حکام کی مہنگے داموں دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت

ویب ڈیسک  بدھ 14 مارچ 2018
ڈیری فارمرز اور انتظامیہ  کے درمیان  مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے . فوٹو: فائل

ڈیری فارمرز اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے . فوٹو: فائل

 کراچی: شہر قائد میں ڈیری فارمرز اور انتظامیہ  کے درمیان  مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے، حکام نے مہنگے داموں دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون کی ہدایت کردی۔

کراچی میں ڈیری فارمرز اور انتظامیہ  کے درمیان 6 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے جس میں سرکاری ٹیم نے  70 سے 76 اور ڈیری فارمرز نے 95 سے 105 روپے کا تخمینہ پیش کیا جس کے بعد کمشنر کراچی نے ڈیری فارمرز کی قیمتوں کو پھر مسترد کرتے ہوئے شہر میں مہنگے داموں دودھ کی فروخت پرسخت برہمی کا اظہار کیا اورمہنگے داموں دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کردی۔

شہر قائد میں دودھ کی قیمت کے مسئلے پر دکانداروں نے ہڑتال کردی جس کے نتیجے میں شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، کراچی میں خوردہ دودھ فروش دکانداروں اور ہول سیلرز کے درمیان قیمت کے تنازع کے بعد ریٹیلرز نے ہڑتال کرتے ہوئے دکانیں بند کردیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بھینسوں کو دودھ کی پیداوار بڑھانے والے مضر صحت انجکشن پر پابندی کے بعد کراچی میں ڈیری فارمرز نے پیداوار کم ہونے کا جواز بناکر دودھ کی قیمت 100 روپے فی لیٹر تک مہنگی کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  دودھ 20 روپے لیٹر مہنگا

سندھ ہائی کورٹ نے دودھ کی قیمت میں اضافے پر پابندی عائد کرتے ہوئے فی لیٹر 85 روپے میں فروخت کرنے کا حکم دیا، تاہم ہول سیلرز نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریٹیل دکانداروں کیلئے دودھ کی قیمت 95 روپے فی لیٹر کردی ہے۔ خوردہ دودھ فروش دکانداروں نے ہول سیلرز سے 95 روپے فی لیٹر قیمت پر دودھ خریدنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگا دودھ خرید کر 85 روپے کی سرکاری قیمت پر نہیں بیچ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ کا کراچی میں دودھ 85 روپے کلو فروخت کرنے کا حکم

شہر قائد میں دکانیں بند ہونے کے باعث دودھ کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ کہیں کہیں اکا دکا دکانیں کھلی ہیں جہاں دودھ انتہائی مہنگا 100 سے 105 روپے لیٹر فروخت کیا جار ہا ہے اور لوگوں کی طویل قطاریں لگی ہیں۔ دودھ نہ ملنے کی وجہ سے بالخصوص چھوٹے بچے شدید متاثر ہیں۔ اس پوری صورتحال میں شہری انتظامیہ غائب ہے اور من مانی کرنے والے دودھ فروشوں کو کنٹرول میں ناکام نظر آرہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔