سی پیک سے آئی ٹی مارکیٹ کا حجم کئی گنا بڑھنے کی توقع

خبر ایجنسی  اتوار 18 مارچ 2018
عالمی کنیکٹیویٹی،قراقرم ہائی وے پرجی ایس ایم کوریج سے فائدہ ہوگا، ترجمان وزارت آئی ٹی۔ فوٹو: فائل

عالمی کنیکٹیویٹی،قراقرم ہائی وے پرجی ایس ایم کوریج سے فائدہ ہوگا، ترجمان وزارت آئی ٹی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے نتیجے میں پاکستان کی مقامی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کا حجم کئی گنا بڑھنے کی توقع ہے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کام کے ترجمان نے بتایا کہ سی پیک اسکیموں بشمول بین الاقوامی کنیکٹیویٹی آف وائس/ڈیٹا ٹریفک (ایس سی او) اور قراقرم ہائی وے کے ساتھ گلگت بلتستان میں گوادرکاشغر اقتصادی راہداری کے لیے مجوزہ جی ایس ایم کوریج کے لیے چین اور پاکستان کے مابین کراس بارڈر او ایف سی سسٹم کا قیام شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ سی پیک تجارتی راہداری ہے جو سڑکوں، بندرگاہوں،ڈیموں کی تعمیر اور شہروں اور سروس سے محروم علاقوں کے مابین رابطوں اورمعیشت کے فروغ کے لیے قائم کی جارہی ہے جس سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کو بھی بھرپور فائدہ ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری شاہراہ ایک پٹی ایک شاہراہ منصوبے کا کلیدی حصہ ہے جو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لے کر آیا ہے اور اس منصوبے سے مقامی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کی صنعت کو بھی فروغ ملے گا، پاکستان از خود موبائل اور فکسڈ فون پر مبنی مصنوعات کی بڑی مارکیٹ ہے جو اپنی ٹیکنالوجی کو جدید سے جدید بنا کر آئندہ کی پیشرفت کے لیے تیار ہے اور اس کا حجم71 فیصد ہے جس میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور آئی ٹی کی صنعت کے فروغ کے لیے پر کشش مراعات دے رہی ہے جن میں مختلف اقسام کے ٹیکسوں کی چھوٹ، فارن ایکس چینج اکاؤنٹس چلانے کی اجازت اور منافع کی واپسی جیسے اقدامات شامل ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔