سینیٹ انتخابات، بلوچستان کے نام

ایڈیٹوریل  بدھ 14 مارچ 2018
بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے سے وفاق مضبوط ہو گا۔ فوٹو: فائل

بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے سے وفاق مضبوط ہو گا۔ فوٹو: فائل

اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی57 اور سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لے کر بالترتیب چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے جب کہ حکمران مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار راجہ ظفرالحق 46 اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار عثمان کاکڑ 44 ووٹ حاصل کر سکے۔ سینیٹ کا اجلاس گزشتہ روز پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں سینیٹ کے 52نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ ارکان نے صادق سنجرانی سے گلے مل کر انھیں مبارکباد دی۔

اس امر سے یقیناً کسی جمہوریت پسند کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ ملکی سیاسی صورتحال کے غیر معمولی تناظر میں سینیٹ کے انتخابات کا ہوجانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا جب کہ اس معجزہ کی بنیاد نہ صرف جمہوریت سے پیوستہ رہنے کی امنگ بنی ہے بلکہ سیاسی جماعتوں نے جمہوری اختلافات ، محاذ آرائی ، الزام تراشی اور افواہوں کے شور میں سینیٹ انتخابات کے انعقاد کوکامیاب بنایا ، الیکشن کمیشن نے جس ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا اسے سیاسی قیادت نے اپنا جمہوری ایجنڈا سمجھتے ہوئے رائے شماری میں حصہ لیا اور وفاق کو مضبوط ، وفاقی اکائیوں کی فلاح وبہبود اور قومی یکجہتی کے کاز کو جمہوریت سے مشروط رکھتے ہوئے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب عمل میں لاکر جمہوری عمل کے تسلسل کی ضمانت دی جس کے بارے میں کئی حلقوں سے اس خدشے کا اظہار ہوتا رہا کہ سرے سے سینیٹ کیے الیکشن ہونگے اور نہ ہی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں قائم رہیں گی۔

بے یقینی کی اس فضا میں سینیٹ کے تمام انتخابی مراحل کا پر امن طریقہ سے پایہ تکمیل تک پہنچنا نیک شگون بھی ہے اور بلاشبہ جمہوری استقامت کی جانب صائب قدم بھی۔ مگر سیاسی ارتعاش اور انتخابی دھمک سینیٹرز کے انتخاب اور نئے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں پوری شدت کے ساتھ سنی گئی، ایک جانب صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کی کامیابی پر ملک بھر میں جشن منایا گیا، مٹھائیاں بانٹی گئیں، بھنگڑے ڈالے گئے ، سیاسی اسٹیک ہولڈرز نے کامیاب چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کو مبارکباد دی لیکن ساتھ ہی سینئر سیاست دانوں اور سینیٹ کی انتخابی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات ظاہر کیے اور بعض نے اسے جمہوریت کے لیے کالا دن قراردیا، اگر ملکی سیاست اور اس کے ماضی کے انتخابات کا تجزیہ کیا جائے تو ماسوائے 70 کے الیکشن کے انتخابی نتائج کو کشادہ نظری اور جمہوری رواداری کے ساتھ کبھی تسیلم نہیں کیا گیا تاہم وقت کے پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے، ملک اس وقت داخلی وخارجی چیلنجوں سے نمٹ رہا ہے۔

سینیٹ انتخابات جمہوری عمل کی خود احتسابی کا وقفہ ہے جس میں قوم کو سیاست دان ہی اس بات کا یقین دلا سکتے ہیں کہ بلوچستان کو سینیٹ انتخابات کے نتیجے میں کس طرح محرومیوں سے نکالا جاسکتا ہے،کیا جناب صادق سنجرانی کے ہاتھ ان انتخابات کے وسیلہ سے کوئی الہ دین کا چراغ دے دیا گیا کہ وہ اسے رگڑتے ہی بلوچستان کی سیاسی ، تزویراتی، سماجی اور معاشی صورتحال کی کایا پلٹ دیں گے، ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں۔ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا منصب سنبھالنا اہم ذمے داری کو قبول کرنا ہے، صوبہ بلوچستان کو آئینی اور قانونی طریقوں سے ریاستی امور اور قانون سازی کے وسیع تر عمل میں شمولیت کا یہ پہلا قدم ہے، بلوچستان کے عوام کے لیے چیئرمین کا چناؤ ایک بڑا اعزاز ہے، بات صرف نمایندگی کی نہیں ہے ایک پیراڈائم شفٹ کی ہے، اور یہ کام اکیلے سنجرانی نہیں ، سارے سینیٹرز مل کر سرانجام دیں گے تب بلوچستان کی سیاہ رات ڈھل جائے گی اور صوبے کے عوام کو جانفزا تبدیلی کا احساس ہوگا لیکن اس عمل کو بھی وقت درکار ہوگا۔

ابھی تو بلوچستان کی مثبت نمایندگی وفاقیت کے نام ایک الفت و یگانگت سے مشروط محض پیغام ہے، بلوچستان ایک سیاسی حل کا منتظر ہے ،جہاں جزوی شورش ، غربت ،کرپشن اور محرومی کا دریا بہہ رہا ہے، امن قائم ہوا ہے مگر دائمی امن اور دہشتگردی ،انتہا پسندی کے خلاف ابھی جنگ جاری ہے، بھارت چپ نہیں بیٹھا، عالمی طاقتیں بلوچستان کے سی پیک سے غافل نہیں، کئی عالمی گدھ اسے نوچنے کو تیار بیٹھے ہیں،کوشش کی جائے کہ سینیٹ کے انتخابی عمل سے متعلق تحفظات اور خدشات کا جلد ازالہ ہو ، میرحاصل بزنجو اور دیگر سنجیدہ اور زیرک سیاست دانوں نے جس دکھ اور کرب کا اظہار کیا ہے اسے ان کی ’’بعد از شکست واویلا ‘‘سے مشروط نہ کیا جائے بلکہ آزادانہ تحقیق کی جائے کہ ایسے اندوہ ناک تبصروں اور اندر خانے بازیگری اور لین دین کی افسوس ناک شکایتوں نے کیوں جنم لیا۔

سینیٹ کی تقدیس اس امر کی متقاضی ہے کہ شفافیت یوں سامنے لائی جائے کہ دنیا بھر کے مبصرین معترف ہوں اور ملکی سیاسی مین اسٹریم کی تسلی ہوجائے۔ انتخابات اور ان کے نتائج کے مضمرات اور سنگین فال آؤٹ پر گہرے دکھ کا اظہار چشم کشا ہے۔ من حیث القوم  یہ حقیقت تسلیم کرائی جائے کہ پارلیمنٹ کو شکست نہیں ہوئی ، سینیٹ نے بریک تھرو کیا ہے۔ اسے پوائنٹ اسکورنگ کا رنگ بھی نہیں دینا چاہیے۔ جن سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں نے میڈیا کے توسط سے نتائج اور میکنزم پر شکوک کا اظہار کیا ہے اس پر غور اور سنجیدگی سے ان الزامات کی چھان بین ہونی چاہیے۔ نئے منتخب سینیٹرز سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں ملکی سیاست کو پیداشدہ اعصاب شکن بھنور سے نکالنے کی احسن تدابیر اختیار کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا ہونا لازم ہے اور اس حقیقت کا بھی ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مرتبہ سینیٹ الیکشنز بلوچستان کے نام معنون کیے گئے، یعنی جمہوری عمل، ایوان بالا کی تقدیس اور حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے بلوچستان کی نمایندگی کو جمہوری اسپرٹ کے ساتھ بنیادی سیاسی ایجنڈہ کی حیثیت دی گئی۔

نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایوان میں اپنے خطاب میں اپنی کامیابی پر ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اس ذمے داری کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ خوش اسلوبی سے اپنا فرض ادا کر سکیں۔ بعد ازاں ایوان بالا کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صادق سنجرانی نے کہا کہ ایوان بالا میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، کسی کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دونگا۔ صوبہ بلوچستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرونگا۔ میرے لیے سب برابر ہیں، ایوان میں سب سینئر سیاستدان ہیں سب کاروائی سمجھتے ہیں، ایوان کی کارروائی اچھے انداز میں چلائیں گے اور اس دوران کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے سے وفاق مضبوط ہو گا۔

بادی النظر میںچیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات حکمراں جماعت اور خصوصاً ن لیگ کے لیے برا اپ سیٹ ہیں، مگر راجہ ظفرالحق اور دیگر سیاست دانوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اس کی تعریف کرنی چاہیے، فتح وشکست کے اس کھیل کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ جمہوریت ، اداروں اور وطن عزیز کے مستقبل سے مایوسی کا نیا پنڈورا بکس کھولا جائے۔ سیاست دانوں کے پیش نظر یہ کھلی حقیقت رہنی چاہیے کہ بلوچستان کی نمایندگی کے جس عہد کا اعلان کیا گیا ہے سینیٹ انتخابات ان کے ایفائے عہد کا قومی حوالہ بن جائیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔