگ کرپشن میں تاحال ملوث ہیں۔ جنھوں نے کرپشن کو چھپانے کے لیے، کرپشن کے خلاف آواز بلند کر نے والے بہادر طالب علم مشال خان یوسف زئی پرجھوٹے الزامات لگا کر طلبا اور ملازمین کو اکسایا۔ پھر ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب ہجوم مل کر کسی کا قتل کر تا ہے تو سزاؤں میں اتنی تفریق کیسے ہوتی ہے؟ اس منصوبہ بند قتل میں شریک 26 افراد کیوں کر بے قصور پائے گئے۔ اگر وہ قتل میں شریک نہیں تھے تو 26 افراد باقی 26 افراد کو قتل کرنے سے روک تو سکتے تھے۔

اگر عبداﷲ کو دو پولیس والے ہجوم سے بچا سکتے ہیں تو کیا 26 افراد مشال کو نہیں بچا سکتے تھے۔ اس قتل پر بی بی سی کے نمایندے نے سب سے بہتر تجزیہ پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ ’’مشال خان یوسف زئی قتل کے مقدمے میں 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا، جس میں 57 کے خلاف عدالت نے فیصلہ دیا، باقی چار ملزمان میں سے تین مفرور ہیں۔ ایک کو بعد میں گرفتار کیا گیا، اس کے خلاف الگ سے مقدمہ چلایا جائے گا۔ عمران علی کو سزائے موت ہوئی، بلال بخش کے علاوہ چار دیگر مجرمان کو عمر قید کی سزا دی گئی، اس کے علاوہ وجاہت اﷲ سمیت 24 دوسرے مجرمان کو چار چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔

قتل میں عدالت نے اہم کردار عمران علی، بلال بخش اور وجاہت اﷲ کو قرار دیا۔ پھر ان کی تفریقات کی سزالوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ عمران علی نے مشال خان یوسف زئی پر گولی چلائی، مگر موت صرف گولی سے نہیں ہوئی بلکہ بدترین تشدد سے ہوئی۔ عمران علی کا شروع سے طلبا کی جماعت، اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق ہے۔ اس کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے۔ بعض معتبر سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ عمران علی نے کچھ عرصے تک مانسہرہ میں کالعدم تنظیم کے زیر انتظام چلنے والے کیمپ میں ’’جہاد‘‘ کی تربیت حاصل کی تھی۔ واقعے کے بعد اسی تنظیم کی مدد سے کچھ عرصہ روپوشی اختیار کی اور بعد میں اسے چمن میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ تاہم بااثر سرکا ری اداروں کے کہنے پر اسے واپس خیبرپختونخوا منتقل کرکے گرفتار کرلیا گیا۔

کچھ ذرایع کا کہنا ہے کہ اسے چمن سے ہی گرفتار کیا گیا تھا لیکن ظاہر کے پی سے کیا گیا تھا۔ عمران علی کئی بار مشال خان کے کمرے میں گیا تھا اور اس کے ساتھ کھانا بھی کھایا تھا۔ بلال بخش پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا انتہائی سرگرم رہنما تھا۔ 2009-10ء میں ولی خان یونیورسٹی مردان میں پی ایس ایف کا نائب صدر رہ چکا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے دوران پارٹی کی سفارش پر اسے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کیمپس میں سیکیورٹی کی ذمے داری سونپ رکھی تھی۔ مردان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ بلال بخش کے خلاف مردان کے مختلف تھانوں میں آٹھ کے قریب ایف آئی آر درج ہیں۔ اس کے ساتھ پی ایس ایف کے اندر اور ملازمین کا ایک گروپ جس میں تنظیم کے صدر صابر مایار، اجمل مایار بلٹک اور اسد کاٹلنگ (کلرک) قابل ذکر ہیں۔

پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں مشال خان یوسف زئی بھی شا مل تھا۔ اس گروپ کو خوف تھا کہ چونکہ مشال خان کا تعلق صوابی سے ہے اور آیندہ انتخابات میں کہیں مشال خان اور اس کے ساتھی کامیاب نہ ہوجائیں۔ شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد ضیا اللہ جو مشال خان کے ہمدرد ہیں، کو ہجوم نے مارنے کی کوشش کی، لیکن بروقت پولیس کی مداخلت سے وہ بچ گئے۔ ضیا اللہ کا جرم یہ تھا کہ مختلف مواقع پر مشال خان یو سف زئی کو مارنے سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔

مجرم وجاہت اللہ کا تعلق بھی اسلامی جمعیت طلبہ سے رہا ہے اور فعال کارکن کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ وجاہت اللہ نے تقاریر کرکے طلبا کو اکسایا اور جمعیت کے اجلاس میں بھی مشال خان کو ملحد قرار دینے کی من گھڑت الزام ترا شی کی۔ کچھ طلبا نے مشال خان کے دوست عبداللہ کو گھیر لیا اور کہا کہ یہ مرتد ہے، اسے کلمہ پڑھنے کو کہا اور کچھ مذہبی سوالات کیے، اس کے درست جواب دینے کے باوجود کہا گیا کہ یہ کافی نہیں، اس کے بعد اس پر تشدد کیا گیا۔ پولیس کی مداخلت سے عبداللہ کو یونیورسٹی سے پو لیس نے نکال لیا۔ اگر پولیس کی مداخلت سے عبداللہ بچ گیا تو مشال خان بھی بچ سکتا تھا۔

تقریباً ساری جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے مشال خان کے قتل کی مذمت کی اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطا لبہ کیا، لیکن مردان کی چند جماعتوں کے مقامی رہنما اب بھی مشال خان کو ملحد قرار دے رہے ہیں، جب کہ یہ بیانیہ عدالتی فیصلوں کے خلاف اور عدالت کی توہین ہے۔ اب جب جے آئی ٹی، پولیس، عدالت اور جماعتوں کے مرکزی رہنما مشال خان کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں تو پھر مقامی رہنما کیوں کر اسے گناہگار قرار دے رہے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یونیورسٹی کی کرپٹ انتظامیہ کو بچایا جاسکے۔ یہ لوگ یونیورسٹی کی کرپشن کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایسے واقعات تسلسل سے رونما ہورہے ہیں۔ یہ ساری غلاظتیں، رجعتی، تنگ نظری، انا، منافرت اور اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ ساری مکروہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔