کیاجہالت کا جن بوتل سے باہر آگیا ؟

علی احمد ڈھلوں  بدھ 14 مارچ 2018
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

برداشت اور عدم برداشت کے درمیان سب سے بڑا فرق تعلیم و تربیت کا ہے لیکن یہاں تعلیم ہی وہ شے ہے جس کے بارے میں تمام سیاستدان متفق ہیں کہ یہ ’’نہیں‘‘ ہونی چاہیے۔کیونکہ اس کے نہ ہونے میں ہی ان سیاستدانوں کی فلاح ہے، ورنہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک، اسلامی دنیا کی  واحد ایٹمی طاقت، دنیا میںدسویں بڑی فوج رکھنے والا ملک لیکن تعلیم کے حوالے سے 160 ویں نمبر پر اور صحت کے حوالے سے 131 ویں نمبر پر نہ ہوتا۔ آج ہمارے سیاستدانوں کو جوتے پڑنے اور بدتمیزی کے سامنے کی بڑی وجہ جہالت ہے اور یہ جہالت کسی اور نے پیدا نہیں کی بلکہ حکمرانوں کی مرہون منت ہے۔

جب نواز شریف اور خواجہ آصف پر جوتا پھینکنے اور سیاہی پھینکنے جیسے واقعات رونما ہوئے تو یقین مانیں دل بہت برا ہوا۔ دل اس لیے نہیں برا ہوا کہ ان سیاستدانوں کی عزت میں فرق آگیا ہے، بلکہ غمگین اس لیے ہوگیا کہ ان واقعات کو پوری دنیا نے اپنی ہیڈلائنز میں چلایا جس سے کسی اور کا نقصان ہوا یا نہیں لیکن ’’پاکستان‘‘ کا نقصان ضرور ہوا۔ اور حالیہ دنوں میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے وزیر داخلہ احسن اقبال، شیخ رشید، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، سابق پاکستانی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ بھی ایسا ہی  سلوک ہو چکا ہے۔ ان واقعات کے علاوہ ہر جلسے جلوس میں بدتمیزی، ہلڑبازیاں، خواتین کو زدو کوب کرنا عام روایت بن گئی ہے۔

کیا کبھی کسی  نے غور کیا کہ اس وقت ملک کے 2کروڑ بچے اسکول ہی نہیں جاتے اور جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو ان سے ملک کی بھلائی کی کون اُمید رکھے گا؟ یہ ملک کے لیے کیسے کارآمد بنیں گے؟ یہ بیروزگار پھریں گے، یہ چھوٹی موٹی چوریاں کریں گے اور جب چوریوںکی لت لگ جائے گی تو یہ بڑی وارداتیں کریں گے۔ یعنی آج  جو بیج ہم بو دیں گے وہی کل کاٹیں گے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کے گھر کے بچے کسی سے بدتمیزی کریں اور آپ خوش ہوں،اور پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ آپ سے بھی بدتمیزی کریں گے، یہی ہمارے سیاستدانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ میں جوتا پھنکوائی کی رسموں کی قطعاََ مذمت بھی نہیں کروں گا کیوں کہ ہمارے اعمال ہی ایسے ہیں، اگر عام آدمی عدم برداشت کا دامن چھوڑ رہا ہے تو حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ اُن سے اور  پارلیمنٹ سے کہیں نہ کہیں تو کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے کہ عوام ان سے نفرت کرنے لگے ہیں اور اس کا فائدہ مذہبی جماعتیں اُٹھا رہی ہیں۔

موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو 900 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود تھا اور آج یہ تعداد بڑھ کر 1400 افراد فی ڈاکٹر ہو چکی ہے؟ 2013ء میں اکنامک سروے کے مطابق 1000نوزائیدہ بچوں میں 66 بچے اپنی پیدائش کے فورًا بعد مر جاتے تھے۔آج یہ شرح 100تک پہنچ چکی ہے۔ اور حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے جب یہ خبر آتی ہے کہ ’’شہباز شریف کا رائے ونڈ اسپتال کا اچانک دورہ، ناقص انتظامات پر اظہار برہمی‘‘۔ آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ’’اچانک دورہ‘‘ کیا ہوتا ہے اور یہ پڑتا کیوں ہے؟ یہ مرض قابل علاج بھی ہے یا نہیں اور یہ ’’اچانک دورہ‘‘ کسی مہذب ملک کے حکمرانوں کو کیوں نہیں پڑتا اور وہ بغیر ان’’اچانک دوروں‘‘ کے نارمل زندگیاں کیسے بسر کرتے ہیں اور یہ سب کچھ ہم جیسی قوموں کا مقدر ہی کیوں ہے؟ اس سے بھی بڑھ کر مضحکہ خیز چیز ہے یہ ’’اظہار برہمی‘‘ ۔ کمال  ہے کہ’’اچانک دورہ‘‘ اور’’اظہار برہمی‘‘ اس قدر لازم و ملزوم کیوں ہے؟

اداروں میں میرٹ کی موت ، ذاتی پسند ناپسند، ذاتی ملازم، ذاتی وفاداریوں کو پروموٹ کیا گیا اور سسٹم کی جگہ ’’جو مزاج یار میں آئے‘‘ کا رویہ، ریاست جائے بھاڑ میں۔ یہی وہ ذہنیت تھی جس نے صوابدیدی اختیارات کو باقاعدہ گالی میں تبدیل کر دینے کے ساتھ ساتھ اس ملک میں قدم قدم پر رولز ریلیکس کرنے کی جاں لیوا بیماری کو جنم دے کر پورا معاشرہ اس جہنم میں دھکیل دیا۔قوم کو جہالت کی نہج پر لا کھڑا کر دیا پھر پوچھتے ہیں کہ جوتے کیوں پڑ رہے ہیں، ارے بھائی جوتے نہیں پڑیں گے تو اور کیا ہوگا؟ جہالت کا جن جب بوتل سے نکل ہی آیا ہے تو اسے اندر دھکیلنے میں بھی خاص حکمت عملی کی ضرورت رہے گی جو ان حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ دعا یہی ہے کہ چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات کے نتائج بھی ان سیاستدانوں کے لیے جوتے بن کر برسیںعبرت کی مثال بنیں جنہوں نے عوام کو ادھ موا کر رکھا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔