اسٹیفن ہاکنگ ایک تھا سورج ۔۔۔ ڈوب گیا

سید بابر علی  جمعرات 15 مارچ 2018
اس مایۂ ناز انسان کو آئن انسٹائن کے بعد بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا تھا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اس مایۂ ناز انسان کو آئن انسٹائن کے بعد بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا تھا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اسٹیفن ہاکنگ کی موت کے ساتھ ہی دنیا اپنے عہد کے روشن ترین دماغ اور اس سے پھوٹتے اجالے سے محروم ہوگئی۔

انھیں آئن اسٹائن کے بعد گذشتہ صدی کا سب سے بڑا انسان مانا جاتا تھا۔ وہ عزم و ہمت کی ایک روشن مثال تھے۔ 1963 محض اکیس سال کی عمر میں وہ موٹر نیورون ڈیسیسز (بیماری جس میں اعصابی خلیے مر جاتے ہیں) کے سبب جسمانی طور پر مفلوج ہوگئے تھے، لیکن یہ معذوری کبھی بھی اُن کی راہ میں حائل نہ ہوسکی۔

اپنے ذہین دماغ کے ساتھ انہوں نے سائنس کے میدان میں محیر العقل کارنامے پیش کیے۔ اُنہیں آئن اسٹائن کے بعد گذشتہ صدی کا سب سے بڑا سائنس داں سمجھا جاتا تھا۔ اسٹیفن ہاکنگ 30سال تک کیمبرج یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر رہے، اس عہدے پر ماضی میں معروف سائنس داں سر آئزک نیوٹن فائز تھے۔ انہوں نے زیادہ تحقیق بلیک ہولز اور نظری علم کائنات (تھیو ریٹیکل کاسمو لوجی) کے میدان میں کی۔

اسٹیفن ہاکنگ نے آٹھ جنوری 1942کو انگلینڈ کے قصبے آکسفورڈ کے ایک علمی گھرانے میں جنم لیا۔ اُن کی والدہ ازوبیل ہاکنگ اوروالد فرانک ہاکنگ نے تمام تر مالی مشکلات کے باوجودآکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اسٹیفن کے والد اپنے بیٹے کو اچھی شہرت کے حامل ویسٹ منسٹر اسکول میں تعلیم دلوانے کے خواہش مند تھے، لیکن بدقسمتی سے اسٹیفن ناسازی طبع کی وجہ سے اسکالر شپ کے لیے ہونے والے امتحان میں شریک نہیں ہوسکے۔ اسکالر شپ کے بنا اس اسکول کی فیس برداشت کرنا ان کے والدین کے بس سے باہر تھا، لہذا اسٹیفن ہاکنگ نے سینٹ البانز اسکول میں ہی تعلم کا سلسلہ جاری رکھا۔

طبیعات اور کیمیا میں غیرمعمولی دل چسپی کے سبب اسکول میں اسٹیفن کو آئن اسٹائن کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1959میں محض سترہ سال کی عمر میں ہاکنگ نے آکسفورڈ کے یونیورسٹی کالج میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے جب گریجویشن کیا تو اُس وقت کائنات کی تخلیق کی تھیوریز، بگ بینگ اور اسٹیڈی اسٹیٹ طبیعات کے طالب علموں کا موضوع بحث ہوا کرتی تھی۔

اسٹیفن ہاکنگ کی ازدواجی زندگی زیادہ خوش گوار نہیں گزری، انہوں نے دو شادیاں کیں اور دونوں کا انجام طلاق کی صورت میں سامنے آیا۔ زمانۂ طالب علمی میں اُن کی ملاقات اپنی بہن کی دوست جین وائلڈ سے ہوئی۔ اکتوبر 1964میں دونوں کی منگنی ہوئی اور14 جولائی 1965کو وہ جین وائلڈ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ شادی کے دس سال بعد اسٹیفن اور جین کے تعلقات کشیدہ ہونے شروع ہوئے۔ وہ اَسّی کی دہائی میں اپنی تیمار داری کے لیے آنے والی ایک نرس ایلن میسن کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔ 1990میں وہ جین کو چھوڑ کر اپنے خاندانی گھر منتقل ہوگئے اور1995میں جین کو طلاق دینے کے بعد ایلن میسن سے شادی کرلی۔ تا ہم یہ شادی محض 11سال چل سکی اور اس کا انجام 2006میں طلاق پر منتج ہوا۔ ایلن میسن سے اسٹیفن کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ پہلی بیوی جین سے اُن کے دو بیٹے رابرٹ اور ٹموتھی اور ایک بیٹی لوسی ہیں۔

اسٹیفن مشہور برطانوی ریاضی داں، فلسفی اور ماہرطبیعات سر راجر پین روز کے تھیورم آف اسپیس ٹائم اور بلیک ہول سے متاثر تھے، اسی وجہ سے انہوں نے اسی موضوع کو منتخب کرکے 1965میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جس کی بنیاد پر انہیں Gonville and Caius College میں اسکالر شپ ملی۔ انہوں نے 1966 میں علم کائنات پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

1966میں انہوں نے پین روز کے ساتھ مل کر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں پہلی بار پیش کیے گئے سنگولیریٹی تھیورم پر مزید کام کا آغاز کیا۔ 1970میں دونوں ماہرین طبیعات، (اسٹیفن ہاکنگ اور راجرپین روز) نے اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ کائنات ’جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی‘ پر عمل کرتی ہے اور اسے روسی ماہرطبیعات الیگزینڈر فرائیڈمین کے طبعی کاسمولوجی کے کسی بھی ماڈل میں فٹ کیا جاسکتا ہے۔ اسی سال اسٹیفن نے بلیک ہول ڈائنامک کا دوسرا قانون پیش کیا۔

اسٹیفن ہاکنگ ابلاغ کے لیے انٹیل کارپوریشن کا تیار کردہ کمپیوٹر بیسڈ کمیونیکیشن سسٹم استعمال کرتے تھے۔ ایک ٹیبلیٹ کمپیوٹر اُن کی وہیل چیئر پر نصب تھا۔ اس ٹیبلیٹ میں ایک خصوصی پروگرام EZ Keys انسٹال کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام اسکرین پر سافٹ ویئر کی بورڈ ظاہر کرتا ہے اور ایک کرسر(کمپیوٹر ماؤس کا اسکرین پر نظر آنے والا تیر کا نشان) خود بہ خود اس کی بورڈ پر کالم اور قطار کی شکل میں حرکت کرتا ہے۔

اسٹیفن کسی حرف کو منتخب کرنے کے لیے اپنے گال کو حرکت دیتے تھے۔ گال کی حرکت کو شناخت کرنے کے لیے اُن کے چشمے کے ساتھ ایک انفراریڈ سوئچ لگایا گیا تھا۔ EZ Keys میں ورڈ پریڈکشن (ابتدائی حرف سے پورا لفظ ظاہر کرنا) تھا اور انہیں کچھ بھی کہنے کے لیے کسی بھی لفظ کے ابتدائی حروف لکھنے پڑتے تھے۔ اسی طرح اپنا جملہ مکمل کرنے کے بعد اسپیچ سینتھیسائزر (ایک کمپیوٹرائز سسٹم جو لکھے ہوئے جملوں کو انسانی آواز کی شکل میں ڈھالتا ہے) کی مدد سے ادائیگی کرتا تھا۔ اس اسپیچ سینتھیسائزر کی بدولت ہی ہزاروں لوگ اس عالی دماغ انسان کے لیکچرز سے مستفید ہوئے۔

ہاتھ پیر ہلانے سے معذور اور بولنے کے لیے کمپیوٹر ڈیوائس پر انحصار کرنے والے اسٹیفن ہاکنگ کی سوچ بہت آگے کی تھی۔ وہ وقت سے آگے دیکھنا چاہتے تھے، وہ ماضی میں جھانکنا چاہتے تھے۔ وہ ہمہ وقت مستقبل میں یا ماضی میں جانے کے طریقے ڈھونڈتے رہے۔ اس بابت اسٹیفن نے کہا تھا،’’کسی زمانے میں وقت کے سفر کو محض ایک خیال سمجھا جاتا تھا۔ میں نے اس بارے میں کبھی بات اس لیے نہیں کی کہ کہیں مجھے مخبوط الحواس نہ سمجھ لیا جائے۔ لیکن میں اب بھی ماضی میں سفر کرنا چاہتا ہوں، میں ماضی میں جاکر مارلن منرو، جارج گلیلیو سے ملاقات کرنے کا خواہش مند ہوں۔ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی سفر کرنا چاہتا ہوں، دیکھنا چاہتا ہوں کہ کائنات کا اختتام کب اور کیسے ہوگا۔‘‘

اسٹیفن ہاکنگ بلاشبہہ دنیا کے سب سے مشہور سائنس داں تھے۔ ان کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیریر بہت شان دار رہا ۔ جسمانی طور پر مفلوج ہونے کے باوجود انہوں نے آگے بڑھنے کی لگن جاری رکھی۔ اسٹیفن ہاکنگ نے ریاضیاتی طبیعات کی سرحدوں کو دریافت کیا۔ انہوں نے ورم ہول (سیاح سرنگ) کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا، اس کی بنیاد پر انہوں نے ’’ہاکنگ تاب کاری‘‘ کی پیش گوئی کی۔ اپنی سب سے زیادہ فروخت والی کتاب ’’وقت کی مختصر تاریخ‘‘ میں انہوں نے بنیادی طبیعات کی پیچیدہ دنیا کو آسان پیرائے میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔

یہ عالی دماغ سائنس داں اپنی ذات میں ایک کرشمہ تھا، جسے ہرعہد کے انسانوں کے ذہین ترین افراد کی فہرست میں جگہ دیتے ہوئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔