پی ایس ایل تھری فائنل؛ بورڈ کا محمد فیملی کو ٹکٹ دینے سے انکار

ذوالفقار بیگ / اسپورٹس رپورٹر  اتوار 18 مارچ 2018
حکام اہلخانہ کے ہمراہ دبئی میں سیرسپاٹے کرسکتے ہیں ہمارے لیے کچھ نہیں، صادق۔ فوٹو: فائل

حکام اہلخانہ کے ہمراہ دبئی میں سیرسپاٹے کرسکتے ہیں ہمارے لیے کچھ نہیں، صادق۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پی سی بی نے پی ایس ایل تھری کے فائنل کیلیے محمد فیملی کوٹکٹ دینے سے انکار کردیا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر صادق محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان سے زیادہ تودوسرے ممالک میں کرکٹرزکی عزت ہے، بورڈ ملازمین اہلخانہ کے ہمراہ دبئی میں سیرسپاٹے کر سکتے ہیں جبکہ ہمارے لیے ٹکٹ بھی نہیں ہیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں شیڈول پی ایس ایل کے فائنل میچ کے حوالے سے سندھ حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے مابین معاہدہ کے تحت سندھ حکومت نے نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی کوبین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے اور فائنل میچ کے دوران ملکی و غیر ملکی کرکٹرز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کیلیے پلان تشکیل دے دیا۔

دوسری جانب انٹر نیشنل کرکٹ سرکٹ میں محمد فیملی صادق محمد، مشتاق محمد، شعیب محمد اور حنیف محمد کے اہلخانہ نے فائنل میچ کے ٹکٹوں کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی اوربورڈ کے لاجسٹک ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا تو بورڈ حکام نے کہاکہ ٹکٹوں کی فروخت آن لائن ہورہی ہے، ملکی وغیرملکی کمپنی کوفروخت کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، بورڈ کی پالیسی کے تحت کسی فرد یا کرکٹرزکومفت ٹکٹ مہیا نہیں کیا جائیگا، کسی کو ٹکٹ چاہیے تو وہ بورڈ سے رابطہ کرنے کے بجائے آن لائن سسٹم کے ذریعے ٹکٹ خریدیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر صادق محمد نے ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساری زندگی ملک کا نام روشن کیا، پاکستان سے زیادہ توکرکٹرزکی عزت انگلینڈ اورسری لنکا میں ہوتی ہے، کیا پاکستان کرکٹ بورڈ پر سینئر کھلاڑیوں کا کوئی حق نہیں ہے، کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں، بورڈ میں بھاری تنخواہوں پر کام کرنے والے ملازمین اپنے اہلخانہ کے ہمراہ بورڈ کے خرچ پر دبئی سیرسپاٹے کیلیے جا سکتے ہیں اور ہم یہاں فائنل کی ٹکٹوں کیلیے دھکے کھائیں۔

صادق محمد نے کہا کہ اپنی زندگی پاکستان کرکٹ کیلیے مختص کردی لیکن اب ٹکٹ نہیں ملتے ہیں، پی سی بی ایک طرف ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے پلان تیار کررہا ہے اور دوسری جانب سابق کرکٹرز ٹکٹ کیلیے ترس رہے ہیں، اس حوالے سے بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ ٹکٹ آن لائن موجود ہیں، جو بھی ٹکٹ خریدنا چاہے خرید سکتا ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔