جنگ ِستمبر کی یادیں اور سینیٹ کی سربراہی

ذوالفقار احمد چیمہ  بدھ 14 مارچ 2018
zulfiqarcheema55@gmail.com

[email protected]

پستی اور پسپائی میں ہم کن حدوں کو چھو لیں گے، بانیانِ پاکستان نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔

وطنِ عزیزکے مستقل بد خواہ بھارت کو خوش کرنے کی خاطر جنرل مشرف نے ایسے ایسے کام کیے جن کا کوئی سویلین لیڈر تصوّر بھی نہیں کر سکتا،اُس کے دور میں نصاب تبدیل ہوئے، مفکّرِ پاکستان علامہّ اقبالؒ کا کلام خارج کر دیا گیا،اور بھارت کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں کے واقعات اور سرفروش محا فظو ں کی شجاعت اور بہادری کے واقعات بھی نصاب سے نکال دیے گئے کہ انھیں پڑھ کر ذہنوں میں بھارت کے خلاف منفی جذبات پیداہوتے ہیں۔اس کے بعد آنے والی سول حکومتوں نے بھی نصاب کی درستگی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

ان حا لات میں ملک کے نامور صحافی اوراردو ڈائجسٹ کے مدیرِاعلیٰ محترم الطاف حسن قریشی صاحب کی نئی کتاب ’’جنگِ ستمبر کی یاد یں‘‘ نے وطن ِعزیزکے تحفظ کے لیے  1965 میں لڑی جانے  والی تاریخی جنگ کی یادوں کے چراغ روشن کر دیے ہیں،یہ کتاب انتہائی اعلیٰ پائے کی تاریخی دستاویز کی حیثیّت رکھتی ہے جس کے روح پرور واقعات کو بلند پایہ صاحبِ قلم کی دل میں اترنے والی تحریرنے انتہائی دلچسپ بنادیاہے ۔

قریشی صاحب کاکمال یہ ہے کہ وہ ان تاریخی واقعات کے حقائق جاننے کے لیے ہر محاذِجنگ پر خود پہنچے اور ہر چیز کا خود مشاہدہ کیا ۔انھوں نے بڑی ریاضت اور عرق ریزی سے پاکستان کے خلاف بھارت کے بغض،عناد اور دونوں ملکوں کی آویزش کا پس منظر تلاش کیا اور مستند حوالوں کے ساتھ قارئین سے شیئرکیاہے۔

وسط ایشیا سے کئی جنگجوؤںکوہندوستان کے سرسبز میدانوں کی کشش کھینچتی رہی۔ شہاب الدّین غوری اور قطب الدین ایبک نے ہندوستان پر لشکر کشی کی، مزاحمتی فوجوں کو شکست دیکر ہندوستان پر قابض ہو گئے اور1256 میں پہلی مسلم سلطنت قائم کی، ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت 1857 تک قائم رہی۔مسلمان حکمرانوں نے ہندوؤں کے ساتھ بڑی فراخدلی اور رواداری کا سلوک روا رکھا جس کا برملاعتراف کئی ہندو لیڈروں نے کیاہے۔

1857 کی بغاوت ناکا م ہونے کے بعد انگریز حکمرانوں کے انتقام کانشانہ مسلمان ہی بنتے رہے۔ بیسویں صدی کے آغازمیںمسلم قائدین ہندوستان کی آزادی کے لیے ہندوؤں کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہّدکے حامی رہے۔1916 میںمیثاقِ لکھنو کے نام سے ہندو مسلم اتحاد کامعاہدہ طے پایا،اور محمد علی جناح اس اتحاد کے سفیر کہلائے۔ مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ حتیٰ الامکان اتحاد قائم رکھنے کی کوشش کی مگر پے درپے ایسے واقعات رونماہوئے جن سے مسلمانوںکااعتماد ڈگمگانے لگا،اور وہ ہندو قیادت سے بدظن ہونے لگے۔ مسلمان قائدین بجاطور پر یہ سمجھ گئے تھے کہ کانگریس صرف اور صرف ہندوؤں کے مفاد ات کی نگہداشت کرتی ہے اور ہندو اکثریتّ اورکانگریس کی قیادت مسلمانوں کے سیاسی ،معاشی اور مذہبی حقوق تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں ۔ دونوں قوموں کے درمیان بداعتماد ی کی خلیج وسیع تر ہوتی گئی۔

1928میںنہرو رپورٹ کے مقابلے میں قائداعظم نے چودہ نکات پیش کیے1930میںآل انڈیامسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں ہوا جسکی صدارت علامہ اقبالؒ نے کی،اپنے صدارتی خطبے میں دانائے راز نے مسلمانوں کے لیے، منزلِ مقصود کی نشاندہی کر دی اور مسلمانانِ ہند کے مسائل کا حل بتادیا جسکے حصول کے لیے جناح صاحب کی قیادت میں مسلمانوں نے تاریخی جدوجہدکی ۔

1937 میں سات ریاستوںمیں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئیں توہندو ذہنیّت کھل کر سامنے آگئی اسکولوں میں بندے ماترم کا ہندو ترانہ اور مور تیوں کے سامنے پوجا پاٹھ لازم قرار دی گئی، ہندو قیادت کا اصل ایجنڈا دیکھ کر لبرل مسلمان بھی سمجھ گئے کہ مسلمانوں کاہندوؤں کے ساتھ رہنا خود کشی کے مترادف ہے ۔

لہٰذا1940 کی قرارداد میں مسلمانوں نے علیحدہ وطن کا مطالبہ کر دیااور سات سال کی بے پناہ جدوجہد اور قائدؒ کے غیرمتزلزل عزم کے باعث آزادی کی منزل حاصل کر لی۔ پاکستا ن بننے پر ہندوبہت تلملائے کسی نے اس تقسیم کو مقدس گائے کو دو ٹکڑے کرنے کے مترادف قرار دیا۔کسی نے ،پیشگوئی کی پاکستان چند مہینو ں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکے گا۔غرضیکہ بھارتی قیادت نے نئے ملک کو ایک دن کے لیے  بھی دل سے تسلیم نہ کیا۔اور وہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے نئے سے نئے بہانے ڈھونڈتے رہے،اور نئے نئے حر بے  استعمال کرتے رہے۔

تقسیم کے معاہدے کے مطابق کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہو ناتھا مگر 1948 میں بھارتی فو جو ں نے کشمیر میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کر لیا اور یہی غاصبانہ قبضہ دونو ں ملکوںکے درمیان مستقل آویزش کا سبب بن گیا۔بھارتی حکومت نے پاکستان کو کبھی چین سے رہنے نہ دیا ،اس کے خلاف مسلسل سازشو ں اور شرارتوں میں لگے رہے۔اور نئے ملک کو ختم کرنے کے خواہشمندبھارت اور اپنی آزادی کا تحفظ کر نے والے پاکستان کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ ستمبر 1965 میں ہوئی ۔جسکی یادوں کااحاطہ زیرِ نظر  کتاب میں خوب کیا گیا ہے۔ اُسوقت بھارت اپنی فوج اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے چار گنابڑاملک تھا مگر دوسری جانب پاکستانی قوم نے اپنی آزادی کی ہر قیمت پر تحفظ کی قسم کھارکھی تھی ۔حملے کے روز علیٰ الصبح لوگوں کے جھمگٹے دکانوں ،ہوٹلوں اورگھروں کے سامنے صدر پاکستان کی تقریر سننے کے لیے جمع ہو گئے۔اتنے غورسے اس قوم نے کبھی کسی رہنماکی تقریر نہیں سنی ہو گی۔

ایوب خان کی آواز گونجی”دشمن نہیں جانتا اس نے کس قوم کو للکاراہے ،پاکستان کے دس کروڑ عوام کے دلوں کی دھڑکن میں لاالہ الااللہ محمدالرسول اللہ کی صدا موجزن ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اسوقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں ہو جاتیں‘‘۔ پاک سر زمین کا کونہ کونہ نعرہء تکبیرسے گونج اُٹھا۔صدر کی تقریر ختم ہو تے ہی زندہ دلانِ لاہور ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر محاذِجنگ کیطرف دوڑ پڑے۔جنھیں فوجی جوانو ں نے بڑی مشکل سے واپس بھیجا۔

جناب الطاف حسن قریشی نے ان تمام حا لات وواقعات کااحاطہ بڑے موثر انداز میں کیا ہے۔

چند گھنٹوں میں پوری قوم متّحد ہو گئی،ہر قسم کے اختلافات ختم کر دیے گئے،مسلح افواج مادرِوطن کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں، اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ اسطرح ڈٹ کر کھڑی ہو گئی کہ پوری دنیا کہہ اٹھی کہ پاکستان کی طرف سے تین لاکھ فوج نہیں لڑ رہی دس کروڑ افراد جنگ میںحصہ لے رہے ہیں ۔شہروں اور دیہاتوں کے لوگ ہر روز فوجی جوانوں کے لیے دیگیں پکا کر اور ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لے کر سڑکو ں پر آجاتے اور جب فوجی قافلے گزرتے توعوام ان پر گل پاشی کرتے اوران کے حق میں نعرے لگاکر ان کے حوصلے بڑھاتے۔

گھرو ں میں خواتین فوجی جوانوں کے لیے تحائف کے پیکٹس تیار کرتیں جو محاذوں پر بھیجے جاتے ۔خون دینے والے نوجوانوں کی قطاریں لگی رہتیں۔ قربانی کے جذبے ابلنے لگے۔ یوں لگتاتھاپورے ملک پر ایک نور کی چادر تن گئی ہے ،دفتروںمیں بددیانتی اور رشوت ستانی ختم ہو گئی ، تاجروں اور دکانداروں نے ذخیرہ اندوذی اور ناجائزمنافع خوری بند کردی،ہر طرف جہاد اور قربانی کا جذبہ موجزن تھا۔برّی، بحری اورہوائی فوج شجاعت اور بہادری کی داستانیں رقم کر رہی تھی اور پوری قوم اپنے محافظوں اور سرفروشوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ ملک کے شاعرَ ادیب اور گلو کار بھی پیچھے نہ رہے ۔

قریشی صاحب نے صحیح لکھاہے کہ جنگِ ستمبر نے ایک نئی شاعر ی اور ایک نیاادب تخلیق کیا جس میں پاکستا نی قومیّت اور اس کی اسلامی شناخت کو مرکزی حیثیّت حاصل ہوئی،چوٹی کے ادیبوں ،شاعروں اور دانشوروں نے افواجِ پاکستان کی جانثاری اور عوام کی عظمت کے گیت لکھے ،نیز افسانو ں ڈراموںاوراثرآفریں مقا لات کے ذریعے وطن پر قربان ہونے کا جذبہ ایک نئے شعور کے ساتھ بیدار کیا۔

ریڈیو پاکستان کے لازوال کردار چوہدری نظام دین کی باتوں، نیوز کاسٹر شکیل احمد کی پر جوش خبروں اور ملکہ ء ترنم نور جہا ں ، شوکت علی، مہدی حسن اور دیگر گلو کاروں کے نغموں نے اپنے فوجی جوانوں اور افسروں کے حوصلے بڑھانے اور دشمنوں کے حوصلے پست کر نے میں بڑا اہم کردار اداکیا۔

ایک طرف جہا ںبری فوج نے کھیم کرن سمیت بھارت کے کئی علاقے فتح کیے وہاں ہماری ایئر فورس نے حَیرت انگیز معجزے دکھاکر پوری دنیاکو ششدر کردیا۔

سترہ روزکی جنگ کے بعد غیر ملکی صحافی یہ لکھنے پرمجبورہوگئے کہ پاکستان کا یہ دعو ٰی کہ اسنے ایک تہا ئی انڈین ایئرفورس تباہ کردی ہے درست ’’معلوم ہوتاہے۔ پاکستانی ایئر فورس فضا ئی جنگ میں مکمل طور پر فتح یاب ہوئی ہے‘‘۔

1965کے بعد پیدا ہونے والی نسل بھی پچاس سال کی ہو چکی ہے۔اسے ان روح پرور نظاروں،نورانی فضاء اور بیمثال یکجہتی کے ان واقعات سے روشناس کرانے کے لیے الطاف قریشی صاحب کی یہ کتاب ایک مفید دستاویزاور وقت کی اہم ضرورت کی حیثیّت رکھتی ہے۔ا س پر محترم قریشی صاحب مبا رکباد کے مستحق ہیں ۔

الطاف حسن قریشی صاحب نے اپنے سے چار گنا بڑے ملک پر پاکستان کی اس عظیم اور تاریخی فتح کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے تین عوامل کا مرقع قراردیاہے ۔

ہماری افواج کا عظیم جذبہء جہاد،فوج او ر عوام کے مابین اعتماد کے گہرے رشتے اور قومی یک جہتی کابے مثال مظاہرہ۔

وطن عزیزپھر سازشوں میں گھِراہوا ہے،اور ہمسایہ ملک میں مسلمانو ں کا بد ترین دشمن حکمران ہے۔گلشنِ وطن کے تحفظ کے لیے ان تینوں عوامل کا ہو نا لازم ہے ،افواج کا جذبہ جہاد واپس لاناہوگا،افواج اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بناناہوگا، یہ رشتہ تب ٹو ٹتا ہے جب فوج کے کچھ عناصر سیاست میں دخل اندازی شروع کر تے ہیں ۔ایسے عناصر کو کسی ایسے کام کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو فوج  کو متنازعہ بنا دے اور ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو۔

سینیٹ کی سربراہی

ملک کے سب سے بڑے مدبّر،زیرک ،تجربہ کار اور باکردار سیاستدان راجہ ظفرالحق کو ہراکر سینیٹ نے خود اپنے آپ کو بے توقیر کیاہے،بلوچستان  کے سینئر سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ آزاد گروپ نہیں عسکری گروپ جیتا ہے۔ سینیٹ کے زیادہ ارکان اوربڑی پارٹیوں کے لیڈر بھی آزاد نہیں کٹھ پتلیاں ہیں ۔

میرے بھائی!کسی باوردی افسر نے تو ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا،ووٹ تو سینٹرز نے دیے ہیں،جب تک سیاستدان کٹھ پتلیاں بننے کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے رہیںگے یہ تماشاجاری رہے گا۔جس روز کٹھ پتلی بننے کے لیے کوئی سیاستدان تیار نہ ہوا اُسی روز پارلیمنٹ اور آئین کی با لادستی قائم ہو جائے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔