برداشت چاہیے

آصف زیدی  بدھ 14 مارچ 2018

بڑوں سے ایک کہانی سنی تھی کہ ایک شخص چوریاں، ڈکیتیاں اور دیگر جرائم کرتے کرتے بڑا ہوا، بدنام زمانہ لوگوں اورعادی مجرموں میں اس کا نام لیا جاتا تھا۔ایک بار جب وہ پکڑا گیا تو عدالت نے اُسے کئی سال قیدکی سزا سنا دی۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس نے حکام سے درخواست کی کہ مجھے میری ماں سے ملایا جائے ۔ جیل انتظامیہ نے اُس مجرم کی درخواست قبول کرلی اور اس کی والدہ کو جیل لایا گیا۔ ماں اپنے بیٹے کو جیل میں دیکھ بہت دل گرفتہ تھی۔

مجرم بیٹے نے ماں سے کہا کہ میرے قریب آؤ، میں آپکے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ماں بیٹے بالکل قریب آئی، بیٹے نے ماں کے کان میں کچھ کہا اور پھر زور سے اپنی ماں کے کان پر کاٹ لیا جس سے ماں بلبلا اٹھی۔ جیل حکام نے اُس چور کر الگ کیا، دو تین تھپڑ مارے اور پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس مجرم نے جواب دیا کہ میں آج جہاں ہوں وہ میری ماں کی وجہ سے ہی ہے کیونکہ اگر میری ماں بچپن میں میری پہلی چوری پر مجھے مارتی، ڈانٹتی یا سزا دیتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

ہمارے قومی سیاست میں رُونما ہونیوالے حالات و واقعات بھی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جن برائیوں اور غلطیوں پر نادم ہونے کے بجائے کسی نے فخر سمجھا، کسی نے معمولی جانا، آج وہ عفریت بن کر سامنے آگئی ہیں۔ حکمرانوں کی غلطیاں، عوامی مسائل کو نظر اندازکرنا، مخالفین کے ساتھ ہونیوالے واقعات کو معمولی سمجھنا اور صرف اپنے آپ پر توجہ مرکوز کرنے، حاکموں کا خود کو بہتر سے بہترین سمجھنا اور مخالفین کی ہر بات کو ملک دشمنی سمجھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج کم از کم ہمارے ملک میں سیاست کا لفظ مثبت انداز میں نہیں لیا جاتا۔معاشرے میں جو چیزیں بہت تیزی سے رائج ہو رہی ہیں، جن باتوں کو لوگ رغبت سے اپنا رہے ہیں، اُنہی کا عکس ہمیں سیاسی ایوانوں میں اور سیاستدانوں کی باتوں میں نظر آرہا ہے۔

ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بیماری عدم برداشت ہے جسکی وجہ سے دیگر مسائل اور الجھنیں بھی پیدا ہورہی ہیں۔ جب سے ہم لوگوں نے اپنی بات اور اپنے افعال کو بالکل صحیح اور دوسروں کی باتوں اور کاموں کو غلط سمجھنا شروع کیا ہے، ہمارے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ یہ آج کی بات نہیں برسوں سے سیاسی رہنما ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں کرتے نظر آئے ہیں۔ کہیں سیاسی داؤ پیچ آزماکر، وفاداریاں خرید کر مخالفین کو زیرکرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اورکی جاتی رہی ہیں تو کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیاسی رہنما جلسہ عام میں موجود افراد کے زعم میں اپنے مخالفین کے لیے ایسی زبان استعمال کر لیتے ہیں جس میں اخلاقیات کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔

جب سیاسی قائدین ایسی زبان استعمال کرتے ہیں تو حامیوں کا جوش و جذبہ منفی انداز میں بڑھتا ہے اور وہ اپنے مخالفین کے خلاف کچھ بھی کرنے کے لیے پُر جوش ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب اُنکے مخالفین ایسی تقاریر اور بلند وبانگ دعوؤں کو اپنے لیے چیلنج سمجھتے ہیں اور وہ بھی ایسا ہی کچھ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہم دیکھتے آرہے ہیں۔ آئیے ایسے ہی چندواقعات یاد کرتے ہیں۔

اپریل 2008ء میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو وہاں پیپلزپارٹی کے حامیوں کی جانب سے اُن کو جوتا مارا گیا۔ آصف زرداری بھی 7اگست 2010ء کو لندن میں جوتا کلب کے رکن بنے تھے، جب ایک شخص نے ان کے خطاب کے دوران 2 جوتے ان کی جانب پھینکے تاہم آصف زرداری محفوظ رہے تھے۔

قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف پر 2 بار جوتے سے حملہ کیا گیا۔ 6 فروری 2011ء کو لندن میں دوران خطاب ایک شخص نے پرویز مشرف پر جوتا اچھالا جب کہ 29 مارچ 2013ء کو سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے وقت بھی ایک شخص نے سابق صدر کو جوتا مارنے کی کوشش کی تھی۔

رواں سال فروری کی 24 تاریخ کو نارووال میں ن لیگی رہنما اور وزیر داخلہ احسن اقبال پر خطاب کرتے ہوئے جوتے سے حملہ کیا گیا۔ 10مارچ کو وزیر خارجہ خواجہ آصف اپنے آبائی علاقے سیالکوٹ میں خطاب کررہے تھے کہ اُن پر کسی نے سیاہی پھینک دی۔11مارچ بروز اتوار سابق وزیر اعظم نوازشریف پر جامعہ نعیمیہ لاہور میں اُس وقت جوتے سے حملہ کیا گیا جب وہ خطاب کرنے کے لیے ڈائس کے قریب پہنچے ہی تھے۔ جوتا نواز شریف کے کندھے پر لگا۔ اسی روز فیصل آباد میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خطاب کے وقت کارکنوں نے اُس شخص کو بروقت پکڑلیا جو اطلاعات کے مطابق عمران خان پر جوتا پھینکنے والا تھا۔13 مارچ کو عمران خان کو ایک بار جوتا مارنے کی کوشش کی گئی ، گجرات میں جلسے سے خطاب کے دوران مارا گیا جوتا اسٹیج پر عمران کے ساتھ کھڑے علیم خان کو لگا۔

پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں سیاسی رہنما مخالفین کی جانب سے جوتوں کے حملے کی زد میں آتے رہے ہیں۔ کسی کو جوتا لگا اور کوئی بچ گیا لیکن میڈیا نے ہر واقعے کو بھرپور کوریج دی۔

ہمارے ملک میں ایسے واقعات شرمناک بھی ہیں اور افسوسناک بھی، المیہ ہے کہ ’’جمہوریت، جمہوریت‘‘ کا وِرد کرنیوالی سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو نظم وضبط اور صبر وتحمل سے کام لینے کا درس دے رہی ہیں نہ خود لے رہی ہیں۔

جب سیاسی رہنما مخالفین کو الٹا لٹکانے، گلے میں پھندا لگاکر سڑکوں پر گھسیٹنے، نام و نشان مٹانے کی باتیں کرینگے تو لازمی طور پر اُنکی ایسی باتوں کا اثر کارکنان اور ہمدرد بھی لیں گے اور پھرنتیجے میں ایسے ہی واقعات سامنے آئینگے جن پر صرف افسوس کیا جاسکتا ہے، بحیثیت قوم ندامت محسوس کی جاسکتی ہے اور عالمی سطح پر اپنے ملک کا امیج خراب ہوتا دیکھاجاسکتا ہے۔

ایسے واقعات کے بہت سے عوامل ہیں، کہیں سیاسی و نظریاتی مخالفین ایسے کام کرتے ہیں تو کہیں حکومتی پالیسیوں سے تنگ آئے ہوئے لوگ صبر کا دامن چھوڑکر ایسی غلط کارروائیوں کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن صبر و برداشت سے کام لیا جانا بہت ضروری ہے۔

سیانے کہہ گئے ہیں کہ ’’اگرکوئی تمہارے ساتھ برائی کرے و تو تم اس کے ساتھ برائی نہ کرو ورنہ تم میں اور اس میں کیا فرق رہ جائے گا‘‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’جس نے برائی کی وہ برا ہے لیکن آپ جواب میں اس کے ساتھ اچھائی کرو کیونکہ آپ اچھے ہو۔‘‘

کسی مخالف پر جوتے سے حملہ یا سیاہی پھینکنے کے واقعات کا اگر روز اول سے تدارک کیا جاتا تو حالات یہاں تک نہیں پہنچتے جہاں پہنچ چکے ہیں۔ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید بالکل بجا اور جائز ہے لیکن کوشش کرنی چاہیے کہ اختلاف رائے، تنقید اور دوسرے کی بات کو نہ ماننے کے لیے بھی مہذبانہ طریقہ اختیار کیا جائے۔ دھونس، دھمکی، طاقت کے زعم، حامیوں کے مجمع میں الٹے سیدھے نعرے خبر تو بنا سکتے ہیں لیکن سلجھا ہُوا معاشرہ ان چیزوں سے نہیں بنتا۔

یہ بھی ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاسی جماعتیں جو سبق اپنے بیانات میں عوام الناس کو دیتی ہیں، سیاسی قائدین جو اقوال زریں اپنے خطابات میں ارشاد فرماتے ہیں، اُنکی خود اُن جماعتوں اور اُنکے کارکنوں کو بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

تہذیب یافتہ معاشروں میں تنقید برائے اصلاح و تعمیر ہوتی ہے، کسی کو نیچا دکھانے کے لیے تنقید کرنا یا کسی کے ساتھ ناخواشگوار واقعہ پیش آنے پر بغلیں بجانے کا انجام بہت بھیانک نکلے گا، سیاسی رہنماؤں کو چاہیے کہ ابھی بھی وقت نہیں نکلا، وہ اپنی پالیسیوں کو بھی عوام دوست بنائیں اور اپنے کارکنوں کی بھی ایسی تربیت کریں کہ معاملات خانہ جنگی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پھرکوئی محفوظ نہیں رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔